امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا حضرت علی اکبر علیہ السلام اور حضرت بی بی لیلیٰ علیہا السلام کے لئے گریہ

حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا حضرت علی اکبر علیہ السلام اور حضرت بی بی لیلیٰ علیہا السلام کے لئے گریہ

لوگوں پر یہ لازم ہے کہ وہ اپنی استطاعت کے مطابق اہلبیت علیہم السلام کے مقامات و مراتب سے آگاہ ہوں اور حتیٰ المقدور ان بزرگ ہستیوں کی معرفت حاصل کریں۔ اسی وجہ سے اہلبیت علیہم السلام، جب لوگوں کی اس بارے میں کوتاہی دیکھتے تھے، تو ان کو آگاہ کرنے کے لئے مواقع فراہم کرتے تھے تاکہ لوگ ان کے ذریعے  خدا کا تقرب حاصل کر سکیں۔

کتاب “کشکول النور” میں حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام سے ایک واقعہ نقل کیا گیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: ایک دن حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے مسجد کوفہ میں لوگوں سے فرمایا: وہ شخص کھڑا ہو جائے جو ہم سے، ہماری اولاد سے اور ہمارے اہل بیت سے محبت رکھتا ہے۔

ایک بوڑھی عورت کےسوا تمام حاضرین کھڑے ہو گئے۔

حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے اس عورت سے فرمایا: تم کھڑی نہیں ہوئی !کیا تم ہم سے اور ہماری اولاد سے محبت نہیں رکھتی  ؟

اس عورت نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں، میں بھی آپ کو اور آپ کے اہلبیت کو دل و جان سے محبت کرتی ہوں، لیکن میرے بیٹے کو آپ کی محبت کی وجہ سے معاویہ بن ابی سفیان نے کچھ عرصہ سے قید کر رکھا ہے۔ اس کی جدائی کے غم نے میرے دل کو اس طرح جلا دیا ہے، اور اس کے رنج و غم نے مجھے اس حد تک بےقرار اور بےاختیار کر دیا ہے کہ میرا صبر جواب دے گیا ہے اور میری طاقت ختم ہو چکی ہے اور میرے اندر کھڑے ہونے کی بھی ہمت نہیں رہی، مجھے معاف فرما دیجئے!

حضرت نے فرمایا: اگر میں ابھی اسی وقت اسی مسجد میں تمہارے بیٹے کو تمہارے پاس پہنچا دوں تو تم کیا کرو گی؟

اس عورت نے عرض کیا: میں اپنی جان اور اپنے بیٹے کو آپ کے دو نورِ دیدہ، حسن و حسین علیہماالسلام پر قربان کرتی ہوں۔

پس حضرت نے اس قول کے مطابق کہ«السلام علی یدالله الباسطة وعین الله الناظرة» ، اپنے “یدِ الٰہی” کو حاضرین کے سامنے دراز فرمایا اور اس کے بیٹے کا ہاتھ اور بازو پکڑ کر اسے اس کی ماں کے پاس زمین پر لا کر رکھ دیا۔

جب اس ضعیفہ نے اپنے بیٹے کو اپنے سامنے دیکھا تو اس نے اپنی باہنیں اس کے گلے میں ڈال دیں ۔ جب وہ اپنے جوان بیٹے کو گلے لگانے اور اس کے چہرے کو بوسہ دینے لگی تو اس کے بیٹے نے کہا:اے میری ماں! میرے گلے سے اپنے ہاتھ ہٹا لو، کیونکہ معاویہ کے حکم سے قید کے دوران میرے گلے میں زنجیر ڈالی گئی تھی، اور اس زنجیر نے میرے گلے کو زخمی کر دیا ہے۔ آپ کے ہاتھ رکھنے سے  اس زخم میں اور درد ہوتا ہے اور مجھے تکلیف ہوتی ہے۔

اس عورت نے شدت سے رونا شروع کر دیا، اور حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام بھی گریہ کرنے لگے۔

حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کیوں روئے؟

آپ نے فرمایا: مجھے کربلا کے دن علی اکبر علیہ السلام کی والدہ لیلیٰ کی حالت یاد آگئی۔[1]

اس واقعے سے ہم چند ایسے نکات سمجھتے ہیں جنہیں اہلبیت علیہم السلام کی معرفت کے باب میں جاننا ضروری ہیں۔

ان میں سے ایک نکتہ یہ ہے کہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور دیگر معصومین علیہم السلام کسی ایک جگہ کے پابند نہیں ہیں، بلکہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں ، وہ وہاں سے دیگر مقامات کو دیکھ سکتے ہیں، کیونکہ وہ ’’عین الله الناظرة‘‘ ہیں۔ اسی طرح وہ دور سے بھی جو چیز چاہیں اپنے پاس حاضر کر سکتے ہیں، کیونکہ وہ’’ید الله الباسطة‘‘ ہیں۔

اس روایت سے جو ایک اور نکتہ سمجھ میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان بزرگ ہستیوں کو آئندہ کے واقعات کا علم تھا، اور وہ واقعۂ کربلا کی دردناک حقیقت سے بھی آگاہ تھے، نیز حضرت علی اکبر علیہ السلام کے لئے حضرت لیلیٰ علیہا السلام کے وجود اور ان کے دل کےاس سوز و گداز کی خبر بھی رکھتے تھے۔

اسی طرح “عین الله الناظرة” اور “یدالله الباسطة” ہونے کے بارے میں بھی مزید نکات موجود ہیں جو معصومین علیہم السلام کے مقامِ ولایت کی عظیم قدرت اور وسعت کو ثابت کرتے ہیں۔

 


[1] ۔ داستان هایی از انوار آسمانی، یوسفی ، کشکول النور: ۱ /۲۱۳سے مأخوذ.

بازدید : 25