امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جنگ تبوک میں حضرت علی علیه السلام سے مدد مانگنا

رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کا جنگ تبوک میں حضرت  علی علیه السلام سے مدد مانگنا

ظہور کا زمانہ در حقیقت قدرت کے اظہار کا زمانہ ہے، اور یہی وہ حتمی طاقت ہے جو لوگوں کی بصیرت کو بڑھانے اور ان کے لئے حق کو سمجھنے اور قبول کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔

سید ہاشم بحرانی علیہ الرحمہ نے اپنی کتاب «مدینة المعاجز» میں کتاب «درر المطالب»[1] سے نقل کیا ہے:

رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  جب غزوۂ تبوک کے لئے مدینہ سے روانہ ہوئے تو حضرت علی بن ابی طالب علیہما السلام کو اپنے اہل و عیال میں اپنا خلیفہ اور جانشین مقرر فرمایا اور انہیں مدینہ میں رہنے کا حکم دیا۔

اس پر منافقین نے غلط باتیں پھیلانا شروع کر دیں اور فتنہ انگیزی کرتے ہوئے یہ کہنا شروع کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے علی علیہ السلام کو اپنے ساتھ نہیں لیا، اس کا مطلب ہے کہ آپ نے انہیں کم تر سمجھا ہے۔

جب یہ منافقین کی افواہیں حضرت علی علیہ السلام تک پہنچیں تو آپ نے اپنا اسلحہ اٹھایا اور رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے پیچھے روانہ ہو گئے، یہاں تک کہ آپ راستے کے ایک پڑاؤ پر آنحضرت تک پہنچ گئے ۔آپ نے عرض کیا:

یا  رسول اللہ! منافقین یہ سمجھ رہے ہیں کہ آپ کا مجھے مدینہ میں چھوڑ کر اپنے ساتھ نہ لے جانا میری تحقیر کی وجہ سے ہے، کیا یہ بات درست ہے؟

رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا: انہوں نے جھوٹ بولا ہے، ایسا ہرگز نہیں ہے۔ بلکہ میں نے تمہیں اپنے بعد ان امور کے لئے اپنا نائب مقرر کیا ہے جنہیں میں نے چھوڑا ہے۔ تم واپس جاؤ اور میرے اور اپنے اہلبیت کے درمیان میری جانشینی کرو۔

ألا ترضی أن تکون منّی بمنزلة هارون من موسی إلّا أنّه لا نبی بعدی ؟

کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم میرے نزدیک ایسے ہو جیسے ہاروں موسیٰ  کے نزدیک تھے،مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے؟

اس کے بعد حضرت علی علیہ السلام واپس مدینہ لوٹ آئے اور رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   اپنے سفر پر روانہ ہو گئے۔

اتفاق سے اس جنگ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کا لشکر شکست سے دوچار ہوا اور سپاہی منتشر ہو کر فرار ہونے لگے۔ اسی وقت جبرائیل رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   پر نازل ہوئے اور عرض کیا:

خدانے آپ کو سلام پیش کیا ہے اور فتح و نصرت کی خوشخبری دی ہے، اور آپ کو اختیار دیا ہے کہ اگر چاہیں تو فرشتوں کو آپ کی مدد کے لئے بھیج دیا جائے، اور اگر چاہیں تو علی علیہ السلام کو بلائیں تاکہ وہ آ جائیں۔

رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے حضرت علی علیہ السلام کے آنے کو اختیار فرمایا۔

جبرائیل نے عرض کیا: اپنا رخ مدینہ کی طرف کریں اور آواز دیں:

یا ابا الغیث ، أدرکنی یا علی ، أدرکنی یا علی.

یا علی! میری مدد کو پہنچو اور میری فریاد رسی کرو!

سلمان کہتے ہیں: میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جنہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے حکم سے مدینہ میں ٹھہرایا گیا تھا۔ ایک دن میں شہر سے باہر ایک باغ میں گیا تو میری ملاقات حضرت علی علیہ السلام سے ہوئی۔ آپ کھجور کے درخت پر چڑھ کر شاخیں توڑ رہے تھے، جبکہ میں نیچے کھڑا انہیں جمع کر رہا تھا۔

اچانک میں نے سنا کہ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: «لبّیک»! میں آ رہا ہوں، ابھی آ رہا ہوں۔

پھر آپ درخت سے نیچے اترے، اس حال میں کہ آپ کے چہرے پر غم تھا اور آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔

میں نے عرض کیا: یا اباالحسن! کیا ہوا؟ کیا بات پیش آئی ہے؟

آپ نے فرمایا: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کا لشکر شکست سے دوچار ہو گیا ہے اور اب وہ مجھے مدد کے لئے پکار رہے ہیں۔

پھر حضرت علی علیہ السلام حضرت فاطمہ علیہا السلام کے گھر تشریف لے گئے اور واپس آ کر مجھے فرمایا: تم میرے قدموں کے نشان پر قدم رکھ کر چلنا۔

سلمان کہتے ہیں: میں ان کے پیچھے چل پڑا۔ میں نے ابھی سترہ قدم ہی اٹھائے تھے کہ اچانک دو لشکر نظر آئے۔ امام علیہ السلام وہاں پہنچے تو ایک زور دار فریاد بلند کی، جس کی ہیبت سے دونوں لشکروں کے درمیان شگاف پڑ گیا اور وہ ایک دوسرے سے جدا ہو گئے۔

اسی وقت جبرائیل نازل ہوئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کو سلام عرض کیا، اور آنحضرت نے خوشی کے ساتھ ان کے سلام کا جواب دیا۔

پھر حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے دشمن لشکر کے بہادر افراد پر حملہ کیا۔ سب کے سب منتشر ہو کر بھاگ گئے، اور خدا نے کافروں کو غصے اور ناکامی کے ساتھ واپس لوٹا دیا، اور انہیں کوئی فائدہ حاصل نہ ہوا ۔ وَکفَی الله المُؤْمِنینَ القِتال۔ [2]

اور خدا نے مؤمنین کے لئے جنگ کا معاملہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ذریعے اور آپ کی قدرت، قوت اور بلند ہمت کے سبب کافی کر دیا۔ اور آپ کے ذریعے ایک ایسا معجزہ ظاہر فرمایا جس سے پوری امت عاجز اور بے بس ہے۔

اور آپ کی اس حیرت انگیز فضیلت کو بھی ظاہر کیا گیا کہ آپ مدینہ سے صرف سترہ قدموں میں وہاں پہنچ گئے،نیز آپ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی آواز کو دور سے سنا اور اس کا جواب دیا۔

یہ آپ کے عظیم ترین معجزات میں سے ایک ہے اور اس بات کی سب سے مضبوط دلیل ہے کہ آپ پوری امت میں بے مثال اور منفرد ہیں۔[3]

 


[1] ۔اس کے  مؤلّف سيّد ولىّ الله بن سيّد نعمت الله حسينى رضوى حائرى ہیں  کہ جو شيخ بهائى کے والد کے ہم عصر تھے ۔

[2] ۔ سورۂ احذاب ، آیت:۲۵.

[3] ۔ قطره‌اى از درياى فضائل اهل بيت علیهم السلام:۱ /۲۸۹،مدینۃ المعاجز سے منقول:۲/۹ ،ح۳۵۴۔

بازدید : 17