امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اور صحابہ کے گھروں کو مسمار کرنے کی سند

پیغمبر  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اور صحابہ کے گھروں کو مسمار کرنے کی سند

یہ نایاب دستاویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کے صحابہ، (آل سعود جن کی حمایت خود بھی کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں) ان تجاوزات سے محفوظ نہیں رہے، یہاں تک کہ مکہ کے علاقے “المسلفلہ” میں ابوبکر کا گھر بھی منہدم کر دیا گیا۔

مشرق” کی رپورٹ کے مطابق مصری اخبار کے ایک صفحے کو حال ہی میں سرگرم میڈیا کارکنوں نے دوبارہ شائع کیا ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ آلِ سعود نے وہ گھر بھی مسمار کر دیا جہاں رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا قیام پذیر  تھے۔

۳ دسمبر سنہ ۱۹۲۰ ء(بمطابق ۱۲۹۹ ھ)کو مجلہ ’’الکفاح العربی‘‘ کا شمارہ۵۲۶ شائع ہوا، جس میں یہ  بیان ہوا  ہے کہ سعودی رژیم نے وہ گھر بھی منہدم کر دیا جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی ولادت ہوئی تھی، اور اسی طرح حضرت خدیجہ بنت خویلد سلام اللہ علیہا کے گھر کو بھی مسمار کر دیا گیا  جہاں رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی زوجہ اور سب سے پہلے ایمان لانے والی خاتون جناب خدیجہ علیہا السلام  تھیں۔

اسی طرح وہ گھر بھی منہدم کر دیا گیا جہاں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت ہوئی تھی، جو مکہ میں “زقاق الحجر” نامی گلی میں واقع تھا۔

یہ نایاب دستاویز اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ آل سعود جن اصحاب رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی حمایت کا دعویٰ کرتے ہیں،وہ بھی  ان کے تخریبکارانہ اقدامات سے محفوظ نہیں رہے، یہاں تک کہ انہوں نے  مکہ کے علاقہ “المسلفہ” میں ابوبکر کا گھر بھی منہدم کر دیا گیا۔

سعودی رژیم نے اپنی مزید کارروائیوں میں رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے چچا حضرت حمزہ بن عبدالمطلب  علیہما السلام کے گھر کو بھی منہدم کر دیا۔ اسی طرح “دار الأرقم” بھی مسمار کر دیا گیا، جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  فتح مکہ سے پہلے اپنے صحابہ کے ساتھ خفیہ طور پر ملاقات کرتے تھے۔

مزید یہ کہ صدرِ اسلام کے شہداء کے قبرستان “المعلی” میں موجود قبور، جنگِ بدر کے شہداء کی قبور، اور مقام “العریش” بھی منہدم کر دیا گیا، جہاں رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سپہ سالار مقرر ہوئے تھے اور فقراء و محرومین کی جنگ کو قریش اور یہودیوں کے مالدار طبقے کے خلاف منظم کیا تھا۔

اسی طرح شیعوں کے پہلے امام حضرت علی علیہ السلام کے گھر کو بھی منہدم کر دیا گیا کہ جہاں حضرت امام حسن علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام  کی ولادت ہوئی تھی۔

نیز آلِ سعود کے کارکنوں نے “القبة الخضراء”  یعنی نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے روضۂ مبارک کے سبز گنبد میں موجود ایک سونے کے ٹکڑے کو چوری کیا اور اس سے تلوار، خنجر، کمربند، جوتے، سونے کی انگوٹھیاں اور کنگن وغیرہ تیار کئے۔

ان مستندات کے مطابق سعودی رژیم نے مدینۂ منورہ میں واقع قبرستان“بقیع الغرقد” کو بھی منہدم کیا، جہاں امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام، امام زین العابدین علیہ السلام، امام محمد باقر علیہ السلام، امام جعفر صادق علیہ السلام اور دیگر اصحاب و انصار رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  مدفون ہیں۔

اسی طرح یہ بھی ذکر کیا جاتا ہے کہ آلِ سعود نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے روضۂ مبارک کے گنبد کو بھی منہدم کرنے کی کوشش کی، لیکن شدید ردِ عمل اور مخالفت کے باعث اس سے دستبردار ہونا پڑا۔

میڈیا کے سرگرم کارکنان کے مطابق ان دستاویزات کی اشاعت کا مقصد یہ ہے کہ آلِ سعود اب بھی بعض سلفی اور تکفیری گروہوں کی تشکیل اور حمایت کے ذریعے شام، عراق اور لبنان جیسے ممالک میں موجود دیگر تاریخی و مقدس مقامات اور مزارات کی تخریب کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے۔

 سعودی عرب کے وہابی علماء اس بہانے سے ایسے مقامات کو منہدم کرنے کا حکم دیتے ہیں کہ اسلام کی عظیم شخصیات کی قبور اور اسلامی آثار و مقامات “شرک” کا باعث بنتے ہیں ۔

واشنگٹن میں موجود ایک تحقیقی ادارے نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ سعودی رژیم نے گزشتہ ۲۰ سال کے دوران مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقریباً ۹۵ فیصد اسلامی آثار اور تاریخی مقامات کو منہدم کر دیا ہے جو ایک ہزار سال سے زیادہ پرانے تھے۔[1]

 


[1] ۔ وبسایت مشرق نیوز، کد خبر: ۲۵۳۰۵۸، تاریخ اشاعت: ۲۰ مهر ۱۳۹۲ - ۲۳:۴۴.

بازدید : 40