امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
معاویہ کی نظر میں حضرت علی اکبر علیہ السلام امامت کے لئے سب سے زیادہ حق دار

معاویہ کی نظر میں حضرت علی اکبر علیہ السلام امامت کے لئے سب سے زیادہ حق دار

کعبہ کے پاس حجرِ اسماعیل ہے، جس میں حضرت ہاجرہ اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قبور ہیں؛ اسی طرح سیدالشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کے مزار کے قریب کربلا کے اسماعیل (حضرت علی اکبر علیہ السلام) کا مدفن و مزار ہے۔ وہ بزرگ اخلاقِ حسنہ، صفاتِ جمیلہ اور پسندیدہ اوصاف میں بے مثال تھے، اور جلالت، بزرگی، حسنِ خلق اور شجاعت میں امامت کے صدف کا ایک گراں قدر موتی تھے۔

مشہور ہے کہ ایک دن معاویہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا: امامت کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟

انہوں نے کہا: آپ۔

اس نے کہا: نہیں۔

بَلْ أوْلَى النّاسُ بِهذَا الأمرِ عَلِی بنُ حُسَینِ بْنِ عَلی، جَدُّهُ رَسُولُ الله صلّی الله علیه وآله وفیهِ شجاعَةُ بَنی هاشِمٍ وَسَخاوَةُ بَنی اُمَیة وزَهْوُ ثَقیفٍ.

بلکہ امامت کے زیادہ حق دار علی بن الحسین (علیہما السلام) ہیں، جن کے جد  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ہیں، اور ان میں بنی ہاشم کی شجاعت، بنی امیہ کی سخاوت، اور بنی ثقیف کی بزرگی، فخر اور خوش روئی جمع ہے۔

ابوالفرج اصفہانی کہتے ہیں:معاویہ کی “علی بن الحسین” سے مراد جناب علی اکبر علیہ السلام تھے، جو شہادت کے درجے پر فائز ہوئے۔[1]

معاویہ نے صراحتاً یہ بات بیان کی کہ وہ خلافت کا زیادہ حق دار نہیں ہے۔

 


[1] ۔ مقاتل الطالبيين: ۵۲، بحارالأنوار: ۴۵ /۴۵ کچھ فرق کے ساتھ.

بازدید : 4