امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
جنگ خیبر میں اميرالمؤمنين حضرت علی عليه السلام کی شجاعت

فتح خيبر کے بارے میں المنجی ویب سائٹ کے کچھ مطالب

**********************************************

 24رجب؛ فتح خيبر اور اميرالمؤمنين حضرت على بن ابى طالب علیہما السلام کے ہاتھوں مرحب کا قتل ہونا (سنہ ۷ ہجری)

**********************************************

جنگ خیبر میں اميرالمؤمنين حضرت علی عليه السلام کی شجاعت

جابر بن عبداللَّه انصارى کہتے ہیں:

    جب جنگ خيبر میں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے علی علیہ السلام کی آنکھ کے لئے شفاء کی دعا فرمائی اور پرچم اسلام آنحضرت کو سونپا تو على عليه السلام نے اپنے ماتحت تمام فوج کو حکم دیا کہ جلدی سے قلعہ خيبر کے مستحکم دروازہ کی طرف بڑھو۔

    آپ کے ساتھیوں نے کہا: تھوڑا آہستہ چلیں، تا کہ ہم بھی قلعہ تک پہنچ جائیں لیکن جب وہ لوگ پہنچے تو على عليه السلام  قلعه کے دروازہ کو اکھاڑ کر گرا دیا تھا۔

    پھر ستر افراد اکٹھے ہوئے اور انہوں نے انتہائی کوشش کی دروازہ کو اپنی جگہ پر واپس لائیں۔(1)

   ابوعبداللَّه جدلى بھی کہتے ہیں:میں نے امير المؤمنین على صلوات اللَّه عليه سے کہ آپ نے فرمایا:

 میں نے جنگ خيبر  میں قلعۂ خیبر کے مضبوط دروازہ کو اکھاڑ کر اپنے لئے ڈھال بنایا اور ان سے جنگ کی اور جب ( ہمیں کامیابی نصیب ہوئی) خداوند نے ذلیل و رسوا کیا تو میں نے اس دروازہ کا پل بنایا اور پھر اسے ان کی خندق میں گرا دیا۔

 کسی نے پوچھا: آپ نے اس کا وزن کس قدر محسوس کیا تھا؟

 امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا:

 ما كان إلّا مثل جُنّتي الّتي في عدتي في غير ذلك المقام ؛

 اس کا وزن اس سپر اور ڈھال کی مانند ہے کہ جو میرے ہاتھ میں ہے اور جس سے میں دوسرے مواقع پر استفادہ کرتا ہوں۔

    اس بارے میں کسی شاعر نے کچھ اشعار کہے ہیں:

 إنّ امرءاً حمل الرتاج بخبير            يوم اليهود بقدرة لمؤيّدُ

 حمل الرتاج ، رتاج باب فوقها         والمسلمون وأهل خيبر حشدوا

 فرمى به ولقد تكلّف ردّه               سبعون كلّهم له متشدّد

 ردّوه بعد مشقّة وتكلّف               ومقام بعضهم لبعض أرندوا (2)

 بیشک اس شجاع مرد نے جنگ خيبر میں یہودیوں سے جنگ کے دوران درِ خیبر کو قدرت خدا سے اکھاڑ دیا۔ انہوں نے قلعہ کے سب سے بڑے دروازہ کو اکھاڑ کر اس طرح بلند کیا کہ تمام مسلمانوں اور خیبر والوں نے اسے دیکھا۔ پھر اس شیر اور شجاع مرد نے درِ خیبر کو ہوا میں اڑا دیا کہ جسے ستر طاقتور افراد بھی بڑی مشکل سے جابجا کرتے تھے۔ بہت سے طاقتور افراد نے ایک دوسری کی مدد کے ذریعہ بڑی مشکل سے اسے اپنی جگہ واپس پلٹایا۔


1) اسی کی مانند ایک روایت «المناقب : 145/3» اور «بحار الأنوار : 96/41 ح 14 کے ضمن » میں بھی نقل ہوئی ہے۔

2) نوادر المعجزات : 44 ح 16 ، عيون المعجزات : 37 ، مدينة المعاجز : 476/1 ح 312 ، بحار الأنوار : 346/57 ح 36 ۔

 

منبع: فضائل اہلبيت عليہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: ج 2 ص 329

 

 

 

بازدید : 1164