رسول خدا صلّی الله علیه و آله و سلم کے
فرزند جناب ابراہیم کے بارے میں کچھ مطلب
*********************************************
18 رجب: حضرت محمد صلی الله علیه وآله وسلم کے فرزند جناب ابراہیم علیہ السلام کی وفات (سنہ ۱٠ ہجری)
*********************************************
پيغمبر صلي الله عليه و آله و سلم کا اپنے بیٹے ابراہيم کو
امام حسين عليه السلام پر قربان کرنا
خطيب بغدادی اپنی كتاب «تاريخ بغداد» میں ابن عبّاس سے نقل كرتے ہیں کہ انہوں نے کہا : میں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی خدمت میں تھا جب کہ آپ نے اپنے بیٹے ابراہيم کو اپنے بائیں زانو پر اور حسين بن على عليہما السلام کو دائیں زانو پر بٹھایا ہوا تھا اور کبھی آپ ابراہیم کو بوسہ دیتے اور کبھی اپنے حسين کو بوسہ دیتے تھے۔ اسی وقت جبرئيل عليه السلام نازل ہوئے کہ جو حامل وحى الٰہى تھے۔ وہ خدا کا پیغام اس کے رسول تک پہنچا کر وہاں سے رخصت ہو گئے۔ پيغمبر اكرم صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: خدا کی طرف سے جبرئيل آئے اور مجھے خبر دی کہ خداوند نے آپ پر سلام کہا ہے اور فرمایا ہے: آپ نے اپنے زانو پر جو دو بچے بٹھائے ہوئے ہیں ان میں دونوں کو آپ کے لئے باقی نہیں رکھوں گا بلکہ ایک کو دوسرت پر قربان کرنا پڑے گا۔
رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم؛ ابراہيم کو دیکھتے تو آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے اور جب حسين عليه السلام کو دیکھتے تو گریہ کرتے۔ پھر آپ نے فرمایا:
إنّ إبراهيم اُمّه أمة، ومتى مات لم يحزن عليه غيري، واُمّ الحسين عليه السلام فاطمة، وأبوه عليّ ابن عمّي لحمي ودمي، ومتى مات حزنت ابنتي وحزن ابن عمّي وحزنت أنا عليه، وأنا اُؤثر حزني على حزنهما، يا جبرئيل تقبض إبراهيم فقد فديت الحسين به.
ابراہيم کی ماں ایک کنیز ہے جب وہ وفات پائے گا تو میرے علاوہ کوئی اس پر غمگین نہیں ہو گا لیکن حسين عليه السلام کی ماں فاطمه عليہا السلام اور باپ میرے چچا زاد على ہیں کہ جو میرا گوشت اور خون ہے، جب حسين عليه السلام اس دنيا سے جائیں گے تو ان کی ماں اور باپ غمگین ہوں گے اور میں بھی ان پر غمگین ہوں گا اور میرا غم ان دونوں کے غم سے زیادہ ہو گا۔ میں ان دونوں کے غم پر اپنے غم کو ترجیح دیتا ہوں۔
اے جبرئيل ! ابراہيم کو مجھ سے لے لو، میں نے اسے اپنے حسين پر قربان کر دیا۔
تین دن کے بعد ابراہيم اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور اس کے بعد جب بھی حسين عليه السلام آپ کی طرف آتے تو آپ انہیں اپنی گود میں بٹھاتے اور چومتے۔ ان کے لبوں، گلے اور دانتوں کو چومتے اور فرماتے:
فديت من فديته بإبني إبراهيم.
میں اس پر قربان جس کے لئے میں نے اپنے بیٹے ابراہيم کو قربان کر دیا۔ (1)
(1) تاريخ بغداد: 204/2، مستدرك حاكم: 290/2، ذخائر العقبى: 150، طرائف: 202 ح 289 ، بحار الأنوار : 1453/22 ح7، و ج : 261/43 ح2 به نقل از مناقب ابن شهراشوب: 81/4، مدينة المعاجز: 57/4 ح 137 طرائف سے منقول، منتخب طريحى: 51 .
منبع: فضائل اہلبيت عليہم السلام کے بحر بیکران سے ایک ناچیز قطرہ: ج 1 ص 473








