امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام کا متوکّل کو خواب میں تازیانے مارنا

 حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام کا متوکّل کو خواب میں تازیانے مارنا

’’ لطائف الطوائف ‘‘میں بیان کیا گیا ہے: ایک دن متوکل نے اپنے کچھ خاص لوگوں سے کہا کہ میں نے رات ابوتراب(علی علیہ السلام) کو خواب میں دیکھا کہ انہوں نے ایک کوڑا اٹھایا اور مجھے سات زور دار کوڑے مارے، اور میں اس خواب سے خوفزدہ ہوں۔

پھر اس نے حکماء اور خواب کی تعبیر کرنے والوں کو بلایا اور انہیں اپنا خواب سنایا۔ وہ سب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگے اور ہر ایک نے بات دوسرے پر ڈال دی۔

متوکل نے ان کی کیفیت سمجھ کر کہا: جو بھی تعبیر ہے، صاف صاف بتاؤ، تمہیں میری طرف سے کوئی سزا یا نقصان کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔

ان میں ایک شخص سب سے زیادہ صاحب علم اور جرات مند تھا، اس نے کہا: خواب میں کوڑے کا مطلب تلوار ہے جو تم پر چلائی جائے گی، اور اس کا انجام اچھا ہونا بعید ہے۔ یہ تعبیر سن کر متوکل فکر مند ہو گیا۔

چند دن بعد ترکوں کی ایک جماعت اس کے دربار میں داخل ہوئی اور اسے قتل کر دیا اور اس کے بیٹے منتصر کو خلافت پر بٹھا دیا۔ وہ اپنے باپ کے برعکس علوی سادات کی بہت خیال کرتا تھا۔ جب اسے اپنے باپ کا خواب یاد آیا تو اس نے کہا: تحقیق کرو کہ میرے باپ کے جسم کے کتنے ٹکڑے کئے گئے؟

لوگوں نے کہا: چھ حصے۔

اس نے کہا: اسے سات کوڑے مارے گئے تھے، اس لئے سات ٹکڑے ہونے چاہئیں تھے۔ پھر جب مزید تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ اس کے ہاتھ کی ایک انگلی بھی الگ ہو گئی تھی، اس طرح سب پر اس خواب کی سچائی ظاہر ہو گئی۔

یہ روایت کتاب ’’ زینة المجالس‘‘ کے صفحہ ۹۴ اورتاریخ نگارستان میں بھی مذکور ہے۔[1]

 


[1] ۔ نفائح العلّام فى سوانح الأيّام :۲/ ۷۱.

بازدید : 3