امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۴) تمام علوم کا على‏ عليه السلام کے ہاتھ کی ہتھیلی پر حاضر ہونا

(۴)

تمام علوم کا على‏ عليه السلام کے ہاتھ کی ہتھیلی پر حاضر ہونا

   چنانچه ابوالمؤيّد موفّق بن احمد خوارزمى اخطب الخطباء نے اپنی مناقب میں نقل کیا ہے کہ ایک روز عمر نے تعجب کرتے ہوئے علىّ بن ابى طالب ‏عليه السلام سے پوچھا: آخر اس کی کیا وجہ سے ہے آپ سے احکام میں سے کسی حکم یا مسائل میں سے کسی بھی مسئلہ کے بارے میں پوچھا جائے تو آپ سوچے بغیر فوراً اس کا جواب دے دیتے ہیں؟

   امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے عمر کے جواب میں اپنے ہاتھ کی ہتھیلی اس کے سامنے کھولی اور فرمایا:میرے ہاتھ میں کتنی انگلیاں ہیں؟ اس نے فوراً کہا: پانچ انگلیاں ہیں۔

   آپ نے فرمایا: تم نے جواب دیتے وقت غور کیوں نہیں کیا اور اس کے بارے میں سوچا کیوں نہیں؟

   عمر نے کہا: اس کے ئے سوچنے کی ضرورت نہیں تھی؛ کیونکہ پانچ انگلیاں میرے سامنے حاضر تھیں۔

   امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: تمام مسائل، احکام اور علوم میرے سامنے ہاتھ کی ہتھیلی کی طرح حاضر ہیں لہذا میں غور و فکر کے بغیر فوراً تمام سوالات کے جوابات دیتا ہوں۔

   اے منصف مزاج حضرات! کیا یہ ناانصافی نہیں ہے کہ حبّ و بغض اور تعصب کی وجہ سے ایسی عظیم اور جلیل القدر ہستی کی شان میں گستاخی کی جائے اور ان کے بارے میں دلیل و برہان سے عاری بات کی جائے۔ لوگ رسول اللَّه‏ صلى الله عليه وآله وسلم کے باب علم کے پاس ان تمام علوم کی موجودگی کے باجود عمر کی طرف رجوع کرتے تھے اس کی وجہ صرف اور صرف کی لوگوں کی سرگردانی تھی۔

 معاويه کا على ‏عليه السلام کے مقام کا دفاع کرنا:

   اب مجھے ایک روایت یاد آئی ہے کہ جسے میں آپ حضرات تک پہنچانا چاہتا ہوں۔ متعصب ابن حجر مكّى نے صواعق کے باب 11 میں پانچویں مقصد کے ذیل میں ص 110 اور آيت 14 کے ذیل میں لکھا ہے کہ امام احمد نے روايت کی ہے، نیز مير سيّد على ہمدانى نے مودّة القربى اور ابن ابى الحديد نے شرح نہج البلاغه میں نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے معاویہ سے سوال پوچھا تو اس نے کہا: یہ سوال على ‏عليه السلام سے پوچھو؛ کیونکہ وہ عرب میں سب سے زیادہ عالم اور دانا ہیں۔ اس شخص نے کہا: مجھے تمہارا جواب ‏على ‏عليه السلام کے جواب سے زیادہ پسند ہے۔

   معاويہ نے کہا: تم نے بہت بری بات کہی ہے «كرهت رجلاً كان رسول اللَّه‏ صلى الله عليه وآله وسلم يغرّه بالعلم غرّاً ولقد قال له: أنت منّي بمنزلة هارون من موسى إلاّ أنّه لا نبيّ بعدي وكان عمر إذا أشكل عليه شي‏ء أخذ منه»؛ «تمہیں اس شخص سے کراہت ہے کہ جسے پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم علم کی تلقين کرتے اور بیشک آنحضرت نے ان سے فرمایا: تمہیں مجھ سے وہی نسبت سے جو ہارون کو موسی سے تھی مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے، اور جب بھی عمر پر کوئی مشکل آتی تو وہ علی علیہ السلام سے پوچھتا اور ان کی رائے پر عمل کرتا».

  «الفضل ما شهدت به الأعداء» کی رو سے معاویہ کی گواہی كفايت کرتی ہے کیونکہ وہ على ‏عليه السلام کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ (11)


1) شبهاى پيشاور: 861.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 883