امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۵) رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم اور اميرالمؤمنين‏ عليه السلام کا ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا

 (۵)

رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم

اور اميرالمؤمنين‏ عليه السلام کا ایک دوسرے سے جدا نہ ہونا

   اس دن کی رات میں سيّد محدّث جزائرى نے اپنے جدّ پيغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو خواب میں دیکھا،جیسا کہ محدّث نورى نے «دار السلام: 255» میں سید کی کتاب «انوار نعمانيّه» سے نقال کیا ہے اور جس کا ماحصل یہ ہے کہ سيّد نے فرمایا:

   شب عيد فطر تھی اور شب جمعہ بھی تھی اور میں نے اس سے ایک روز قبل یعنی جمعرات کے دن خود میں خشوع و خضوع کی حالت کا مشاہدہ کیا۔ میں نے رات میں عالم خواب میں دیکھا کہ گویا میں ایک وسیع بیابان میں ہوں کہ جہاں ایک حجرہ ہے کہ جس کے اطراف اور گرد و نواح سے لوگ اس حجرہ کی طرف آ رہے ہیں۔ میں بھی لوگوں کے ساتھ اس حجرہ کی طرف روانہ ہو گیا اور جب ہم اس حجرہ کے دروازہ پر پہنچے تو ہم نے دیکھا کہ اس حجرہ میں ایک شخص بیٹھا ہے کہ جو لوگوں کو دینی مسائل تعلیم دے رہا ہے۔

   میں نے پوچھا کہ یہ بزرگ کون ہیں؟

   کہا: هذا هو رسول اللَّه ‏صلى الله عليه وآله وسلم.

   جیسے ہی میں نے یہ بات سنی تو میں نے فوراً لوگوں کو دور کیا تا کہ خود آنحضرت تک پہنچ جاؤں اور میں نے عرض کیا:يا جدّاه! آپ سے منقول ہم تک ایک دعا پہنچی ہے کہ جو نماز کے شروع میں پڑھی جائے اور وہ دعا یہ ہے: «أللّهمّ إنّي اُقدّم إليك محمّداً بين يدي حاجتي وأتوجّه به إليك...الخ. لیکن آپ کے اسم مبارک کے ساتھ حضرت علىّ بن ابى طالب‏ عليه السلام کا اسم ذکر نہیں ہوا اور جب میں اس دعا کو پڑھتا ہوں تو حضرت علىّ بن ابى طالب‏ عليه السلام کا اسم بھی ذکر کرتا ہوں لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں یہ بدعت نہ ہو کیونکہ یہ دعا اس طرح ہم تک نہیں پہنچی ہے۔

   پھر آپ نے اپنی دو انگلیوں کو ایک دوسرے سے قریب کیا اور فرمایا: میرے اسم کے ساتھ علی کا اسم ذکر کرنا بدعت نہیں ہے اور آپ نے مجھے حکم دیا کہ جب میرا اسم ذکر کرو تو اس کے ساتھ على کا اسم بھی ذکر کرو۔

   اور جب میں خواب سے بیدار ہوا تو میں نے بعض کتب دیکھیں کہ جن میں اس دعا میں ‏اميرالمؤمنين علی عليه الصلاة والسلام کا اسم بھی ذکر ہوا تھا۔ انتهى

   حقير کا یہ بیان ہے: جی ہاں! یہ بات مسلم ہے کہ ہرگز یہ تصور نہ کیا جائے کہ پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم ؛ على‏ عليه السلام سے اور على‏ عليه السلام؛ پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم سے جدا تھے یا جدا ہیں، چاہے یہ ظاہر میں ہو یا باچن میں۔

 جيحون يزدى نے کیا خوب کہا ہے:

احمد و حيدر كه يك وجود و دو اسمند

كشور ايجاد را قويم طلسمند

گرچه زصلب و رحم عيان به دو قسمند

ليك يكى روح رفته مر به دو جسمند

   وہ دو وجود نہیں ہیں بلکہ ظاہری آنکھوں سے وہ دو دکھائی دیتے ہیں۔

   اسی عيد فطر کے دن اہل ايمان دعائے ندبہ میں پڑھتے ہیں کہ رسول‏ خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا:

انا وعليّ من شجرة واحدة، وسائر الناس من شجر شتّى.

میں اور على  ایک درخت کی دو شاخیں ہیں اور دوسرے سب لوگ مختلف درختوں سے ہیں۔

کسی نے کیا خوب کہا ہے:

نبىّ و ولى هر دو نسبت به هم

دو تا و يكى چون زبان قلم

دو سر چون قلم ليك از جان يكى

زبانشان دو تا و سخنشان يكى

   اور جب یہ معلوم ہو گیا تو کسی کو یہ شک نہیں ہونا چاہئے کہ جب بھی یہ کہا جائے کہ: جو شمشیر اميرالمؤمنين‏ عليه السلام کی پیشانی پر لگی گویا وہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم  کی پیشانی پر لگی اور جو ریسمان ستم اس حبل المتين دين کے گلے میں ڈالی گئی گویا ظالم و ستمگر امت نے جمع ہو کر ریسمان ستم خود پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی گردن میں ڈالی۔ (1)


1) نفائح العلاّم فى سوانح الأيّام: 50/2.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

 

بازدید : 832