امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عباس بن عبدالمطّلب

جناب عباس بن عبدالمطلب کی وفات کے بارے میں کچھ مطلب

*************************************

12رجب؛ پيغمبر اکرم صلي الله عليه و آله و سلم کے چچا جناب عباس بن عبد المطلب کی وفات (سنہ ۳۲ ہجری)

*******************************************

عباس بن عبدالمطّلب

کتاب «تفسير فرات» میں لکھتے ہیں:

 زياد بن منذر کہتے ہیں: میں نے امام باقر عليه السلام‏ سے سنا کہ آپ نے فرمایا:

نحن شجرة أصلها رسول‏ اللَّه ‏صلى الله عليه وآله وسلم وفرعها عليّ بن أبي طالب ‏عليه السلام‏ وأغصانها فاطمة بنت النبيّ‏ عليهما السلام وثمرتها الحسن والحسين‏ عليهما السلام.

ہم ایک شجر ہیں کہ جس کی جڑ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم، جس کا تنا علىّ بن ابى طالب ‏عليہما السلام، جس کی شاخین فاطمه بن نبی عليہما السلام اور جس کے پھل حسن و حسين‏ عليہما السلام ہیں۔

وہ شجرۂ نوبت، دار رحمت، كليد حكمت، معدن علم و دانش، مقام رسالت، فرشتوں کی فرودگاہ، مقام سرّ خدا ، ودیعۂ الٰہی اور ایسی امانت ہے کہ جو آسمانوں ، زمینوں اور پہاڑوں کے سامنے رکھی گئی۔ خدا کا حرم، بیت عتیق اور عہد و پیمان ہم ہیں۔

موت و وفات، حادثا و واقعات اور وصیتوں کا علم ہمارے پاس ہے۔ فصل الخطاب، اسلام کی نشأت اولی اور قومِ عرب کے نجیب ترین افراد ہم ہیں۔

ائمہ معصومین ‏عليہم السلام عرش الٰہی پر نور خدا کی تجلیاں ہیں۔ خداوند نے جب انہیں تسبیح و تقدیس کا حکم دیا تو اہل آسمان ان کی تسبیح سے خدا کی تسبیح و تقدیس میں مشغول ہو گئے۔ وہ خداوند متعال کی بارگاہ میں صف زدہ اور تسبیح کرنے والے ہیں، جس نے ان کے ساتھ وعدہ وفا کیا اس کے درحقیقت خدا سے وعدہ وفا کیا۔ جس نے ان کا حق پہچانا اس نے درحقیقت حق خدا کی شناخت کی، وہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی عترت ہیں، جو کوئی بھی ان کے حق کا منکر وہ حقیقت میں خدا کے حق کا منکر ہے۔

 هم ولاة أمراللَّه وخزنة وحي اللَّه وورثة كتاب‏ اللَّه، وهم المصطفون باسم ‏اللَّه والاُمناء على وحي اللَّه.

وہ امر خدا کے فرمانروا، وحی الٰہی کے خزانہ دار اور کتاب خدا کے وارث ہیں، وہ امر خدا سے منتخب اور وحی الٰہی کے امین ہیں۔

وہ خاندان نبوّت، مركز رسالت اور فرشتوں کے پروں کی آوازوں سے مانوس ہیں۔ یہ وہ ہستیان ہیں جنہیں خدا کے حکم سے جبرئیل نے تنزیل اور برہان و دليل سے تغذيه فرمایا ہے۔

هؤلاء أهل البيت أكرمهم اللَّه بشرفه، و شرّفهم بكرامته، وأعزّهم بالهدى ‏وثبّتهم بالوحي، وجعلهم أئمّة هداة، ونوراً في الظلم للنجاة، واختصّهم‏ لدينه وفضّلهم بعلمه، وآتاهم ما لم يؤت أحداً من العالمين.

وہ اہلبیت پیغمبر ہیں کہ جنہیں خداوند متعال نے اپنے شرف سے عزت بخشی اور انہیں اپنے لطف و کرم سے شرات و بزرگی عطا فرمائی، اپنی ہدایت کے ذریعہ انہیں عظمت عنایت کیا، وحی کے وسیلہ سے ان کی تثبیت فرمائی،انہیں ہادی برحق بنایا، تاریکی میں نجات کے لئے نور قرار دیا، انہیں دین کے لئے مخصوص کیا، اپنے علم کے ذریعہ فضیلت بخشی، اور انہیں وہ کچھ عطا فرمایا کہ جو دونوں جہانوں میں کسی کو عطا نہیں کیا۔

وہ دین کی بنیاد، اپنے مخفی اسرار ودیعت کرنے کا مقام، وحی کے امین، مخلوقات میں سے برگذیدہ اور اور انہیں لوگوں پر گواہ قرار دیا، انہیں منتخب کیا، خصوصی امتیاز بخشا، فضیلت اور برتری عطا کی اور پہلے والوں پر فوقیت عطا فرمائی۔

انہیں دنیا کا نور، لوگوں کی پناہگاہ، مخلوق کے لئے صراط مستقیم پر باقی رہنے کے لئے رہنما قرار دیا کیونکہ وہ ہدایت اور رہنمائی کرنے، تقویٰ کی طرف دعوت دینے والے امام، خدائے حق کا کلمۂ اعلیٰ اور خدا کی عظیم حجت ہیں۔

 هم النجاة والزلفى، هم الخيرة الكرام، هم القضاة الحكّام، هم النجوم‏الأعلام، هم الصراط المستقيم، هم السبيل الأقوم، الراغب عنهم مارق،والمقصّر عنهم زاهق، واللازم لهم لاحق.

وہ ایسے نجات دینے والے ہیں جو مقام و مرتبہ پر فائز ہیں، وہ برگذیدہ و کریم، فیصلہ کرنے والے حاکم، درخشاں  ستارے، صراط مستقیم اور مضبوط و محکم شاہراہ ہیں کہ جو بھی ان سے روگراں ہوتا ہے؛ وہ گمراہ ہو جاتا ہے اور جو بھی ان کے حق میں کوتاہی  کرتا ہے وہ بدبخت ہو جاتا ہے اور جو بھی ان کی پیروی کرتا ہے وہ اپنے ہدف کو پا لیتا ہے۔

وہ مؤمنوں کے دلوں میں نور الٰہی اور پیاسوں کے ٹھنڈا اور شریں دریا ہیں، جس نے ان کے دامن عفو میں پناہ لی وہ محفوظ ہو جائے گا، جس نے بھی ان کا دامن تھاما وہ اس کے لئے آرام و سکون کی منزل ہیں، خدا کی طرف دعوت دینے اور اس کے تابع فرمان ہیں، وہ دستور الٰہی کو جاری اور اس کے فرمان کا حکم کرنے والے ہیں۔

خداوند متعال نے انہیں میں سے اپنے پیغمبر کو مبعوث فرمایا۔ خدا کے فرشتے انہیں کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں اور روح الأمین انہیں پر نازل ہوتے ہیں، اور یہ سب کو فقط خدا کے لطف و کرم کی وجہ سے ہے جو انہی کے ساتھ مختص ہے، انہیں تقویٰ عطا کیا اور اپنی خاص حکمت کے ذریعہ ان کو قوت عطا کی۔

وہ شجرۂ طیبہ کی پاک و پاکیزہ شاخین اور مبارک جڑیں ہیں، وہ رحمت حق کا مسکن، علم و دانش کا خذنہ، حلم و شكيبائى کے وارث، صاحبان عقل و خرد اور تقویٰ کے مالک، پیغمبروں کے وارث،نور اور روشنائى، اور باقی ماندہ اوصیاء ہیں۔ ان کے صاحؓ عظمت خاندان میں سے وہ ہستی بھی ہے جن کی یاد دل نشین اور اسم مبارک ہے یعنی؛ حضرت محمّد مصطفى ‏صلى الله عليه وآله وسلم ،برگزيده پیغمبر اور اُمّى۔

اور اس خاندان سے ایسے امیر اور فرمانروا ہیں جو ایک روشن ستارہ کی طرح درخشاں ہیں، جو ایک غضبناک شیر کی طرح غراتے ہیں؛ يعنى حضرت حمزه بن عبدالمطلب‏ عليہما السلام.

اور اس خاندان سے وہ شخصیت بھی ہے کہ جنہوں نے «رماده»(10) یعنی خشک سالی کے وقت پیاسوں کو سيراب ‏كیا؛ يعنى عبّاس بن عبدالمطلب، رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کے چچا اور آپ کے والد گرامی کے جڑواں بھائی۔

اور اسی خاندان جعفر بن ابى طالب‏ عليہما السلام «ذوالجناحين» بھی ہیں جنہوں نے دونوں قبلوں کی طرف منہ کرکے نماز پڑھی، دو دفعہ ہجرت كی اور دو دفعہ بيعت کی۔ ان کا تعلق ایسے مبارک شجر سے ہے کہ جن کی دلیل روشن اور برہان آشکار ہے۔

اور اسی خاندان سے حضرت محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کے دوست اور بھائی، ان کے پیغام کو پہنچانے والے، صاحب برہان، محکم تأويل و تفسير، مؤمنوں کے امیر اور سرپرست اور رسول رب العالمین کے جانشين ہیں؛ يعنى علىّ بن ابى طالب علیہما السلام۔ ان پر خدا کا پاک درود و سلام اور تہنیت ہو۔

جی ہاں! یہ وہ ہستیاں ہیں کہ خداوند متعال نے جن کی مودت اور ولايت کو ہر مسلمان مرد اور عورت پر واجب قرار دیا ہے اور اپنی محکم كتاب (قرآن) میں اپنے پیغمبر سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ:

 «قُلْ لا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْراً إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبى وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْلَهُ فيها حُسْناً إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ»(11).

«آپ کہہ دیجئے کہ میں تم سے اس تبلیغ رسالت کا کوئی اجر نہیں مانگتا، ماسوائے یہ کہ میرے اقرباء سے محبت کرو اور جو شخص بھی کوئی نیکی کرے گا تو ہم اس میں اضافہ کر دیں گے، بیشک خدا بہت بخشنے والا اور شکور ہے».

   پھر امام باقرعليه السلام فرماتے ہیں:

«إقتراف الحسنة» حبّنا أهل البيت.

«اقتراف حسنه»؛ یعنی نیک کام سے مراد ہم اہلبیت کی محبت ہے۔(12)


10) رماده: عمر کی غاصبانہ خلافت کے زمانے میں ہونے والے خشک سالی کہ جو بہت سے انسانوں کی ہلاکت اور کثیر سرمایہ کے تلف ہونے کا باعث بنی۔

11) سوره شورى، آيت 23۔

12) تفسير فرات: 395 ح 11، بحار الأنوار: 244/23 ح 16 و 250/26 ح 22، اليقين في امرة أمير المؤمنين ‏عليه السلام: 98 باب121.

 

 منبع: فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: ج 2 ص 17

 

بازدید : 985