امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(2) عبداللَّه بن زبير کی اہلبيت ‏عليہم السلام سے دشمنی اور ان پر سبّ و شتم کرنا

(2)

عبداللَّه بن زبير کی اہلبيت ‏عليہم السلام

سے دشمنی اور ان پر سبّ و شتم کرنا

   عبداللَّه بن زبير؛ اميرالمؤمنين على‏ عليه السلام کو دشمن رکھتا تھا ہمیشہ آپ کے بارے میں برا بھلا کہتا اور آپ سبّ و شتم کرتا تھا۔ عمر بن شبه، ابن كلبى، واقدى اور ديگر مورّخین نے نقل‏ كیا ہے کہ عبداللَّه بن زبير نے خلافت کا دعویٰ کرنے کے دن سے لے کر چالیس نماز جمعه گزارے کہ جس میں اس نے پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم پر درود نہیں بھیجا اور کہا: کوئی چیز مجھے پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم‏ کا نام لینے سے نہیں روکتی مگر یہ کہ ایک گروہ اپنے ہی ناک میں ہوا  رکھتا ہے۔

   محمّد بن حبيب اور ابو عبيدة معمّر بن مثنى نے اپنی روايت میں کہا ہے: ان زبیر نے کہا ہے: کیونکہ پیغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کا خاندان برا ہے لہذا میں جب ان کا نام لیتا ہوں تو میرا سر چکرا جاتا ہے۔

   سعيد بن جبير کا بیان ہے: عبداللَّه بن زبير نے عبداللَّه بن عباس سے کہا: یہ کیسی حدیث ہے کہ جو میں تم سے سن رہا ہوں؟

   ابن عبّاس نے کہا: تم کس حدیث کے بارے میں کہہ رہے ہو؟

   اس نے کہا: میری مزمت اور سرزنش۔

   عبداللَّه بن عباس نے کہا: میں نے سنا ہے کہ پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم فرماتے تھے: «وہ کیسا برا انسان ہے کہ جو خود تو سیر ہو لیکن اس کا ہمسایہ بھوکا ہو ».

   عبداللَّه بن زبير نے کہا: چالیس سال سے میں نے اپنے سینہ تم اہلبیت کے لئے بغض و کینہ کو مخفی رکھا ہے۔

   پھر اس وقت سعيد بن جبير نے گذشتہ حدیث مکمل نقل کی۔

   اسی طرح عمر بن شعبه نے سعيد بن جبير سے نقل کیا ہے کہ اس نے کہا ہے: عبداللَّه ‏بن زبير تقریر کرنے میں مشغول اور اس نے اميرالمؤمنين على عليه السلام پر سبّ و شتم کیا۔ محمّد بن حنفيّه کو اس کی خبر ہوئی تو وہ آئے جب کہ ابن زبير خطبہ دے رہا تھا، ان کے لئے ایک تختہ رکھا گیا اور انہوں نے ابن زبير کے خطبہ کو قطع کرتے ہوئے کہا: اے گروه اعراب! تمہارا چہرہ بدنما ہو ؛ کیا تمہاری موجودگی میں على‏ عليه السلام کی مذمت ہونی چاہئے ؟! بیشک على ‏عليه السلام خدا کے دشمنوں کو مارنے کے لئے دست خدا تھے اور حکم خداوند سے وہ ایک صاعقہ تھے کہ جو كافرون اور حق کے منكروں پر گرتی تھی اور جس نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے قتل کیا اور ان لوگوں کے پسماندگان کے دلوں میں ان کے لئے بغض و کینہ باقی رہ گیا اور ان لوگوں نے اپنے افکار میں ان کے لئے حسد اور تلوار فراہم کی۔ ابھی ان کے چچا - كه ان پر خدا کا درود ہو - زنده تھے اور ابھی تک ان کی وفات نہیں ہوئی تھی اور جب خدا انہیں اپنے جوار میں لے گیا اور جو کچھ ان کے پاس تھا وہ ان کے لئے منتخب کیا۔ لیکن لوگوں نے ان کے خلاف اپنے بغض و کینہ کو آشکار کیا اور یوں خود کو تسکین دی۔ ان میں سے بعض نے ان کے حق کو غصب کیا، بعض نے کچھ لوگوں کو انہیں قتل کرنے کے لئے بھیجا، بعض نے ان پر سبّ و شتم کیا اور ان پر بیہودہ باتوں کی تہمت لگائی اور اگر علوی ذریت کو حکومت ملی تو ان لوگوں کی ہڈیوں کو باہر نکالا جائے گا اور ان کی قبروں کو شگافتہ کیا جائے گا – اگرچہ آج ان کے جسم بوسیدہ ہو چکے ہیں اور ان کے زندہ افراد مر چکے ہیں – اور ان کی گردوں کو ذلیل و خوار کیا جائے گا۔  خداوند بزرگ و برتر نے انہیں ہمارے ہاتھوں سے عذاب دیا، ذلیل و خوار کیا، ہمیں ان پر کامیابی عطا کی، ہمارے دلوں کو تسکین حاصل ہوئی۔ اور خدا کی قسم! کوئی شخص على عليه السلام کو دشنام نہیں دیتا مگر یہ کہ اس کے دل میں پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کے لئے دشنام مخفی ہو اور اسے زبان پر لاتے ہوئے ڈرتے ہیں، اس لئے وہ علی عليه السلام کو دشنام دے کر پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم ‏کے لئے كنايه استعمال کرتے ہیں۔

   بیشک اب بھی تم میں وہ لوگ ہیں کہ ابھی تک جن کی موت نہیں آئی اور جن کی عمر دراز ہے اور انہوں نے علی علیہ السلام کے بارے میں پيغمبر صلى الله عليه وآله وسلم کی یہ حدیث سنی ہے کہ آپ نے فرمایا:

مؤمن کے سوا تم سے کوئی محبت نہیں کرتا اور منافق کے سوا تم سے کوئی بغج و عداوت اور کینہ نہیں رکھتا۔(2395)

   اور ظلم و ستم کرنے والے جلد ہی کیفر کردار تک پہنچیں گے۔

   ابن زبير نے اپنی تقریر کو جاری رکھا اور کہا: اگر فاطمہ کے بیٹے بات کریں تو میں انہیں معذور سمجھوں گا لیکن حنفیہ کی ماں کے بیٹے کس لئے بات کر رہے ہیں۔

   محمّد نے اس سے کہا:اے فرزند امّ رومان! ہم کیوں بات نہ کریں کیا ایک فاطمہ کے علاوہ باقی سب فاطمہ میری ماں نہیں ہیں؟ اور جو ایک میری ماں نہیں بھی تو پھر بھی اس کا افتخار مجھے حاصل ہے کیونکہ وہ میرے دو بھائیوں کی ماں ہیں۔ میں فرزند فاطمه بنت عمران بن عاند بن مخزوم ہوں کہ جو رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی دادی ہیں اور میں فرزند فاطمه بنت اسد ہوں کہ جو‏ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی سرپرست ہیں اور جو ان کی ماں کی طرح تھیں۔ خدا کی قسم! اگر خديجه دختر خويلد کے احترام کا خیال نہ ہوتا تو خاندان اسد بن عبد العزى میں کوئی ہڈی باقی نہ چھوڑتا مگر یہ کہ اسے بھی توڑ دیتا۔ پھر وہ وہاں سے اٹھے اور چلے گئے۔ (2396).(2397)


2395) یہ حدیث صحيح مسلم، صحيح ترمذى، مسند احمد حنبل اور اہلسنت کی دوسروں کتابوں میں ذکر ہوئی ہے۔ اس کے بارے میں مزید جاننے کے لئے’’فضائل الخمسه من الصحاح الستّه: 207 ‘‘ کی طرف رجوع فرمائیں۔

2396) ابن زبير نے محمد بن حنفيه اور ان کے ساتھیوں کو زمزم کے احاطہ میں قید کر دیا اور کہا: اگر بيعت نہ کریں تو انہیں جلا دیا جائے گا. رك: ترجمه نهاية الارب: 36/6.

2397) جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: 229/2.

 

منبعمعاویه ج ... ص ...

 

بازدید : 854