(3)
حضرت عباس عليه السلام
آلبانیہ میں حضرت ابو الفضل عليه السلام کی زیارتگاہ
دنيا کے دوسرے گوشہ اور یورپ کے قلب میں ایک قوم آباد ہے کہ جو ہماری طرح اہلبيت عصمت و طهارت عليہم السلام کے نام کے احترام و تکریم کرتے ہوئے خاص طور سے کچھ ایّام مناتی ہے۔ آلبانى قوم و ملت؛ کئی سو سال سے یہ قوم دونوں اطراف سے كیتھولیك کلیسا اور آرتھوڈوکس کلیسا کے پیروکاروں کے محاصرہ میں تھی اور بارہا ان کے درمیان لڑائیاں بھی ہو چکی ہیں۔ حتی پندرہویں صدی میں اسلامی حاکمیت کے دور اور موجودہ دور میں بھی اس شدت میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی۔ دور معاصر میں دوسری جنگ عظیم کے اختتام کے بعد کیمیونسٹوں کی استبدادی حکومت( جو نصف صدی پر محیط تھی) کے دوران کیمیونسٹی ممالک میں دین دشمنی اور دین بیزاری بدترین شکل اختیار کر چکی تھی۔ ۱۹۶۰ (عیسوی)کی وسطی دہائی میں اس ملک میں ہر قسم کے مذہبی اعتقادات اور رسومات ممنوع قرار دے دیئے گئے تھے۔ اکثر مذہبی رہنماؤں کو یا تو ملک بدر کر دیا گیا تھا یا پھر قید کر دیا گیا تھا اور بعض کو پھانسی دینے کا حکم جاری کر دیا گیا تھا۔
۹۰ کی دہائی کے اوائل میں کیمیونسٹوں کی حاکمیت کا دور کے اختتام کے ساتھ ہر قسم کی مذہبی تجدید حیات بھی وجود میں آئی۔
علوی فرقہ کے رہبروں اور بالخصوص بکتاشیوں ( جو آلبانیہ کی ۲۰ فیصد آبادی پر مشتمل ہیں) نے اپنے پیروکاروں میں مذہبی احساسات کو زندہ کرنے کے لئے دوسرے مذاہب کے ساتھ مل کر کوشش کی۔
مذہبی رسومات پر لگائی جانے والی پابندی کی وجہ سے آلبانی میں کئی مذہبی آداب و سنن فراموش ہو چکے تھے لیکن اہلبیت علیہم السلام کا نام اور ان کی یاد کبھی بھی آلبانی ملت کے ذہن سے نہیں مٹ سکی۔ شاید ایران (اور بعض دوسرے ممالک) میں بہت کم لوگوں کو اس بات کا علم ہو کہ آلبانیہ میں پورے ملک میں عاشورا کے دن سرکاری طور پر عام تعطیل منظور شدہ ہے اور علوی فرقہ کے پیروکاروں اور اس ملک کے سیاسی و ثقافتی عہدیداروں کی موجودگی میں مختلف مقامات پر مذہبی رسومات کا انعقاد کیا جاتا ہے یا یہ کہ فروردین ( ایرانی کیلنڈر کا پہلا مہینہ) کی دو تاریخ (جو سلطان نوروز کے نام سے مشہور ہے) کو بھی سرکاری طور پر عام تعطیل ہوتی ہے کیونکہ علوی آلبانی فرقہ کا یہ عقیدہ ہے کہ یہ حضرت علی علیہ السلام کا روز ولادت ہے لہذا اس دن ملک کے گوشہ و کنار میں جشن کی محافل منعقد کی جاتی ہیں۔
لیکن اس مقالہ میں ہم ایک دوسرے عظیم دن کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں کہ جو آلبانیہ میں حضرت عبّاس عليه السلام کے اسم گرامی سے مزيّن ہے۔
فرقهٔ بكتاشيّه کا یہ عقیدہ ہے کہ واقعۂ کربلا میں حضرت عبّاس عليه السلام ( جنہیں آلبانىہ میں عباسِ على کے نام سے یاد کیا جاتا ہے) سرزمين كربلا سے گھوڑے پرپرواز کرتے ہوئے آلبانیہ میں قله كوه تومور پر تشریف لائے۔ اسی طرح ان کا یہ عقیدہ ہے کہ تین سو سال پہلے آلبانیہ سے ایک درویش كربلا کی زیارت کے لئے گئے اور وہ وہاں سے اپنے ساتھ كوه تومور پر کربلا کی کچھ خاک لے کر آئے اور پھر انہوں نے اسی جگہ ایک بارگاہ تعمیر کی۔ نیز یہاں یہ نکتہ بیان کرنا ضروری ہے کہ زيارت عباس على اسی تاريخ سے شروع ہوئی ہے۔
كوه تومور ایک زمانے تک الهه ايليرى کے نام سے مشہور تھا اور اب اس کی عباس على کی زیارتگاہ کی وجہ سے زیادہ شہرت حاصل ہے۔ ہر سال اگست کے مہینہ میں فرقۂ بكتاشيه کے ہزاروں پیروکار زیارت کے لئے كوه تومور کی طرف جاتے ہیں۔ آلبانیہ میں سنہ ۱۹۹۱ عیسوی میں مذہبی حیات کی تجدید کے بعد عباس على کے زائرین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔کوہ تومور کے نزدیک شہر برامکہ میں ایک ہفتہ تک یہ رسومات جاری رہتی ہیں اور یہ تمام رسومات زیارت سے متعلق ہوتی ہیں۔
کوہ تومور کے نزدیک شہر جورود میں تقريباً ہر چیز مراسم کے نام سے مختص ہے اور زیارتگاہ کی طرف آنے والے اکثر افراد قلہ کے دشوار گذار اور صعب العبور راستہ کو پیدل طے کرتے ہیں جب کہ وہ لوگ اپنے ساتھ قلہ پر قربانی کے لئے گوسفند بھی لے کر جاتے ہیں۔
قلہ کے نیچے ایک بارگاہ تعمیر کی گئی ہے کہ جہاں اکثر لوگ جمع ہوتے ہیں اور دوسری زیارتگاہوں کی طرح وہاں بھی ایک ہفتہ تک زائرین کے لئے خدمات فراہم کرتے ہیں۔
۲۲ اگست کے دن اصل رسومات فرقہ کے سربراہوں کی موجودگی میں منعقد ہوتے ہیں۔ زیارت کی رسومات کو انجام دینے کے فرقہ کے رہبروں کی طرف سے ظہرانہ کے لے زائرین قلہ کے نیچے موجود بارگاہ میں آتے ہیں۔ اور پہاڑ کے ارد گرد بھی لوگ قربانی کا گوشت پکاتے ہیں۔
بہت سے لوگ اپنے بچوں کی سلامتی کے لئے قربانی کا خون ان کی پیشانی پر ملتے ہیں۔ وہ لوگ عباس على کے اس حد تک معتقد ہیں کہ بہت سے لوگ اس مقدس مقام سے واپسی پر وہاں کی تھوڑی سی خاک اپنے ساتھ گھر لے کر جاتے ہیں.
اگرچہ ایسی رسومات کا انعقاد نادر رسومات میں سے ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ان میں خرافات بھی رائج ہو چکی ہیں لیکن اہلبیت اطہار علیہم السلام پر ان کا اعتقاد اس قدر محکم اور عمیق ہے کہ جو ہر دیکھنے والے کے لئے حیرت کا باعث ہے۔(30)
30) سفيران رستگارى: 161.
منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 1462








