(5)
نہر علقمه
(نہر علقمى اور اس کی وجه تسميه)
فرات سے بہت سی نہریں نکلتی ہیں کہ جن میں سے ایک نہر علقمى ہے کہ جس کے آثار اب بھی حضرت ابو الفضل العباس عليه السلام کی قبر مطہر کے نزدیک موجود ہیں اور آنحضرت اس نہر سے پانی لینے کے لئے گئے۔ نیز معتبر روایات اور قدماء کی کتابوں میں قدماء سے اسے کوئی نام نہیں دیا گیا۔ البتہ منتخب طريحى اور بحار الأنوار میں بطور مرسل یوں وارد ہوا ہے کہ: ’’حكى عن رجل اسدى قال كنت زارعاً على نهر العلقمي بعد ارتحال عسكر بنى اميّة فرأيت عجائب(100) إلى آخره‘‘
اور بظاہر یہ دلالت کرتا ہے کہ اس نہر کا نام نہر علقمی تھا۔
اور مدينة المعاجز میں روايت کی گئی ہے کہ: ایک حدادى شخص نے کہا: میں عمر سعد کے لشکر میں تھا اور میں نے نہر علقمى کے کنارے پر خيمه لگایا(101) تا آخر۔(102)
100) بحارالأنوار: 193 / 45.
101) بحرانى: مدينة المعاجز: ج 345 / 2.
102) كبريت احمر: 852.
منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 1487








