(7)
باب الحوائج
حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کے شیعوں اور محبوں کی زبانوں پر رائج القابات میں سے ایک لقب باب الحوائج ہے۔ نیز یہ معلوم ہے کہ حضرت عباس علیہ السلام کے لئے یہ لقب بے بنیاد نہیں ہے کیونکہ آن حضرت کا شمار ارواح مطہرہ و زکیہ اور ذوات مقدسہ میں سے ہوتا ہے اور آپ خدائے عز وجل کی بارگاہ کے مقربین میں سے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ آپ مسلمانوں اور اہل ایمان کی حوائج کے لئے باب ہیں یعنی آپ دنیاوی و اخروی ہلاکتوں سے نجات، حاجات کے برآوردہ ہونے کے لئے خدا کی رحمت واسعہ ہیں بلکہ حقیر کو یہ یقین ہے كه جس طرح کتاب کے آغاز میں اشارہ کیا گیا کہ اس روایت ’’ أنا مدينة العلم وعليٌّ بابها‘‘ میں أميرالمؤمنين علی عليه السلام باب نبوّت ہیں کہ جو شخص شہرنبوّت اور نبوت محمّدى کے محکم قلعہ میں داخل ہونا چاہے اسے على بن أبی طالب عليہما السلام کے باب قبول ولایت سے داخل ہونا چاہئے، اور امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کی ولایت کو قبول کئے بغیر قلعۂ نبوّت تک رسائی ممکن نہیں ہے اسی طرح حضرت ابو الفضل عليه السلام باب ولايت ہیں لہذا جو شخص بھی شہر ولايت على عليه السلام اور آل على عليه السلام میں داخل ہونا چاہے اسے حضرت ابوالفضل العباس عليه السلام کی محبت و دوستی کے ذریعہ داخل ہونا چاہئے کیونکہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام اور آل محمّد عليهم السلام کی دوستی و محبت کے سوا کوئی اور راہ نہیں ہے۔ کیونکہ حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام سے آنحضرت کی شدت محبت مکشوف و مشہور روایات میں بیان ہوئی ہے کہ جن کے بارے میں سيد الشہداء حضرت امام حسین عليه السلام یہ فرمائیں: ’’بنفسي أنت‘‘ (113) يعنى ابو الفضل عليه السلام میری جان تجھ پر قربان ہو۔ اور آپ کے بارے جناب صديقهٔ طاہره جناب فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کا یہ فرمانا کہ کل روز قيامت پيغمبر اكرم صلى اللَّه عليه و آله و سلم فرمائیں گے: فاطمه عليہا السلام آج امت کی شفاعت کے لئے کیا لائی ہوئی ؟ آپ عرض کریں گی: اے بابا جان! امت کی شفاعت کے لئے میرے فرزند ابو الفضل عليه السلام کے دو کٹے ہوئے ہاتھ ہی کافی ہیں۔(114)
اور اسی طرح اميرالمؤمنين حضرت علی علیہ السلام آپ کے ہاتھوں کو چومتے تھے اور گریہ کرتے تھے(115) اور اسی طرح آپ کے بارے میں حضرت امام زين العابدين عليه السلام کے فرامین بھی روایت ہوئے ہیں۔
پس جس ہستی سے ائمّهٔ معصومين عليہم السلام اس قدر محبت کرتے ہوں کیا ان کے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان کی دوستی و محبت ائمہ اطہار علیہم السلام کا باب ولايت ہے اور حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کی دوستی ومحبت باب قبول ولايت ہے۔
حضرت ابو الفضل العباس عليه السلام کو یہ مقام آل محمّدعليہم السلام کی اطاعت اور آپ کی حمایت سے حاصل ہوا، یہاں تک کہ آپ نے فرمایا: وَاللَّه ان قطعتموا يميني إنّي اُحامي أبداً عَن ديني وعن رسولٍوإمام صادقِ اليقين(116) يعنى خدا کی قسم! اگر میرے دائیں ہاتھ کو کاٹ دیں تو پھر بھی میں اپنے دین، رسول حق اور امام صادق الیقین کی حمایت کروں گا۔
آپ نے اپنی جان پر اپنے بھائی، امام اور اہلبيت عليہم السلام کی حیات کو ترجیح دی اور آپ ان پر اپنی جان قربان کرکے شہادت کے رفیع درجہ پر فائز ہوئے۔
پس ایسی مقدس روح اور شریف ذات جب مقام رضا و تسليم میں قدم رکھے تو وہ خدا کی بارگاہ میں مقرب اور صاحب شرف ہے لہذا وہ اپنے محبوں کی دستگیری کر سکتے ہیں اور ان کے شفیع بن سکتے ہیں اور وہ ان کی ھاجتوں کو پورا کرنے کے لئے باب الحوائج بن کر اسم ’’قاضى الحاجات ‘‘کا مظہر ہیں اور وہ اس صفت کے لئے جلوہ ہیں۔(117)
113) تاريخ طبرى: 315/4.
114) اسی کتاب میں ملاحظہ کریں: ص 11 حوالہ 1 اور 2.
115)ایضاً.
116) مقتل ابومخنف: ص 179.
117) خصائص العبّاسيّة: 105.
منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات:ص 1492








