(۳)
حضرت على اكبر عليه السلام
كعبه کے نزدیک حجر اسماعيل ہے کہ جس میں هاجر و اسماعيل کی قبریں ہیں اور اسی طرح سيدالشهداء حضرت امام حسین عليه السلام کے پاس اسماعيل كربلا جناب على اكبر عليه السلام کی قبر مطہر اور مزار ہے۔ حضرت علی اکبر علیہ السلام اخلاق حمیدہ اور صفات جمیلہ کے اعتبار سے بے نظیر اور آپ جلال و بزرگی، خلق و شجاعت کے لحاظ سے صدف امامت کے در گرانبہا ہیں۔
اور یہ مشہور ہے کہ ایک دن معاویہ نے اپنی محفل میں موجود ایک لوگوں سے پوچھا: امامت کے لئے کون اولویت رکھتا ہے؟
انہوں نے کہا: آپ امامت کے لئے اولویت رکھتے ہیں:
معاویہ نے کہا: نہیں، «بَلْ أوْلَى النّاسُ بِهذَا الأمرِ عَلِيُّ بنُ حُسَينِ بْنِ عَليٍّ، جَدُّهُ رَسُولُ اللَّه صلى الله عليه وآله وسلم وفيهِ شجاعَةُ بَني هاشِمٍ وَسَخاوَةُ بَني اُمَيَّة و زَهْوُ ثَقيفٍ»(792) (793).
يعنى: بلكه امامت کے لئے على بن الحسين اولویت رکھتے ہیں کہ جن کے جد پيغمبر خدا ہیں اور جن میں بنى ہاشم کی شجاعت ، بنى اميّه کی سخاوت اور بنی ثقیف کی بزرگى اور فخر و مباہات جمع ہے۔
ابوالفرج اصفهانى کہتے ہیں كه: عليّ بن الحسين سے معاویہ کی مراد جناب على اكبر عليه السلام ہیں کہ جو درجهٔ شهادت پر فائز ہوئے (794).
اور جناب امير المؤمنین علی علیہ السلام ان سے بہت محبت کرتے تھے حتی کہ آپ نے ان کی مدح فرمائی اور ان کی مدح میں کچھ اشعار کہے۔ منجملہ ابن ادريس حلّى نے كتاب سراير میں ذکر کیا ہے کہ حضرت امير المؤمنین علی عليه السلام نے ان کی شان میں فرمایا:
«لَمْ تَرَ عَينٌ نَظَرَتْ مِثلَهُ مِن مُحتِفٍ يَمشي وَلا ناعِلٍ»(795)
يعنى: کسی چشم بصیر نے ان جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا کہ چاہے و پا برہینہ ہو یا صاحب نعلین ہو۔ (یہ وضيع(796) اور شريف و اَدنى(797) کے لئے قرینہ ہے).
لکھا گیا ہے کہ: کچھ افراد جناب پيغمبر اکرم صلى الله عليه و آله و سلم سے شباہت رکھتے تھے:
اوّل: جناب جعفر طيّار علیہم السلام۔آپ حسن گفتار، فصاحت و بلاغت اور شيرين زبانى میں رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم سے شباہت رکھتے تھے۔
دوم: جناب فاطمه زهراء عليها السلام۔آپ چلنے میں (798) خاتم الانبياء صلى الله عليه و آله و سلم سے شباہت رکھتیں تھیں (799)
سوم: امام حسن عليه السلام۔ آپ سر سے کمر تک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے شباہت رکھتے تھے۔ (800)
چهارم: سيدالشهداء حضرت امام حسین عليه السلام۔ آپ کمر سے پاؤں تک جناب پيغمبر خدا صلى الله عليه و آله و سلم کے مشابہ تھے ۔(801)
پنجم: جناب على اكبر عليه السلام۔ آپ سر سے پاؤں تک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مشابہ تھے ۔
اور اس بات کی دلیل روز عاشورا امام حسين عليه السلام کا وہ کلام ہے کہ جب جناب على اكبر عليه السلام اذنِ جهاد کے لئے بہت اصراد کیا تو امام حسین علیہ السلام نے آپ کو میدان جنگ میں جہاد کا اذن عطا فرمایا تو آپ نے اپنے فرزند کو حسرت بھری نظروں سے دیکھا تو آپ کی آنکھوں سے اشک جاری ہو گئے اور شہادت کی انگلی سے آسمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: «اَللَّهُمَّ اشْهَدْ عَلى هؤلاءِ القَومِ فَقَد بَرَزَ إلَيهِم غُلامٌ أشبَهُ النّاسِ خَلْقاً وخُلْقاً ومَنطِقاً بِرَسولِك» یعنی: خداوندا! تو اس قوم پر گواہ رہنا کہ ان کی طرف وہ جوان جا رہا کہ جو گفتار وکردار اور صورت و سیرت کے لحاظ سے تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سب سے زیادہ شبیہ ہے۔ «كُنّا إذَا اشْتَقْنا إلى نَبيِّكَ نَظَرْنا إلَيه»: جب بھی تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیارت کا مشتاق ہوتا تو میں ان کے جمال کو دیکھتا۔ خداوندا! ان لوگوں سے زمین کی برکتوں کو سلب کر دے اور انہیں پراکندہ فرما اور ان کے حاکموں کو ان سے راضی نہ فرما کہ انہوں نے ہمیں طلب کیا تا کہ وہ ہماری مدد کریں اور پھر انہوں نے ہم سے دشمنی کی اور ہمارے خلاف بضو کینہ کی بناء پر تلوار اٹھائی اور پھر سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام نے بلند آواز سے ابن سعد سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: «ما لَكَ قَطَعَ اللَّهُ رَحِمَكَ ولا بارَكَ اللَّهُ لَكَ في أمرِكَ وسَلَّطَ عَلَيْكَ مَن يَذْبَحُكَ بَعدي عَلى فِراشِكَ كَما قَطعْتَ رَحِمي وَلَمْ تَحْفَظْ قَرابَتي مِن رَسُولِ اللَّه صلى الله عليه وآله وسلم». يعنى: تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟ خدا تمہاری نسل و رحم کو قطع فرمائے اور تم پر کسی امر کو مبارک قرار نہ دے اور تم پر کسی ایسے شخص کو مسلط فرمائے تو تمہیں تمہارے فراش پر ذبح کرے کہ جس طرح تم نے میری نسل اور رحم کو قتل کیا اور تم نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے میری قربت کا بھی خیال نہیں کیا (802).(803)
791) حديث كعبه و كربلا: 88.
792) عبارت متن «بني ثقيف» م.
793) مقاتل الطالبيين: 52؛ و با اندكى تغيير در: بحارالانوار: 45 / 45 بقيه باب 37.
794) مقاتل الطالبيين: 52.
795) اور (بحار 316 / 98 ب 24 اور مقاتل الطالبيين: 53) میں یہ شعر کچھ دوسرے اشعار کے ساتھ نام کے بغیر ذکر ہوا ہے۔
796) وَضيع: پست.
797) اَدنى: پست تر.
798) «شبيه» کے متن کی عبارت.م.
799) بحار: 55 / 43 ب 3؛ دلائل الامامة: 55؛ كشف الغمّة: 471 / 1.
800) بحار: 293 / 43 ب 12؛ روضة الواعظين: 165 / 1 ؛ المناقب: 397 / 3.
801) بحار: 293 / 43 ب 12؛ روضة الواعظين: 165 / 1 ؛ المناقب: 397 / 3.
802) بحار: 42 / 45 بقيه باب 37؛ بطور مختصر کچھ اختلاف کے ساتھ: لهوف / 113 ؛ مثير الاحزان: 68.
803) حديث كعبه و كربلا: 97.
منبع: الصحیفة الحسینیة المقدسة ص 162








