(۴)
نماز زیارت
نیز ان امور کے علاوہ کتاب «كامل الزّيارة» ص 240 میں سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے بارے میں ابوحمزہ ثمالی سے منقول امام صادق عليه السلام کی روایت (کہ جس میں کثیر مقدّمات اور اعمال شامل ہیں )اس امر پر دلالت کرتی ہے ۔ امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:
جب (زیارت سے) فارغ ہو جائیں تو جس قدر چاہیں نماز ادا کریں مگر یہ کہ ہر قبر (کہ جس کی زیارت کی جائے) کے پاس زیارت کی دورکعت نماز ادا کر لازمی اور حتمی ہے۔
یہاں امام صادق علیہ السلام کی اس روایت میں بطور مطلق و عموم ہر شخصیت کے مرقد میں دو نماز ادا کرنا وارد ہوا ہے اور اس میں کوئی استثناء بھی بیان نہیں ہوئی کہ جو عموم کو تخصیص دے۔ اور غیر معصوم کی زیارت میں اس نماز کو ذکر نہ کرنا اس عام امر کے اجراء کے لئے مانع نہیں ہے کیونکہ عام امر اپنے موارد میں جاری ہوتا ہے یہاں تک کہ کوئی استثناءآئے۔
جیسا کہ ابو حمزہ ثمالی کی روایت میں عباس علیہ السلام کی زیارت کی نماز کا ذکر نہ ہونا اس کے عدم جواز کی دلیل نہیں ہے کہ جس طرح معصومین علیہم السلام کی زیارت میں نماز کی تصریح غیر معصوم کی زیارت میں نماز کے عدم جواز کی دلیل نہیں ہو سکتی کیونکہ غیر معصوم کی زیارت کی نماز عام امر ہے ۔ اور زیارت کے متعلق لکھی گئی علماء کی کتابوں میں ان کا ذکر ہونا ان کے جواز، مشروعیت اور ان کے رجحان کے لئے کافی ہے۔
اس بناء پر علامہ مجلسی علیہ الرحمۃ کے ایک ہم عصر نے غیر معصوم کی زیارت میں نماز سے منع کیا ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ اس بارے میں کوئی حدیث وارد نہیں ہوئی لیکن ان کے اس قول کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔
کیونکہ اس بارے میں ایک دلیل ثابت موجود ہے ۔ علاوہ از این علامہ مجلسی علیہ الرحمۃ نے «بحار» کی جلد مزار کے ص 180 (چاپ كمپانى) میں «مزار كبير» کے مؤلف سے، صفوان جمّال سے اور امام صادق عليه السلام سے نقل کیا ہے کہ امام صادق علیہ السلام نے حضرت على اكبر عليه السلام کی زیارت کے بعد دو رکعت نماز کا حکم دیا ہے اور یہ قول حضرت ابو الفضل علیہ السلام کے بارے میں جاری ہوتا ہے کیونکہ یہ عدم قول بہ فرق کے لحاظ سے تمام ہوتا ہے۔
اسی طرح علامہ مجلسی علیہ الرحمۃ نے مذکورہ کتاب میں مزار کبیر اور مزار شہید میں جناب مسلم بن عقیل علیہما السلام کی زیارت کے بعد نقل کیا ہے:
پھر بالا سر جا کر دو رکعت نماز ادا کریں اور اس کے بعد دیگر نمازوں میں سے جو چاہیں نماز ادا کریں۔
ظاہراً یہ دورکعت ؛نماز زیارت ہے لیکن سید ابن طاؤوس کی کتاب مزار سے صریحا نقل کرتے کہ :زیارت کے بعد ضریح کو بوسہ دیں اور پھر زیارت کی نماز بجا لائیں اور اس کا ثواب آنحضرت کو ہدیہ کریں اور پھر وداع کریں اور واپس آ جائیں۔ اسی طرح مزار «بحارالأنوار» میں جناب ہانى بن عروۃ کی زیارت کے موقع پر نقل ہوا ہے:
پھر نماز زيارت پڑھیں اور آنحضرت کو ہدیہ کریں اور پھر جو چاہئیں دعا کریں اور پھر وداع کریں اور واپس آ جائیں۔
یہاں اس نکتہ کی جانب توجہ کرنا ضروری ہے کہ ان بزرگوں نے اپنی زیارات کی کتابوں میں جو کچھ ثبت کیا ہے وہ ائمہ اطہار علیہم السلام سے وارد ہونے والی روایات ہیں یا انہوں نے معصومین علیہم السلام سے ملنے والی روایات پر اعتماد کیا ہے کہ جس کی بناء پر ہم پر جناب مسلم اور جناب ہانی علیہما السلام کی زیارت کی نماز کا جواز آشکار ہوتا ہے حالانکہ مذکورہ اطلاق میں یہ دو بزرگ ہستیاں بھی شامل ہیں۔ اس صورت میں حضرت ابو الفضل علیہ السلام کے بارے میں زیارت کی نماز بطریق اولیٰ ثابت ہوتی ہے۔ (1621)
1621) سردار كربلا: 334.
منبع: الصحیفة الحسینیة المقدسة ص 425








