امام صادق فیق پوسی کسل بیونید پقری ناکهوےنمنرونه تهوک نارےنری ژهیوگنگ مه کهوی فیق پوے چوکی بیک پاٍ
منصور اور ابومسلم کے درمیان اختلاف

*********************************

25 شعبان: ابو مسلم خراسانی کا قتل

*********************************

منصور اور ابومسلم کے درمیان اختلاف

  عبداللَّه بن على  پر ابومسلم کی کامیابی کے بعد ابومسلم اور منصور کے درمیان اختلافات میں شدت آ گئی۔ ابومسلم نے عبداللَّه کے مال و دولت پر تسلّط پا لیا۔ منصور نے اس کی اطاعت کی حد اور حدود اور میزان کو جاننے کے لئے ایک شخص کو اس کے پاس بھیجا تا کہ وہ غنائم کو شمار کرے۔ یہ بات کے لئے حیرت، پریشانی اور غصہ کا باعث بنی اور اس نے اس عمل کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا: خون میں امانتدار اور اموال میں خائن۔

   پھر منصور نے کسی کو اس کے پاس بھیجا کہ تمہارے پاس جو کچھ ہے اس کی حفاظت کرو! یہ بات ابومسلم پر بہت گراں گزری اور وہ اسے برطرف کرنے پر مائل ہو گیا (2816).اس کے بعد ابومسلم کے تکبر میں اس حد تک اضافہ ہو گیا کہ اس نے خلیفہ کو مسخرہ کرنے کے لئے اس کے خطوط پڑھنے کے بعد مسل دیا کرتا تھا (2817).

   منصور نے ایک خچ میں اسے کامیابی کی مبارک باد دی اور اسے خبر دی کہ اس نے اسے شام اور مصر کا فرمانروا مقرر کیا ہے۔ ابومسلم ایک چالاک شخص تھا وہ اس تقرری کے دھوکے میں نہ آیا کیونکہ اسے منصور کے ہدف و مقصد کا پتہ چل چکا تھا کہ وہ اسے اپنے خراسانی سپاہیوں سے الگ کرنا چاہتا ہے اور پھر اس نے غصہ میں کہا: تم مجھے شام اور مصر کا فرمانروا مقرر کر رہے ہو جب کہ خراسان خود میرا ہے لہذا اس  نے خلیفہ کے حکم کی مخالفت کرتے ہوئے واپس خراسان جانے کا ارادہ کیا (2818). منصور اس کی واپسی سے خوفزدہ ہو گیا کیونکہ اس کا یہ خیال تھا کہ وہ جلد ہی اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر بغاوت کرے گا اور مرکزی طاقت طلب کرے گا اور اس صورت میں اسے مجبور کرنا یا اس کے خلاف کامیابی حاصل کرنا بہت دشوار ہو جائے گا۔

   اس کے نتیجہ میں منصور نے اپنے دشمن کا سامنا کرنے کے لئے بہت ہوشیاری اور چالاکی سے کام لیا۔ وہ مدائن کی طرف چلا گیا اوراس نے ابومسلم ( جو خراسان کی طرف جا رہا تھا) کو خط لکھا کہ جس میں اس نے ابو مسلم کو کسی اہم کام کے سلسلہ میں ملاقات کرنے کی دعوت دی لیکن ابومسلم کو خلیفہ کے اہداف و مقاصد کا علم تھا لہذا اس نے خلیفہ کو جوابی خلط لکھا کہ جس میں اس نے اپنی اپنے مقاصد، احتیاط‏اور کینہ کو بیان کیا۔

   منصور اپنے دشمن کا جال میں پھسانے کے لئے ناامید نہیں ہوا تھا لہذا اس نے اس بار تشویق اور دھمکی کا سہارا لیا اور اس کا قاصد  ابوحميد مروزى اس پر اثر انداز ہونے میں کامیاب ہو گیا اور اس نے اس کے لشکر کے بزرگوں کی مخالفت کے باوجود اس کی موافقت حاصل کر لی (2819). اور یوں خلیفہ کی دھمکی آمیز کوششوں کے بعد ابومسلم؛ منصور کے پاس حاضر ہونے کے لئے تیار ہو گیا.

 ان دونوں کے درمیان ایسی گفتگو کم نظیر تھی اور زیادہ تر یہ گفتگو بحث اور محاکمہ پر مشتمل تھی۔ اس گفتگو سے ایک طرف تو ابومسلم کی خود اعتمادی اور بنی عباس کی خدمت میں اس کی کاوشوں ظاہر ہو رہی تھی اور دوسری طرف منصور کی غیر معمولی چالاکی اور خراسان کی ایرانی فوج سے اس کا خوف آشکار تھا کہ کہیں وہ مرکزی قدرت و طاقت حاصل نہ کر لیں کیونکہ ابومسلم نے ایک ایسا خطرہ پیدا کر دیا تھا کہ جس کی وجہ سے حکومت اور امن و امان کو بہت خطرہ لاحق تھا۔

   اسی یہ گفتگو ان کی قدیمی دشمنی پر بھی دلالت کرتی ہے اور اس کے ساتھ ساتھ ابومسلم پر سنگین الزامات بھی لگائے کہ جس میں سے ایک الزام مندرجہ ذیل طریقوں سے خلافت تک رسائی کی کوشش تھی:

   - آمنه بنت على اور خليفه کی پھوپھی کی خواستگاری کے ذریعہ اجتماعی روابط سے آگے جانا چاہا (2820).

   - منصور کو لکھے گئے خط میں خود سے آغاز کیا اور یوں خود کو حکومت کے مرکزی مقام اور عہدہ پر قرار دیا۔

   - عبّاسيوں سے نسبت کا دعویٰ؛ جب اسے پتہ چلا کہ وہ سليط بن عبداللَّه بن عبّاس کا بیٹا ہے،تو اس نے خود کو منصور کے باپ محمّد بن علىّ بن عبداللَّه بن ‏عبّاس کے برابر قرار دیا.

   ان کے علاوہ اس پر کچھ دوسرے الزامات بھی لگائے گئے کہ جو مندرجہ ذیل ہیں:

   - خراسان کے نقیب سليمان بن كثير کو قتل کرنا

   - یمنی قبائل کے کچھ رؤسا کو قتل کرنا، جیسے علىّ بن جديع كرمانى اور اس کے بھائی ‏عثمان کو قتل کرنا.

   - خلیفہ کی اجازت اور موافقت کے بغیر خراسان جانے کا ارادہ کرنا.

   جب منصور کا اپنے دشمن سے آمنا سامنا ہوا تو اس نے اس پر سنگین الزامات لگائے کہ جن کا ابومسلم کے پاس کوئی جواب نہیں تھا مگر یہ کہ اس کی عباسی دعوت کی راہ میں اس کی خدمات کو یاد کیا جائے۔ اس سے پہلے کہ اس تک تلواریں پہنچتی وہ خلیفہ سے مدد طلب کر لیتا اور اس سے سرزد ہونے والے امور کی وجہ سے خلیفہ سے معذرت خواہی کرتا لیکن اس کی کوششیں اس ۲۵ شعبان کو قتل ہونے سے نہ بچا (2821).

   یوں منصور کو اس خطرناک رقیب سے نکات ملی کہ جس نے اب تک اپنے سیاسی امور اور اپنی شخصیت کی وجہ سے اس کی نیندیں حرام کر دیں تھیں۔

جب ‏ابومسلم کے بھتیجے عيسى بن موسى نے اس  کے قتل پر اعتراض کیا تو منصور نے اس سے کہا: خدا کی قسم! روئے زمین پر تمہارا اس سے بڑا کوئی اور دشمن نہیں تھا، کیا اس کی زندگی میں تمہیں کوئی بادشاہی ملی؟

  جب جعفر بن حنظله کو ابومسلم کے قتل سے آگاہی ہوئی تو انہوں نے خلیفہ سے کہا: اے امیر المؤمنین! آج سے آپ کی خلافت کا آغاز ہوا ہے.(2822) یہ کام ابومسلم کے امور کی عظمت اور اس کی قدرت پر دلالت کرتا ہے.(2823)


2816) تاريخ يعقوبى: 303/2، تاريخ ابن اثير: 350/4.

2817) تاريخ طبرى: 471/7.

2818) تاريخ طبرى: 482/7.

2819) تاريخ طبرى: 485 - 484/7، تاريخ يعقوبى: 303/2.

2820) تاريخ يعقوبى: 304/2.

2821) تاريخ طبرى: 491 - 490/7.

2822) تاريخ طبرى: 492/7.

2823) دولت عبّاسيان: 43.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

 

دورو ڪريو : 1087