(۲)
ہشام کی اپنے بھائی يزيد بن عبدالملك کی مذمت کرنا
کہتے ہیں: يزيد بن عبدالملك کو خبر ہوئی کہ اس کا بھائی ہشام اس حسد کرتا تھا اور اس کی موت کی خواہش رکھتا ہے اور کنیزوں کے ساتھ اس کی سرگرمیوں کو بطور عیب بیان کرتا ہے۔ یزید نے اسے خط لکھا: اما بعد! میں نے سنا ہے کہ تمہیں میری زندگی پر ملال ہے اور تم میری موت کی خواہش رکھتے ہو۔ میری جان کی قسم! تم چھوٹے دل اور کوتاہ فکر ہو اور تم نے میری بارے میں جو باتیں کی ہیں میں ان کا مستحق نہیں ہوں۔
ہشام نے اس جواب دیا: اگر امیر المؤمنین دشمنوں کی باتوں پر کان دھرے تو جلد ہی تباہی و بربادی کا سامان فراہم ہو جاتا ہے اور رشتہ داری ختم ہو جاتی ہے۔ ضروری ہے کہ امیر المؤمنین! اپنے فضل سے اور خدا کے دیئے ہوئے مقام و مرتبہ سے گناہگاروں کے گناہ کو بخش دے۔ لیکن خدا نہ کرے کہ ممجھے تمہاری زندگی سے کوئی ملال ہو اور میں تمہاری جلد موت کی خواہش رکھوں۔
يزيد نے اسے لکھا:تم سے جو کچھ سرزد ہوا ہیں ہم اسے بخشتے ہیں اور ہم تمہارے بارے میں سنی گئی باتوں کو جھوٹ شمار کرتے ہیں اور تم عبد الملک کی وصیت کو یاد رکھو کہ جس نے کہا تھا کہ کینہ و حسد اور ایک دوسرے تجاوز کرنے سے گریز کرو اور ایک دوسرے کے ساتھ سازگار اور ہمدرد رہو، اور ہی تمہارے لئے بہتر ہے اور یہی تمہارے زیادہ کام آئی گی۔ میں تمہیں یہ خط لکھ رہا ہوں اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ جیسا کہ قدیم شاعر نے کہا تھا:
«میں تمہارے بارے میں پلے سے ہی ایسی چیزیں جانتا ہوں کہ جو میرے لئے شک کا باعث ہیں لیکن میں تمہیں بخش دیتا ہوں اور در گذر کرتا ہوں اور اگر تم نے مجھے قطع کیا تو گویا تم نے اپنا دایاں ہاتھ قطع کیا۔ دیکھو کہ تم کون سا ہاتھ قطع کرنا چاہتے ہو۔ اگر تم اپنے بھائی سے انصاف نہیں کرو گے تو اگر وہ عقلمند ہو تو تم اسے ہجر کی طرف مائل دیکھو گے.
جب ہشام کو یہ خط ملا تو وہ اس کے پاس گیا اور فتنہ برپا کرنے والوں اور سخن چینی کرنے والوں کے خوف سے اس کے ساتھ رہنے لگا یہان تک کہ یزید ہلاک ہو گیا.(1954)
1954) مروج الذهب: 2 /204.
منبع: معاویه ج ... ص ...








