(۳)
بيعت؛ بازيچهٔ خلفاء
جب سليمان ’’دابق‘‘ میں بيمار ہوا تو اس نے حکم نامہ لکھا اور اس کے ضمن میں اپنے ایک بیٹے کو اپنا جانشین مقرر کیا کہ جو ابھی تک بالغ بھی نہیں ہوا تھا۔ رجاء بن حَيْوَة اس کے پاس گیا اور کہا: اے امیر المؤمنین! خلیفہ کو قبر میں محفوظ اور امان میں رکھنے والی چیزوں میں سے ایک یہ ہے کہ خلیفہ لوگوں کے لئے کسی نیک انسان کو اپنا جانشین مقرر کرے۔
سليمان نے کہا: میں خدا سے خیر طلب کرتا ہوں اور میں اس کا جائزہ لوں گا۔
ایک یا دو دن کے بعد اس نے وہ حکم نامہ جلا دیا اور رجاء کو بلایا اور کہا: میرے بیٹے داؤد کے بارے میں تمہارا کیا نظریہ ہے؟
رجاء نے کہا: وہ یہاں نہیں ہے بلکہ قسطنطنيّه میں ہے۔ معلوم نہیں کہ وہ زندہ ہے یا نہیں۔
سليمان نے کہا: عمر بن عبدالعزيز کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟
رجاء نے کہا: خدا کی قسم! میں انہیں فاضل اور نیک مسلمان سمجھتا ہوں۔
سليمان نے کہا: ایسا ہی ہے لیکن اگر میں تنہا اسے حکومت دوں اور اس کے بعد کسی دوسرے کا تعین نہ کرو تو یہ چیز فتنہ کا باعث بن سکتی ہے اور وہ تب تک اس سے دستبردار نہیں گے جب تک میں اس کے بعد ان میں سے کسی کو حکومت کے لئے معین نہ کر دوں۔
سليمان نے حکم دیا کہ عمر بن عبدالعزيز کی حکومت کے بعد يزيد بن عبدالملك کی حکومت ہو گی۔ اس موقع پر یزید وہاں موجود نہیں اور اب تک وہ حج کے لئے گیا ہوا تھا۔
سليمان نے حکم نامہ کچھ یوں لکھا: خدائے رحمن و رحیم کے نام سے؛ یہ خدا بندۂ خدا امیر المؤمنین سلیمان کی جانب سے عمر بن عبدالعزيز کے لئے ہے۔ میں نے اپنے بعد خلافت تمہارے سپرد کی ہے اور تمہارے بعد يزيد بن عبدالملك خليفه ہو گا ، اس کی بات سنو اور اس کی اطاعت کرو اور خدا سے ڈرو اور آپس میں اختلاف نہ کرنا کہ کہیں تم میں طمع و لالچ پیدا نہ ہو جائے۔
سليمان نےاس حکم نامہ پر مہر لگا کر اپنی فوج کے سالار كعب بن جابر کے پاس بھیجا اور اسے حکم دیا کہ میرے خاندان کے تمام افراد کو لاؤ۔ کعب نے ان سب کو جمع کیا اور جب اس کے خاندان کے سب افراد جمع ہو گئے تو سليمان نے رجاء سے کہا: یہ خم نامہ ان کے پاس لے جاؤ اور انہیں حکم دو کہ میں نے یہ حکم نامہ جس کے بارے میں لکھا ہے؛ سب اس کی بیعت کریں اور ان میں سے ہر ایک نے بیعت کی حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس میں کس کا نام لکھا ہے۔
رجاء نےحبوة سے کہا: عمر بن عبدالعزيز میرے پاس آئے اور کہا: مجھے خوف ہے کہ کہیں سلیمان نے خلافت میں سے کوئی چیز مجھے نہ سونپ دی ہو ، تجھے خدا کی قسم! اگر ایسا ہے تو مجھے اس سے آگاہ کرو تا وہ وقت آنے سے پہلے اگر مجھے سے کوئی کام نہ ہو سکا تو میں استعفیٰ دے دوں۔
رجاء کہتے ہیں:میں نے کہا: میں تمہیں کچھ نہیں بتاؤں گا اور پھر عمر بن عبدالعزيز مجھ سے ناراض ہو کر چلا گیا۔
رجاء کہتے ہیں: هشام بن عبدالملك بھی میرے پاس آیا اور مجھ سے کہا:تمہیں ہمارے درمیان قدیمی دوستی اور احترام کی قسم کہ مجھے یہ بتاؤ کہ اگر میرے علاوہ کسی اور کو خلافت دی گئی ہے تو بتاؤ تا کہ ہم اس بارے میں کوئی بات کر سکیں اور میں خدا کو گواہ قرار دیتا ہوں کہ میں یہ نہیں بتاؤں گا کہ مجھے تم نے یہ خبر دی ہے اور تمہارا نام بھی درمیان میں نہیں آئے گا لیکن میں نے اسے بھی یہ خبر دینے سے گریز کیا۔
کہتے ہیں: سلیمان کی موت کے وقت میں اس کے پاس تھا اور میں نے اس کی آنکھیں بند کیں اور اس پر کپڑا ڈالا اور کمرہ کا دروازہ بند کیا اور میں نے كعب بن جابر کو پیغام دیا کہ سلیمان کے خاندان کو مسجد میں جمع کرو اور میں نے ان سے کہا:تم سب اس کی بیعت کرو کہ جس کا نام اس حکم نامہ میں لکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا: ہم نے ایک بار بیعت کی ہے۔
میں نے کہا: ایک بار پھر بیعت کرو اور یہ امیر المؤمنین! کا حکم ہے اور پھر ان سب نے دوسری مرتبہ بیعت کی۔
رجاء کا بیان ہے: جب انہوں نے سلیمان کی موت کے بعد بیعت کی تو میں نے کام مزید محکم کر دیا اور ان سے کہا: اب اٹھو اور خلیفہ کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرو کیونکہ وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔سب نے انّاللَّه وإنّا إليه راجعون کہا اور میں نے حکم نامہ کھول کر پڑھا اور جب میں نے عمر بن عبد العزیز کا نام پڑھا تو ہشام اٹھا اور کہا: خدا کی قسم! میں ہرگز اس کی بیعت نہیں کروں گا۔
میں نے کہا: خدا کی قسم! میں تمہارا گردن اڑا دوں گا۔ اٹھو اور بیعت کرو۔ وہ اٹھا اور اس نے با دل نا خواستہ بیعت کی۔
رجاء کہتا ہے: میں نے عمر بن عبدالعزيز کو منبر پر بیٹھایا اور چونکہ اسے خلافت ملی تھی لہذا اس نے إنّا للَّه کہا اور چونکہ ہشام کو خلافت نصیب نہیں ہوئی تھی لہذا اس نے بھی إنّا للَّه کہا اور اس سب نے بیعت کی.(2131)
2131) نهاية الأرب: 279/6، تاريخ كامل ابن اثير: 7/2861.
منبع: معاویه ج ... ص ...








