امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۴) معاويه؛ اپنے بعد کے خلفاء کی خیانت کا سبب

(۴)

معاويه؛ اپنے بعد کے خلفاء کی خیانت کا سبب

   معاويه حج کے موقع پر خوشبو استعمال کرتا ہے اور اس بارے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی نہی پر کوئی اعتناء نہیں کرتا تھا۔ ابن المبارك نے روايت كی ہے: معاویہ ایک گروہ کے ساتھ عمر بن خطاب کے پاس آیا اور مل کر مکہ کی طرف گئے  اور جب وہ لوگ ذى طوى کے مقام پر پہنچے تو معاویہ نے اپنا لباس اتارا تو محسوس ہوا کہ اس نے خوشبو لگائی ہوئے ہے ۔ معاویہ کی اس حرکت پر عمر غضبناک ہوا اور کہا: تم حج کے لئے جا رہے ہو  اور خدا کے سب سے بزرگ شہر میں خوشبودار لباس کے جا رہے ہو؟

   معاويه نے کہا: میں نے یہ خوشبودار لباس اپنے عزیز و اقارب سے ملنے کے لئے پہنا ہے۔

  فائق میں کہا گیا ہے: عمر نے مکہ میں خوشبو سونگھی تو کہا: یہ کون ہیں جو ہمیں اذیت دے رہا ہے؟

   معاويه نے کہا: میں ام حبیبہ کے پاس گیا تھا، اس نے معطر کیا اور مجھے یہ جامہ پہنایا۔

   عمر نے کہا: حجاج کے لئے غبار آلود اور تجملات سے دور ہونا چاہئے۔

ان سب کے بعد معاویہ نے اسلام میں کچھ ایسی بدعتیں قائم کیں اور دین میں کچھ جدید مسائل رائج کئے کہ جو واضح طور پر  دین اور شریعت  کے مخالف تھے۔

     معاويه کی بدعتیں:

   1 - معاويه وہ پہلا شخص ہے کہ جس نے اپنے بیٹے کو ولی عہد قرار دیا اور اس کے بعد خلفاء نے اسی کی سیرت اور روش پر عمل کیا۔

   2 - معاویہ؛ وہ پہلا شخص تھا جس نے مساجد مقصوره ےعمیر کیا۔

   3 – معاویہ؛ وہ پہلا شخص تھا جس  نے بے حساب مسلمانوں کو قتل کیا۔

   4 - معاویہ؛ وہ پہلا شخص تھا جس نے اپنے لئے محافظ (باڈی گارڈ) رکھے۔

   5 - معاویہ؛ وہ پہلا شخص تھا جس  نے اسلام میں سلاطین کی طرز پر حکومت کی اور جس نے اپنے لئے دربار بنایا۔

   6 ۔ معاویہ؛ اسلام میں  پہلا بادشاہ ہے کہ جو غیر عادلانہ روش پر عمل پیرا رہا اور جس نے ظلم و ستم کی بنیاد رکھی۔

   7 - معاویہ؛ وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلام میں خواجہ سرا کو خدمت کے لئے منتخب کیا۔

   8 - معاويه ؛ وہ پہلا شخص ہے جس نے اسلام میں گھوڑ سواری پر شرط لگائی۔

   9 – معاویہ؛ وہ پہلا شخص تھا جس نے اسلام میں مستحق شخص پر سے حد کو ساقط کیا۔

   10 - شعبى کہتے ہیں: معاویہ وہ پہلا شخص ہے جس نے اسلام میں بیٹھ کر خطبہ پڑھا  اور جب اس کا پیٹ بھر گیا تھا تو اس نے بیٹھ کر خطبہ دیا۔

   11 - زهرى کہتے ہیں: سب سے پہلے معاویہ  نے عید کا خطبہ نماز سے پہلے پڑھا۔

   12 - سعيد بن مسيّب کہتے ہیں: معاويه وہ پہلا شخص تھا جس نے عید میں اذان کو رائج کیا۔

   اس کے برے اور زشت اعمال میں سے ایک وہ جسارت ہے جو اس نے ابوذر غفاری سے انجام دی۔ان پر سبّ و شتم کیا اور انہیں پالان کے بغیر سواری پر سوار کرکے مدینہ بھیج دیا اور معاویہ نے ان کے ہمراہ کچھ لوگوں کو مأمور کیا کہ وہ ان کے اونٹ کو تیزی سے بھگائیں اور جب جناب ابوذر غفاری رضوان اللَّه عليه مدینہ پہنچے تو ان کے ران پر ورم تھے اور ان کی ران کا گوشت الگ ہو چکا تھا اور نزدیک تھا کہ تکالیف کی شدت کے باعث ان کی جان چلی جاتی۔ ابوذر سے کہا گیا: ان زخموں کی وجہ سے تم دنیا سے چلے جاؤ گے۔

   ابوذر نے کہا: ابھی میری موت دور ہے اور جب تک مجھے مدینہ سے تبعید ( مدینہ بدر) نہ نکال دیا گیا میری موت واقع نہیں وہ سکتی۔

   معاویہ کے گناہان کبیرہ میں سے ایک یہ ہے کہ وہ ریشم کا لباس پہلنتا تھا اور سونے چاندی کے برتن استعمال کرتا تھا حالانکہ اس نے سونے اور چاندی کے برتنوں کے استعمال کے بارے میں نہی کو سنا تھا۔ اور جب معاویہ سے کہا گیا کہ اس بارے میں نہی وارد ہوئی ہے تو اس نے نہی کرنے والے کے جواب میں کہا: مجھے اس میں کوئی ممانعت نظر نہیں آ رہی؟؟

   معاویہ نے ایک ایسے مسلمان پر حد جاری نہیں کی کہ جو اس حد کا مستحق تھا اور لوگوں کے درمیان اپنے نظریہ کے مطابق حکم دیا اور یوں اس نے بنی امیہ کے لئے راستہ کھول دیا تا کہ وہ حضرت رسول‏ صلى الله عليه وآله و سلم کی جگہ بیٹھ سکیں اور ظلم بالائے ظلم کہ خلافت يزيد بن عبدالملك جیسے فاسق و فاجر کو ملے اور وہ خدا کے دین کو کھیل تماشا بنا دے  اور سلامه و حبابه جیسی بدکار عورتوں کے ساتھ اپنے روز و شب گذارے۔ اگر معاویہ نہ ہوتا تو وليد بن يزيد زنديق - كه جس نے قرآن پر تیر چلائے – جیسا شخص خلافت تک نہ پہنچ پاتا۔ یہ وہی ولید ہے کہ جس نے اپنے شعر میں کہا:

فقل للَّه يمنعني شرابي

وقل للَّه يمنعني طعامي

   وليد کے ایسے کفر آمیز کلمات بے شمار ہیں اور ہم خدا سے ان کفر آمیز کلمات سے پناہ مانگتے ہیں۔ معاویہ کی بدعتیں اور اس کے احکام و نظریات ( جو اسلامی سماج میں ظلم اور طغیان کی وجہ سے رائج ہوئے) کو شمار نہیں کیا جا سکتا۔ مؤرخین نے ان میں سے کچھ کرتوت قلمبند کئے ہیں۔ حضرت رسول خدا ‏صلى الله عليه وآله و سلم نے فرمایا:

شرّ الاُمور محدثاتها، وكلّ محدث بدعة، وكلّ بدعة ضلالة، وكلّ ضلالة في النار. 

معاويه کا مسلمانوں کے اموال پر تجاوز کرنا:

   معاویہ  کے گناہوں ( کہ جنہوں نے اسے ہلاکت میں ڈال دیا) میں سے ایک یہ ہے کہ اس نے مسلمانوں کے اموال پر قبضہ کیا اور اسے حرام راہ میں خرچ کیا۔

   معاويه ؛بيت ‏المال کو اپنے مورد نظر موارد میں خرچ کیا اور بیت المال سے مستحقین کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہ دیتا۔

   معاويه مسلمانوں کا مال اپنے رشتہ داروں اور طرفداروں کو دیتا اور بیت المال سے صرف وہی لوگ مستفید ہوتے تھے کہ جن کا بیت المال پر کوئی شرعی حق نہیں ہوتا تھا۔ خداوند مى ‏فرمايد: «وَلاتَأْكُلُوا أَمْوالَكُمْ  بَيْنَكُمْ بِالْباطِلِ»(2225).

   طبرانى  نے عمرو بن شغوى سے روايت کی ہے کہ ان کا بیان ہے: حضرت رسول ‏صلى الله عليه و آله و سلم نے ‏فرمایا:

سات افراد پر میری اور تمام پیغمبروں کی طرف سے لعنت ہے:

ایک وہ کہ جو ماسلمانوں کے غنائم کو خود سے اختصاص دے اور اپنے پاس رکھے۔

دوسرے وہ جوزور و زبردستی اور طاقت کے بل پر لوگوں پر حکومت کریں اور جس کے نتیجہ میں پست افراد کو عزت دیں اور عزیز افراد کو خوار کریں... .

   ديلمى نے «مسند فردوس» میں ابن عمر سے روايت کی ہے کہ حضرت رسول خدا ‏صلى الله عليه و آله و سلم‏نے فرمایا:

جو بے باکی سے کسی بھی طریقہ سے مال و دولت جمع کرے تو خداوند بھی اسے جس در سے چاہے گا جہنم میں داخل کرے گا۔

ابو داؤد روایت کرتے ہیں کہ حضرت رسول ‏صلى الله عليه و آله و سلم نے فرمایا:

جو شخص کسی حرام طریقہ سے مال و دولت حاصل کرے اور اسی مال سے صلہ رحم کرے یا صدقہ دے یا اسے راۃ خدا میں خرچ کرے ، پروردگار اس سب کو جمع کرے گا اور ان کے مالک کے اتفاق سے اسے جہنم میں داخل کرے گا۔

   مؤلّف کہتے ہیں: اين وعده‏ هاى شديدى كه خداوند درباره افرادى كه بيت ‏المال‏ مسلمين را تصاحب كنند و آن‏ها را حيف و ميل سازند مقرّر داشته، خداوند متعال کہ یہ وعدہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جو بیت المال کا خیال نہ کریں اور اسے اہمیت نہ دیں۔ ایسی روایات و آیات کا حقیقی مصداق معاویہ ہے کیونکہ اس نے مسلمانوں کے تمام اموال پر قبضہ کیا اور اس نے بیت المال کو اپنی مرضی سے خرچ کیا اور اس کے اصل مستحقین کو بیت المال سے محروم کر دیا۔ معاویہ کو خود اپنے ان اعمال پر پشیمانی ہوئی لیکن اسے اس کی ندامت اور پشیمانی نے کوئی فائدہ نہ دیا۔خداوند متعال فرماتا ہے: «وَمَن يَغْلُلْ يَأْتِ بِما غَلَّ يَوْمَ ‏الْقِيامَةِ»(2226).

   مسعودى روايت کرتے ہیں: جب امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی جانب سے صعصعة بن صوحان، معاويه کے پاس گئے تو معاویہ  نے اپنی محفل میں لوگوں کے سامنے علی الأعلان کہا تھا: زمین خدا کی ملکیت ہے اور ہم خدا کے خلیفہ ہیں اور لوگوں سے جس قدر بھی خدا کا مال لیا جائے وہ ہمارا حق ہے، اور جو مال لوگوں سے نہ لیں وہ بھی ہمارا حق ہے اور اگر میں ان سے وہ مال لینا چاہوں تو میرے لئے وہ بھی روا ہے۔

صعصعه نے کہا:

تمنّيك نفسك ما لايكو

ن جهلاً معاوى لاتأثم

   ابن حجر نے ایک ایسی حدیث( جس کی سند میں تمام راوی ثقہ ہیں) کے ضمن میں کہا ہے: معاویہ نے جمعہ کے دن خطبہ دیا اور خطبہ میں کہا: مال و دولت ہمارے لئے ہیں اور غنائم بھی ہم سے مختص ہیں اور اب اختیار بھی ہمارے ہاتھ میں ہے اور ہم جسے چاہئیں یہ اختیار دے دیں۔

   ابن عبدالبر کہتے : زیاد نے حكم بن عمرو غفارى (جس کی خراسان میں حكومت‏ تھی)کو خط لکھا: اميرالمؤمنين معاويه!! نے حکم دیا ہے کہ درہم و دینار جمع کروں لہذا یہ ضروری ہے کہ تم لوگوں میں درہم و دینار تقسیم کرنے سے گریز کرو۔

   حكم نے زياد کو خط لکھا: میں معاویہ کے بارے میں تمہارے مقصد سے مطلع ہوا لیکن خدا کی کتاب، امیر المؤمنین!! کی کتاب پر مقدم ہے۔ خدا کی قسم! اگر آسمان و زمین کے راستہ انسان پر بند ہو جائیں اور انسان راہ تقویٰ اختیار کرے تو خداوند انسان کے لئے وہاں سے نکلنے کا راستہ کھول دیتا ہے۔

   حكم نے زیاد کے لئے یہ خط لکھنے کے بعد لوگوں کو دعوت دی کہ وہ اس کے پاس حاضر ہوں اور جمع شدہ پیسے لے لیں۔ اور اس کے بعد اس نے کہا: خداوندا! اگر تیرے نزدیک میری آؓرو ہے تو میری روح قبض کر اور پھر وہ چند دن کے بعد ہلاک ہو گیا۔ اور اپنی وفات کے وقت انس‏ بن ابى اناس کو اپنی جگہ معین کیا۔

   نیز کہا گیا ہے: حسن بصرى کہتے ہیں: زياد نے حكم بن عمرو غفارى کو خراسان‏ میں حكومت دی۔ حکم نے اپنی حکومت کے ایّام میں بے شمار غنائم حاصل کئے ۔ زیاد نے اسے خط لکھا: اميرالمؤمنين معاويه!! کا یہ نظریہ ہے کہ درہم و دینار جمع کرے اور اس بارے میں اس کی جانب سے ہمارے لئے حکم صادر ہوا ہے۔ اب یہ خط موصول ہونے کے بعد بیت المال کو تقسیم نہ کرو اور ہمارے لئے بھیج دو۔

   حكم نے زياد کو خط لکھا: تم نے مجھے خط لکھا ہے کہ اميرالمؤمنين!! کا یہ نظریہ ہے کہ درہم و دینار جمع کرے اور اس کے حکم کے مطابق اس کے لئے تمام درہم اور دینار بھیج رہا ہوں لیکن میں اس بارے میں خداوند متعال کی کتاب کو مقدم سمجھتا ہوں اور میں خدا کے حکم کو معاویہ کے حکم پر ترجیح دیتا ہوں۔

   بخارى، احمد، ابو داود، ابن ماجه، مالك اور نسائى نے ایسے افراد کے بارے میں روایات نقل کی ہیں کہ جنہوں نے دھوکہ اور مکرو و فریب سے مسلمانوں کے غنائم پر قبضہ کر لیا اور ہم ان روایات کو نقل کریں گے:(2227)


2225) سوره بقره، آيه 188.

2226) سوره آل عمران، آيه 161.

2227) معاويه و تاريخ: 177.

 

منبع: معاویه ج ... ص ...

 

 

بازدید : 1023