امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
ابوبکر کے بارے میں عمر کا عقیدہ

ابوبکر کے بارے میں عمر کا عقیدہ

ابن ابی الحدید نے اپنی کتاب شرح نهج البلاغه میں لکھا ہے کہ ابوموسی اشعری نے کہا: میں عمر کے ساتھ حج کے لئے گیا۔ جب ہم اور اکثر لوگ ایک مقام پر اترے تو میں عمر کے پاس جانے کے لئے اپنی قیام گاہ  سے باہر نکلا ۔

مغیرة بن شعبه نے مجھے دیکھا اور وہ بھی میرے ساتھ ہو لیا۔ اس نے پوچھا: کہاں جا رہے ہو؟

میں نے کہا: امیرالمؤمنین کے پاس جا رہا ہوں، کیا تم بھی آؤ گے؟

اس نے کہا: ہاں۔

پس ہم چل پڑے اور عمر کی قیام گاہ کی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں ہم عمر کی خلافت، امور میں اس کے پسندیدہ قیام، اسلام کے بارے میں اس کی تشویش اور جس ذمہ داری کو اس نے قبول کیا تھا اس میں اس کی باریک بینی اور دقّت کے متعلق گفتگو کرتے رہے۔

پھر ہم نے ابوبکر صدیق کا ذکر کیا۔ میں نے مغیرہ سے کہا: تمہارابھلا ہو۔ بیشک ابوبکر نے عمر کے بارے میں درست اور مضبوط رائے قائم کی تھی۔ گویا ابوبکر کو اس بات کا علم تھا کہ اس کے بعد عمر کس طرح ذمہ داری سنبھالے گا، اسلام کے لئے کس قدر کوشش کرے گا اور کس طرح مشقتیں برداشت کرے گا!

مغیرہ نے کہا: ہاں! بات اسی طرح ہے؛ اگرچہ ایک قوم عمر کی خلافت اور امارت کو پسند نہیں کرتی تھی اور چاہتی تھی کہ اسے اس منصب تک پہنچنے سے روک دے، لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہو سکی۔

میں نے کہا: اے بے باپ! وہ کون لوگ تھے جو عمر کی خلافت کو پسند نہیں کرتے تھے؟

مغیرة نے کہا: خدا تمہارا بھلا کرے؛ کیا تم قبیلۂ قریش اور اس میں پائے جانے والے  حسد کو نہیں جانتے اور جو انہوں نے عمر کے معاملے میں روا رکھا ؟ خدا کی قسم! اگر اس حسد کو شمار کیا جا سکے تو کہنا چاہیے کہ نوّے فیصد حسد ان میں پایا جاتا ہے اور دس فیصد باقی تمام لوگوں میں پایا جاتا ہے ۔

میں نے کہا: اے مغیرہ! ٹھہر جاؤ؛ قریش اپنی فضیلت کی بنا پر دوسرے لوگوں پر برتری رکھتے ہیں۔

ہم اسی طرح گفتگو کرتے ہوئے عمر کے خیمے اور قیام گاہ تک پہنچے، مگر وہ وہاں موجود نہ تھے۔ ہم نے ان کے بارے میں پوچھا تو بتایا گیا کہ ابھی ابھی باہر گئے ہیں۔

چنانچہ ہم ان کی تلاش میں روانہ ہوئے۔ جب ہم مسجد الحرام میں داخل ہوئے تو دیکھا کہ عمر بن خطاب طواف میں مشغول ہیں۔ ہم بھی ان کے ساتھ طواف کرنے لگے۔

جب عمر کا طواف مکمل ہوا تو وہ میرے اور مغیرة بن شعبه کے درمیان آ گئے، اور مغیرہ پر ٹیک لگائے ہوئےکہا: تم دونوں کہاں سے آ رہے ہو؟

ہم نے عرض کیا: اے امیرالمؤمنین! ہم آپ کی ملاقات کے لئے نکلے تھے، اور جب آپ کے خیمے کے پاس پہنچے تو لوگوں نے کہا کہ آپ مسجد چلے گئے ہیں، چنانچہ ہم آپ کی تلاش میں یہاں آ گئے۔

عمر بن خطاب نے فرمایا: خیر ہو۔

پھر مغیرة نے میری طرف دیکھا اور مسکرایا۔ عمر نےاس کی وہ مسکراہٹ دیکھ لی اور پوچھا: اے بندے! تم کیوں اور کس بات پر مسکرائے؟

اس نے کہا: آپ کی طرف آتے ہوئے راستے میں ابوموسی اشعری کے ساتھ ہونے والی گفتگو پر مسکرا رہا ہوں ۔ [1]

 


[1] ۔ جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: ۱/۲۰۳۔

بازدید : 17