امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(1) زید بن صوحان کی شہادت

(1)

زید بن صوحان کی شہادت

«زيد بن صوحان» اپنے دو بھائیوں «سبحان خطيب» اور «صعصعه» کے ہمراہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے لشکر میں تھے اور آپ کا علم «سبحان» کے پاس تھا اور جب «سبحان» شہيد ہو گئے تو «زيد» نے علم پکڑ لیا اور جب «زيد» شہيد ہو گئے تو «صعصعه» نے علم تھام لیا اور وہ «معاويہ» کے زمانے تک زندہ تھے اور پھر «كوفه» میں وفات پا گئے اور جب «زيد» زمین پر گرے تو حضرت على ‏عليه السلام ان کے سرہانے آئے اور فرمایا:

«رحمك اللَّه يا زيد كنت خفيف المونة عظيم المعونة».

اے زيد؛ خدا تم پر رحمت کرے کہ دنیاوی تعلقات میں تمہارا حصہ کم اور دین میں تمہارا حصہ اور امداد بہت زیادہ ہے۔

پھر امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام «بصره» میں داخل ہوئے اور آپ نے ایک خطبہ دیا کہ جس کے کچھ کلمات یہ ہیں:

يا جند المرأة يا أتباع البهيمة رغافا جبتم وعقر فانهرمتم أخلاقكم دقاق ‏وأعمالكم نفاق و دينكم زيغ وشقاق ومائكم اجاج وزعاق

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے اپنے دوسرے خطبوں میں بھی بارہا اہل «بصره» کی مذمت فرمائی ہے.

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے جنگ سے فارغ ہونے کے بعد آپ نے عفو و درگذر سے کام لیا اور صلح کی راہ پر چلتے ہوئے «عبداللَّه ‏بن زبير»، «وليد بن عقبه»، «اولاد عثمان» اور تمام بنی امیہ کو معاف کر دیا اور ان سے درگذر فرمائی، حسنین علیہما السلام نے «مروان حكم» کی سفارش کی تو امیر المؤمنین علی علیہ السلام اس سے بھی درگذر فرمائی اور اسے قتل کرنے سے امان دی اور «حميراء» کو خوش اسلوبی سے «مدينه» کی طرف بھیج دیا اور یہ «عمروعاص» کے اقوال میں سے ہے کہ اس نے «عائشه» سے کہا: میں سے چاہتا تھا کہ تم جنگ ‏جمل میں قتل ہو جاتی۔ عائشہ نے کہا: آخر کس لئے؟ «عمرو» نے کہا: اس لئے کہ تم اپنی موت آپ مر جاتی اور جنت میں چلی جاتی اور ہمیں علی علیہ السلام کی برائی اور بدگوئی کرنے کا بہترین بہانا میسر آ جاتا.(1)


1) وقايع الأيّام: 239.

 

منبع: معاويه ج ...  ص ...

 

 

بازدید : 816