امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(3) اصحاب کے ساتھ بردباری

(3)

اصحاب کے ساتھ بردباری

   اميرالمؤمنين علی‏ عليه السلام اپنی سپاہ کے ساتھ مدینہ سے بصرہ کی طرف روانہ ہوئے اور جب آپ ذوقار کے مقام پر پہنچے تو آپ نے وہاں قیام کیا۔اسی وقت بصرہ میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے فرمانروا عثمان بن حنيف بھی بصره سے ذوقار کے مقام پر آئے جب کہ عائشہ کے ساتھیوں نے آپ کے چہرے سے پوری طرح داڑھی کو نوچ دیا تھا. جب انہوں نے امام علی علیہ السلام کو دیکھا تو عرض کیا: اے ‏اميرالمؤمنين! جب آپ نے مجھے (بصرہ) بھیجا تھا تو میری داڑھی تھی لیکن اب جب میں واپس آیا ہوں تو میری داڑھی نہیں ہے۔

   امیر المؤمنین امام‏ علی عليه السلام نے فرمایا:اے عثمان! تمہیں اس کا اجر و ثواب عطا ہوا ہے۔

   امام‏ علی عليه السلام اپنے لشکر کے ہمراه ذوقار کے مقام پر کوفہ کے لوگوں کے آنے کے منتظر تھے۔

  اميرالمؤمنين على‏ عليه السلام کا خط لے کر پہلے محمّد بن ابوبكر اور محمّد بن جعفر بن ابى طالب کوفہ میں ابوموسى اشعرى کے پاس گئے۔ انہوں نے لوگوں کے لئے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا فرمان پڑھا لیکن کسی نے جواب نہ دیا۔ رات کے وقت کوفہ کے بزرگ ابوموسى اشعرى کے پاس گئے اور کہا: ذوقار جانے کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟

   ابو موسی اشعری نے کہا: ہمیں کل اس بارے میں رائے شماری کرنی چاہئے تھی نہ کہ آج، تم لوگوں کی ماضی میں کی گئی سستی ( یعنی عثمان کی مدد نہ کرنا) کی وجہ سے یہ صورت حال پیش آئی ہے۔ اب دو چیزیں باقی ہیں: کوفہ میں ہی رہنا کہ جو آخرت کی راہ ہے ، یا یہ کہ کوفہ سے باہر جانا(على‏ عليه السلام کے ساتھ ہو جانا) كہ جو دنیاوی عمل ہے۔ ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرو۔

   ابوموسی کی انہی باتوں کی وجہ سے کوئی شخص بھی ذوقار کی طرف روانہ نہ ہوا. لہذا دونوں محمد (محمّد بن ابوبكر اور محمّد بن جعفر بن ابى طالب)بہت غضبناک  ہوئے اور انہوں نے ابوموسى سے غصہ سے بات کی اور پھر وہاں سے روانہ ہوئے اور ذوقار میں امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے پاس واپس آ گئے اور آپ کو اس ساری صورت حال سے آگاہ کیا۔

   پھر على‏ عليه السلام نے مالك اشتر سے فرمایا: تم نے ہی ابوموسی کی تائید کی تھی اور اس کام میں مداخلت کی تھی، اب تم ہی ابن عباس کے ساتھ جاؤ اور جو کام بگاڑا ہے اسے درست کرو۔(525)

   مالک اشتر اور ابن عبّاس كوفہ کی طرف روانہ ہوئے اور وہاں ابوموسى اور کوفہ کی بعض بزرگ شخصیات سے ملاقات کی۔اسی دوران ابوموسى اشعرى مسجد كوفه میں منبر پر گیا اور لوگوں کو امیر المؤمنین امام‏ علی عليه السلام کا ساتھ دینے سے منع کیا۔مالك اشتر اور عبداللَّه بن عبّاس ذوقار کی طرف واپس لوٹ گئے اور تمام واقعات امام علی علیہ السلام کے گوش گذار کئے۔

   امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام نے تیسری مرتبہ اپنے بڑے بیٹے امام حسن ‏عليه السلام اور عمّار بن ياسر کو کوفہ کی طرف روانہ کیا. اور جب ابوموسى نے امام حسن‏ عليه السلام کو دیکھا تو انہیں اپنے پاس بٹھایا اور پھر عمّار ياسر کی طرف رخ کیا اور کہا:اے ابويقظان! تم بھی دوسروں کے ساتھ امير المؤمنین عثمان! کے خلاف کھڑے ہو گئے اور خود کو بدكاروں میں قرار دیا۔

   عمّار نے کہا: میں نے ایسا نہیں کیا لیکن عثمان کے قتل ہونے پر میں پریشان بھی نہیں ہوا۔

   امام حسن‏ عليه السلام نے ان دونوں کی بات کو قطع کرتے ہوئے فرمایا: اے ابوموسی! تم لوگوں کو ہماری مدد کرنے سے کیوں روک رہے ہو؟ خدا کی قسم! ہم امور کی اصلاح اور صلح کے سوا کچھ نہیں چاہتے، لہذا امیر المؤمنین علی علیہ السلام جیسی شخصیت سے نہیں ڈرنا چاہئے۔

   ابوموسى نے کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان! جس سے مشورہ کیا جائے وہ امانتدار ہوتا ہے اور میں نے رسول‏ خدا صلى الله عليه وآله وسلم سے سنا کہ آپ نے فرمایا: جلد ہی ایک فتنہ رونما ہو گا کہ جس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہے اور کھڑا ہوا شخص چلنے والے سے بہتر ہے اور پیدل چلنے والا شخص سوار سے بہتر ہے۔

   عمّار کو غصہ آیا اور وہ کھڑے ہو گئے اور ابوموسى کو برا بھلا کہا اور پھر کہا: اے لوگو! یہ حدیث خود ابوموسى کے لئے شائستہ ہے اور پھر ابوموسی سے کہا: ‏ہاں! اگر تم اس فتنہ میں بیٹھے رہو اور خاموش رہو تو یہ تمہاری مداخلت سے بہتر ہے۔

  قبيلۂ بنى ‏تيم میں سے ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے کہا: اے عمّار! کل تم اس شورش (یعنی قتل عثمان) کے ساتھ تھے اور آج تم ہمارے حاکم  اور  فرمانروا کو سفیہ و نادان سمجھ رہے ہو؟

  انہی حالات میں زید بن صوحان  اور ایک دوسرا گروہ کھڑا ہوا اور لوگ جوش میں آ گئے، ہر شخص کچھ نہ کچھ کہہ رہا تھا۔ زید بن صوحان نے مسجد کے دروازہ پر کھڑے ہو کر عائشہ کے وہ دو خطوط پڑھے جو اس نے زید بن صوحان اور کوفہ کے لوگوں کے لئے لکھے تھے اور جس میں اس نے یہ تقاضا کیا تھا کہ یا اپنے گھروں میں بیٹھے رہو یا پھر اس کی مدد کرو، اور پھر زید بن صوحان نے کہا: یہ بہت عجیب اور حیرت انگیز ہے! اسے (عائشہ)یہ حکم دیا گیا ہے اور خدا نے اس کے لئے یہ مقرر فرمایا ہے کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے (526) اور ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ ہم جنگ کریں تا کہ کوئی فتنہ باقی نہ رہے (527)لیکن عائشہ ہمیں یہ حکم دے رہی ہے کہ ہم وہ کام انجام دیں جس کا اسے حکم دیا گیا ہے اور وہ اس کام کو انجام دے جس کا ہمیں حکم دیا گیا ہے۔

   پھر زيد بن صوحان نے کہا: اے عبداللَّه بن قيس (ابوموسى اشعرى)! اگر تم دریائے فرات کی روانی کو روک سکتے ہو تو پھر یہ کام بھی انجام دے سکتے ہو۔ جو کام نہیں کر سکتے اسے چھوڑ دو۔ پھر وہ کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہا: اٹھو اور امیر المؤمنین سالار مسلمین کی طرف چلو تا کہ تم صحیح اور حق کام انجام دو۔

   اسی دوران قعقاع بن عمرو تميمى اٹھے اور کہا: اے لوگو! میں تمہارا خيرخواه ہوں... اب امير المؤمنین على‏ عليه السلام نے حق پر قیام کیاہے اور وہ منصفانہ دعوت دے رہے ہیں اور تمہیں صلح و اصلاح کی طرف بلا رہے ہیں، چلو اور ان کے عمل کو نزدیک سے دیکھو۔

   عبدخير خيوانى نے ابوموسى کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اے ابوموسى! میرا تم سے سوال ہے؟ کیا طلحہ و زبير نے على‏ عليه السلام کی بيعت کی؟

   ابوموسى نے کہا: جی ہاں۔

  اس نے کہا:کيا على‏ عليه السلام نے کوئی ایسا عمل انجام دیا کہ جس سے ان کی بیعت ختم ہوگئی ہو؟

   ابوموسی نے کہا: میں نہیں جانتا۔

   عبدخير نے کہا: تم ہرگز نہیں جان سکتے، ہم تمہیں چھوڑ رہے ہیں تا کہ تم یہ سمجھ لو اور جان لو۔ کیا کوئی شخص اس فتنہ کو دیکھتے ہوئے بھی اس سے باہر رہ سکتا ہے؟

   پھر صيحان بن صوحان(528) کھڑے ہوئے اور لوگوں کو ذوقار جانے کے لئے تشويق دلائی۔پھر عدى بن حاتم، ہند بن عمرو اور حجر بن عدىّ میں سے ہر ایک نے امام علی علیہ السلام کی نصرت کے بارے میں باری باری خطاب کیا۔

   آخر میں امام حسن‏ عليه السلام نے فرمایا: میں کل روانہ ہو رہا ہوں، جو چاہے خشکی کے راستہ سواری کے ذریعہ آئے یا چاہے توپانی (دریائے فرات) کے راستہ آئے۔

   ابوالطفيل کہتے ہیں: کوفہ کے لوگوں کی ذوقار کی طرف روانگی سے پہلے ہی امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ کوفہ سے بارہ ہزار ایک افراد آئیں گے۔ میں نے ان لوگوں کو شمار کیا تو نہ ان میں ایک شخص زیادہ تھا اور نہ ہی ایک شخص کم۔ (529).(530)


525) ابوموسى اشعرى؛ عثمان کی طرف سے والی کوفہ تھا اور جب اميرالمؤمنين‏ علی عليه السلام  کو منصب خلافت ملا تو آپ اسے برطرف کرنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن مالک اشتر کی مداخلت سے ابوموسی اپنے منصب پر باقی رہا!

526) سورهٔ احزاب، آيت 33۔

527) سورهٔ بقره، آيت 93۔

528) یہ زيد اور صعصعة بن صوحان عبدى کے بھائی تھے۔

529) نهاية الارب في فنون الأدب، شهاب الدين احمد نويرى ‏ترجمه ڈاکٹر محمود مهدوى دامغانى، ج5.

530) پيش‏گوئى‏ هاى اميرالمؤمنين‏ عليه السلام: 81. 

 

منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 404   

 

 

بازدید : 929