امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) وسعت رزق کی نماز جو جناب محمّد بن عثمان قدّس سرّه سے منقول ہے

(۲)

وسعت رزق کی نماز

جو جناب محمّد بن عثمان قدّس سرّه سے منقول ہے

مبشر بن عبد العزیز روایت کرتے ہیں اور کہتے ہیں:

میں حضرت امام صادق علیہ السلام کی خدمت میں حاضر تھا کہ شیعوںمیں سے ایک شخص آیا اوراس نے عرض کیا:میں آپ پر قربان جائوں! میں فقیر اور ضرورت مند ہوں۔

حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا:

بدھ کے دن کاانتظار کرو اوراس دن روزہ رکھو او رروز پنجشنبہ وجمعہ کوبھی روزہ رکھو اورجمعہ کے دن ظہر کے وقت اپنے گھر کی چھت پر یا صحرا و بیابان میں جاؤ کہ جہاں تمہیں کوئی دیکھ نہ سکے ، رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت پڑھو او رپھروہیں دورکعت نماز بجا لاؤپھر دو زانو ہو کر اس طرح سے بیٹھ جائو کہ زانو زمین سے لگے ہوئے ہوں اور قبلہ رخ ہوکر دائیں ہاتھ کو بائیں ہاتھ پر رکھواور آسمان کی طرف اوپر اٹھاؤ او رکہو: 

    أَللَّهُمَّ أَنْتَ أَنْتَ ، إِنْقَطَعَ الرَّجاءُ إِلّا مِنْكَ ، وَخابَتِ الْآمالُ إِلّا فيكَ ، يا ثِقَةَ مَنْ لا ثِقَةَ لَهُ ، لا ثِقَةَ لي غَيْرُكَ ، إِجْعَلْ لي مِنْ أَمْري فَرَجاً وَمَخْرَجاً ، وَارْزُقْني مِنْ حَيْثُ أَحْتَسِبُ ، وَمِنْ حَيْثُ لا أَحْتَسِبُ .

      پروردگارا!تو تو ہے  ،تیرے سوا میری تمام امیدیں منقطع ہو گئیں ، اور تیرے سوا میری تمام آرزوئیں ناکام ہو گئیں   ،اے ثقہ کہ جس کے سوا کوئی مورد اطمیان نہیں ہے ،میرے لئے تیرے سوا کوئی ثقہ نہیں ہے،میرے امور میں راحت و گشائش قرار دے،اورمجھے  جہاں سے گمان ہے یاجہاںسے گمان نہیں ہے،وہاں سے میرے لئے روزی نصیب فرما ۔

پھر زمین پر سجدہ کرو اور کہو:

يا مُغيثُ، إِجْعَلْ لي رِزْقاً مِنْ فَضْلِكَ.

 اے فریاد رس!میرے لئے اپنے فضل سے روزی قرار دے۔

پس ابھی شنبہ کے دن کا سورج طلوع نہیں ہو گا کہ تمہاے لئے نئی روز ی آجائے گی۔

احمد بن مابنداذ (اس حدیث کے راوی) کہتے ہیں : میں نے ابو جعفر محمد بن عثمان بن سعید عمری  سے عرض کیا:اگر کوئی یہ نماز ،دعا اور رزق کی درخواست کرنا چاہتا ہو لیکن وہ شہر مدینہ میں نہ ہو تو کیا کرے؟

فرمایا: اس کے شہر میں جس امام  کا حرم ہو اس میں جائے اور حضرت  کے سرہانے ہمارے سید وسردار رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زیارت کرے ۔

میں نے عرض کیا: اگر خود اس کے شہر میں کسی امام کا مرقد نہ ہو تو کیا کرے ؟

فرمایا: صلحاء او ربرگزیدہ افراد میں سے کسی ایک کی زیارت کرے اور پھرصحرا میں جائے او رصحرا کے  داہنی طرف ہم نے جو کہا انجام دے انشاء اللہ یہ عمل کامیابی کا باعث بنے گا.


(مصباح المتهجّد : 329 ، البلد الأمين : 475)

 

 

منبع : کتاب «صحيفه مهديه» بارہواں باب

 

 

بازدید : 879