(۳)
اہم دعا
جناب عثمان بن سعید رضوان اللہ علیہ اس دعا کو
بہت عظیم اور اہمیت کی حامل سمجھتے ہیں
یہ دعا حضرت امیر المومنین علی علیہ السلام حضرت امام باقر علیہ السلام او رحضرت امام صادق علیہ السلام پڑھتے تھے، اس دعا کو جناب ابوجعفر محمد بن عثمان کو دکھایا تو آپ نے فرمایا: اس دعا کی مانند کوئی دعا نہیں ہے اور اس دعا کا پڑھنا اہم ترین عبادت ہے اور وہ دعا یہ ہے :
أَللَّهُمَّ أَنْتَ رَبّي وَأَنَا عَبْدُكَ ، آمَنْتُ بِكَ مُخْلِصاً لَكَ عَلى عَهْدِكَ وَوَعْدِكَ مَا اسْتَطَعْتُ ، أَتُوبُ إِلَيْكَ مِنْ سُوءِ عَمَلي ، وَأَسْتَغْفِرُكَ لِذُنُوبِيَ الَّتي لايَغْفِرُها غَيْرُكَ ، أَصْبَحَ ذُلّي مُسْتَجيراً بِعِزَّتِكَ ، وَأَصْبَحَ فَقْري مُسْتَجيراً بِغِناكَ ، وَأَصْبَحَ جَهْلي مُسْتَجيراً بِحِلْمِكَ ، وَأَصْبَحَتْ قِلَّةُ حيلَتي مُسْتَجيرَةً بِقُدْرَتِكَ۔ وَأَصْبَحَ خَوْفي مُسْتَجيراً بِأَمانِكَ ، وَأَصْبَحَ دائي مُسْتَجيراً بِدَوائِكَ ، وَأَصْبَحَ سُقْمي مُسْتَجيراً بِشِفائِكَ ، وَأَصْبَحَ حَيْني مُسْتَجيراً بِقَضائِكَ . وَأَصْبَحَ ضَعْفي مُسْتَجيراً بِقُوَّتِكَ ، وَأَصْبَحَ ذَنْبي مُسْتَجيراً بِمَغْفِرَتِكَ ، وَأَصْبَحَ وَجْهِيَ الْفانِيَ الْبالِيَ مُسْتَجيراً بِوَجْهِكَ الْباقِي الدَّائِمِ الَّذي لايَبْلى وَلايَفْنى .
يا مَنْ لايُواريهِ لَيْلٌ داجٍ ، وَلا سَمْاءٌ ذاتُ أَبْراجٍ ، وَلا حُجُبٌ ذاتُ ارْتِجاجٍ (أَتْراجٍ) ، وَلا ماءٌ ثَجَّاجٌ في قَعْرِ بَحْرٍ عَجاجٍ ، يا دافِعَ السَّطَواتِ ، يا كاشِفَ الْكُرُباتِ ، يا مُنْزِلَ الْبَرَكاتِ مِنْ فَوْقِ سَبْعِ سَماواتٍ .
أَسْأَلُكَ يا فَتَّاحُ يا نَفَّاحُ يا مُرْتاحُ ، يا مَنْ بِيَدِهِ خَزائِنُ كُلِّ مِفْتاحٍ ، أَنْ تُصَلِّيَ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ الطَّاهِرينَ الطَّيِّبينَ ، وَأَنْ تَفْتَحَ لي مِنْ خَيْرِ الدُّنْيا وَالْآخِرَةِ .
وَأَنْ تَحْجُبَ عَنّي فِتْنَةَ الْمُوَكَّلِ بي ، وَلاتُسَلِّطْهُ عَلَيَّ فَيُهْلِكُني ، وَلاتَكِلْني إِلى أَحَدٍ طَرْفَةَ عَيْنٍ فَيَعْجِزَ عَنّي ، وَلاتَحْرِمْنِي الْجَنَّةَ ، وَارْحَمْني وَتَوَفَّني مُسْلِماً ، وَأَلْحِقْني بِالصَّالِحينَ ، وَاكْفِني بِالْحَلالِ عَنِ الْحَرامِ ، وَبِالطَّيِّبِ عَنِ الْخَبيثِ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ .
أَللَّهُمَّ خَلَقْتَ الْقُلُوبَ عَلى إِرادَتِكَ ، وَفَطَرْتَ الْعُقُولَ عَلى مَعْرِفَتِكَ ، فَتَمَلْمَلَتِ الْأَفْئِدَةُ مِنْ مَخافَتِكَ ، وَصَرَخَتِ الْقُلُوبُ بِالْوَلَهِ ، وَتَقاصَرَ وُسْعُ قَدْرِ الْعُقُولِ عَنِ الثَّناءِ عَلَيْكَ ، وَانْقَطَعَتِ الْأَلْفاظُ عَنْ مِقْدارِ مَحاسِنِكَ ، وَ كَلَّتِ الْأَلْسُنُ عَنْ إِحْصاءِ نِعَمِكَ ، فَإِذا وَلَجَتْ بِطُرُقِ الْبَحْثِ عَنْ نَعْتِكَ بَهَرَتْها حَيْرَةُ الْعَجْزِ عَنْ إِدْراكِ وَصْفِكَ .
فَهِيَ تَتَرَدَّدُ فِي التَّقْصيرِ عَنْ مُجاوَزَةِ ما حَدَّدْتَ لَها ، إِذْ لَيْسَ لَها أَنْ تَتَجاوَزَ ما أَمَرْتَها ، فَهِيَ بِالْإِقْتِدارِ عَلى ما مَكَّنْتَها تَحْمَدُكَ بِما أَنْهَيْتَ إِلَيْها ، وَالْأَلْسُنُ مُنْبَسِطَةٌ بِما تُمْلي عَلَيْها ، وَلَكَ عَلى كُلِّ مَنِ اسْتَعْبَدْتَ مِنْ خَلْقِكَ أَلّا يَمُلُّوا مِنْ حَمْدِكَ ، وَ إِنْ قَصُرَتِ الْمَحامِدُ عَنْ شُكْرِكَ عَلى ما أَسْدَيْتَ إِلَيْها مِنْ نِعَمِكَ .
فَحَمِدَكَ بِمَبْلَغِ طاقَةِ جُهْدِهِمُ (حَمْدِهِمُ) الْحامِدُونَ ، وَاعْتَصَمَ بِرَجاءِ عَفْوِكَ الْمُقَصِّرُونَ ، وَأَوْجَسَ بِالرُّبُوبِيَّةِ لَكَ الْخائِفُونَ ، وَقَصَدَ بِالرَّغْبَةِ إِلَيْكَ الطَّالِبُونَ ، وَانْتَسَبَ إِلى فَضْلِكَ الْمُحْسِنُونَ ، وَكُلٌّ يَتَفَيَّأُ في ظِلالِ تَأْميلِ عَفْوِكَ ، وَيَتَضائَلُ بِالذُّلِّ لِخَوْفِكَ ، وَيَعْتَرِفُ بِالتَّقْصيرِ في شُكْرِكَ .
فَلَمْ يَمْنَعْكَ صُدُوفُ مَنْ صَدَفَ عَنْ طاعَتِكَ ، وَلا عُكُوفُ مَنْ عَكَفَ عَلى مَعْصِيَتِكَ إِنْ أَسْبَغْتَ عَلَيْهِمُ النِّعَمَ ، وَأَجْزَلْتَ لَهُمُ الْقِسَمَ ، وَصَرَفْتَ عَنْهُمُ النِّقَمَ ، وَخَوَّفْتَهُمْ عَواقِبَ النَّدَمِ ، وَضاعَفْتَ لِمَنْ أَحْسَنَ ، وَأَوْجَبْتَ عَلَى الْمُحْسِنينَ شُكْرَ تَوْفيقِكَ لِلْإِحْسانِ ، وَعَلَى الْمُسيءِ شُكْرَ تَعَطُّفِكَ بِالْإِمْتِنانِ ، وَوَعَدْتَ مُحْسِنَهُمْ بِالزِّيادَةِ فِي الْإِحْسانِ مِنْكَ . فَسُبْحانَكَ تُثيبُ عَلى ما بَدْؤُهُ مِنْكَ ، وَانْتِسابُهُ إِلَيْكَ ، وَالْقُوَّةُ عَلَيْهِ بِكَ ، وَالْإِحْسانُ فيهِ مِنْكَ ، وَالتَّوَكُّلُ فِي التَّوْفيقِ لَهُ عَلَيْكَ .
فَلَكَ الْحَمْدُ حَمْدَ مَنْ عَلِمَ أَنَّ الْحَمْدَ لَكَ ، وَأَنَّ بَدْأَهُ مِنْكَ ، وَمَعادَهُ إِلَيْكَ حَمْداً لايَقْصُرُ عَنْ بُلُوغِ الرِّضا مِنْكَ ، حَمْدَ مَنْ قَصَدَكَ بِحَمْدِهِ ، وَاسْتَحَقَّ الْمَزيدَ لَهُ مِنْكَ في نِعَمِهِ ، وَلَكَ مُؤَيِّداتٌ مِنْ عَوْنِكَ ، وَرَحْمَةٌ تَخُصُّ بِها مَنْ أَحْبَبْتَ مِنْ خَلْقِكَ .
فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَآلِهِ ، وَاخْصُصْنا مِنْ رَحْمَتِكَ وَمُؤَيِّداتِ لُطْفِكَ ، بِأَوْجَبِها لِلْإِقالاتِ ، وَأَعْصَمِها مِنَ الْإِضاعاتِ ، وَأَنْجاها مِنَ الْهَلَكاتِ ، وَأَرْشَدِها إِلَى الْهِداياتِ ، وَأَوْقاها مِنَ الْآفاتِ ، وَأَوْفَرِها مِنَ الْحَسَناتِ ، وَأَنْزَلِها بِالْبَرَكاتِ ، وَأَزْيَدِها فِي الْقِسَمِ ، وَأَسْبَغِها لِلنِّعَمِ ، وَأَسْتَرِها لِلْعُيُوبِ ، وَأَغْفَرِها لِلذُّنُوبِ ، إِنَّكَ قَريبٌ مُجيبٌ .
فَصَلِّ عَلى خِيَرَتِكَ مِنْ خَلْقِكَ ، وَصَفْوَتِكَ مِنْ بَرِيَّتِكَ ، وَأَمينِكَ عَلى وَحْيِكَ بِأَفْضَلِ الصَّلَواتِ ، وَبارِكْ عَلَيْهِ بَأَفْضَلِ الْبَرَكاتِ ، بِما بَلَّغَ عَنْكَ مِنَ الرِّسالاتِ ، وَصَدَعَ بِأَمْرِكَ ، وَدَعا إِلَيْكَ ، وَأَفْصَحَ بِالدَّلائِلِ عَلَيْكَ بِالْحَقِّ الْمُبينِ ، حَتَّى أَتاهُ الْيَقينُ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الْأَوَّلينَ ، وَصَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ فِي الْآخِرينَ ، وَعَلى آلِهِ وَأَهْلِ بَيْتِهِ الطَّاهِرينَ ، وَاخْلُفْهُ فيهِمْ بِأَحْسَنِ ما خَلَّفْتَ بِهِ أَحَداً مِنَ الْمُرْسَلينَ بِكَ يا أَرْحَمَ الرَّاحِمينَ .
أَللَّهُمَّ لَكَ إِراداتٌ لاتُعارِضُ دُونَ بُلُوغِهَا الْغاياتُ ، قَدِ انْقَطَعَ مُعارَضَتُها بِعَجْزِ الْإِسْتِطاعاتِ عَنِ الرَّدِّ لَها دُونَ النِّهاياتِ ، فَأَيَّةُ إِرادَةٍ جَعَلْتَها إِرادَةً لِعَفْوِكَ ، وَسَبَباً لِنَيْلِ فَضْلِكَ ، وَاسْتِنْزالاً لِخَيْرِكَ .
فَصَلِّ عَلى مُحَمَّدٍ وَأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ ، وَ صِلْهَا اللَّهُمَّ بِدَوامٍ ، وَابْدَأْها بِتَمامٍ ، إِنَّكَ واسِعُ الْحِباءِ ، كَريمُ الْعَطاءِ ، مُجيبُ النِّداءِ سَميعُ الدُّعاءِ . (بحار الأنوار : 402/95 ، به نقل از مهج الدعوات : 153)
پروردگارا!تو میرا ربّ اور میں تیرا عبد ہوں،میں مخلصانہ طورسے تجھ پر ایمان لایا اور اپنی توانائی کی انتہا اور جہاں تک ممکن ہوا میں تجھ سے کئے گئے عہد و پیمان پرقائم رہا،میں اپنے برے اعمال پر توبہ کرکے تیری طرف پلٹ آیا ہوں اور ایسے گناہ کہ جنہیں تیرے سوا کوئی بخش نہیں سکتا،تجھ سے طلب بخشش کرتا ہوں ،میری ذلت نے تیری قدرت کی پناہ لی ،میرے فقر نے تیری بے نیازی کا دامن تھاما ہے، اپنے جہل کی تیرے حلم سے تلافی کی ہے ،تیری قدرت کی پناہ میں آکر اپنی بیچارگی کو برطرف کروںگا،تیری امان میں آکر اپنے خوف کر برطرف کروں گا۔ میرا درد تیری دوا کی پناہ میں آیا ہے ، میری بیماری تیری شفا کی پناہ میں آئی ہے ،میری ہلاکت و نابودی نے تیری قضا کا دامن تھاما ہے،میری ناتوانی تیری قوت سے مدد لیتی ہے، میرے گناہ تیری بخشش کے پیچھے ہیں،میری فانی صورت نے تیری باقی و دائم صارت کا دامن تھاما ہے جو نہ کہنہ ہو گی اور نہ فنا،اے وہ کہ جسے رات کی تاریکی ،ستاروں کے مجموعہ سے لبریز آسمان ، پیوستہ حجاب اور دریا کی گہرائیوں میں موجود آب ریزاں بھی پنہان و مخفی نہیں کر سکتے ،اے دشمن کے تسلط اور کامیابی کو زائل کرنے والے ،اے غموں کو برطرف کرنے والے، اے ساتھ آسمانوں کے اوپر سے برکتیں نازل کرنے والے ،اے بہت گشائش گر،اے بہت نعمتیں دینے والے اے راحت ،اے وہ کہ جس کے ہاتھ میں تمام چابیوں کے خزانے ہیں میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہمحمد و آل محمد پر درود بھیج جو پاک و پاکیزہ ہیں،میرے لئے دنیا و آخرت کی خیر فراہم کر دے اور مجھے درپیش ہر فتنہ برطرف کر دے اور اسے مجھ پر مسلط نہ کر کہ مجھے نابود کر دے حتی پلک جھپکنے کے برابر بھی کسی کے سپرد نہ کرنا کیونکہ وہ میرے لئے کچھ نہیں کر سکتے اور مجھے جنت سے محروم نہ کرنا اور مجھ سے رحم فرما اور مسلمان کی موت دے اوت مجھے صالحین کے ساتھ ملحق فرما ،حلال کے ذریعہ حرام اور طیب کے ذریعہ مجھے خبیث سے بے نیاز کر دے،اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے ۔پروردگارا!تونے دلوں کو اپنے ارادے کے مطابق خلق کیا ہے اورتونے عقل کو اپنی شناخت پرخلق کیا ،قلوب نے صدا و فریاد کی کہ وہ حیران ہیں اور تیری مدح کے لئے عقل کی توانائیاں کم پڑھ گئیں اور تیریصفات اور خوبیوں کی حدود کو بیان کرنے کے لئے الفاظ ختم ہو گئے اور تیری نعمتوں کو شمار کرنے کے لئے زبانیں کم پڑھ گئیں اور جب بھی کسی بھی صورت میں تیریصفات کو بیان کرنا چاہا تو تیری صفات کو درک کرنے کی توانائی سے حیرت زدہ ہو گئے کیونکہ انہیں حق نہیں ہے کہ وہ تیری بیان کی گئی حد سے تجاوز کریں اور تیری عطا کی گئی قدرت و توان کے مطابق ہی تیری حمد کر سکتے ہیں، اور زبانیں وہیں تک بولتی ہیں جہاں تک تونے بتایا ہے،پس تمام مخلوق پر تیرا یہ حق ہے کہ تیری بندگی کریں اور تیری حمد سے خستہ و افسردہ نہ ہوں اگرچہ وہ جس قدر بھی تیری حمد اور شکر بجا لائیں پھر بھی تیری نعمتوں کے مقابلہ میں کم ہے ۔پس حمد کرنے والوں نے اپنی طاقت کے مطابق تیری حمد کی اورمقصرین نے تیری بخشش کا دامن تھاما اور خائفین تیرے مقام ربوبیت سے لرزاں ہیںاور طالبین رغبت سے تیری بارگاہ کا قصد کرتے ہیں اور محسنین تیرے فضل سے منسوب ہیں اور سب تیرے عفو کی آرزو کے زیر سایہ بیٹھے ہیں اور تجھ سے خائف ہیں اور تیرے حمد میں کوتاہی کا اعتراف کرتے ہیں کہ وہ تیری اطاعت سے روگرداں ہیں یا تیری نافرمانی میں مشغول ہیں اور انہیں اس چیز نے بھی باز نہ رکھا کہ ان پرتیری نعمتیں نازل ہوتی ہیں ، ان کے حصہ کو زیادہ کیا، ان سے بلاؤں کو ٹال دیا ،انہیں آئندہ کی ندامت و پشیمانی سے ڈرایا،جو نیکی کرے اور اسے کئی گنا پاداش دی اور تونے محسنین پر لازم کیا کہ احسان کی توفیق کے سلسلہ میں تیرا شکر کریںاور گناہگار تیرے احسان اور مہربانی کی وجہ سے تیرا شکر کریں۔البتہ محسنین سے وعدہ کیاکہ تو ان پر اپنے احسان میں اضافہ کرے گااے خدائے سبحان تو کس قدر منزہ اور بے عیب ہے کیونکہ تو جس پر پاداش دیتا ہے اس کا آغاز بھی تیری طرف سے ہے اور سب جانتے ہیں کہ وہ تیری طرف سے ہے ،اس کے انجام دینے کی توانائی بھی تونے ہی عطا کی ہے ،یہ نیکی بھی تیری جانب سے ہے اور اس کے انجام دینے کی توفیق بھی تجھ پر توکل سے حاصل ہوتی ہے پس تیری حمد کرتے ہیں ایسی حمدجو مجھے تیری رضا تک لے جائے ایسی حمد کہ جس نے اپنی حمد سے تیرا قصد کیا اور یوں نعمتوں میں اضافہ کا مستحق قرار پایا۔اور تیرے پاس اپنی مدد سے تائید کرنے والے ہیں،اور تو اپنی مخلوق میں جس سے محبت کرے اس سے رحمت مختص کر دیتا ہے پس محمد و آل محمد پر درود بھیج ۔اور توہمیں اپنی اس رحمت اور اپنے تائید کرنے والے لطف سے خاص فرماکہ جو گناہوں سے بخشش،تباہیوں سے حفاظت،ہلاکتوں سے نجات، ہدایت کی راہوں میں رہنمائی ، آفتوں سے حفاظت، نیکیوں میں فراوانی،برکتوں کے نزول ،حصوں میں اضافہ،نعمتوں میں افزائش ،عیوب کو چھپانے ،گناہوں کی مغفرت کا باعث ہیں۔بیشک تو قریب اور جواب دینے والا ہے ۔پس اپنی بہترین مخلوق ،اپنی مخلوق میں سے برگذیدہ اور اپنی وحی کے امین پر درود بھیج اور سب سے افضل درود بھیج اور ان سب پر سب سے افضل برکتیں نازل فرما کہ جس طرح انہوں نے تیرے پیغام رسالت کو پہنچایا اور تیرے امر کو آشکار کیا اور تیری طرف دعوت دی اور تیرے وجود پر حق و آشکار طریقے سے افصح دلائل لائے حتی کہ وہ دار فانی سے کوچ کر گئے ۔خدایا!ان کے اوّلین پر درود بھیج اور ان کے آخرین پر درود بھیج ، اور ان کی آل اور پاک و پاکیزہ اہلبیت پر درود بھیج ، اور ان کے لئے بھی بہترین جانشین فرما کہ جو تونے اپنے رسول کے لئے جانشین قرار دئے ۔اے سب سے زیادہ رحمکرنے والے۔پروردگارا!تیرے ایسے ارادے ہیں کہ جو حتمی طور پر اپنے مقصد و ہدف تک پہنچ جائیں گے اور کوئی ان ارادوں کا متعارض نہیں ہے ،اگر وہ تیرے ارادہ کے برخلاف بھی آئیں تو ناتواں ہو جائیں گے اور تو حتمی طورپر اپنے مقصد تک پہنچے گا ۔پس تونے بخشش کے لئے جو بھی ارادہ کیا اور تونے اپنے فضل تک پہنچنے کے لئے جو بھی سبب قرار دیا اور جو بھی تیری برکتوں کے نزول کا باعث ہے۔ پس محمد اور اہبیت محمد پر درود بھیج اور خدایا !انہیں جاودانگی کے ساتھ متصل فرما اور مکمل طور پر اس کا آغاز فرما۔بیشک تو وسیع بخشش والا،کریمانہ عطا والا،ندا پر جواب دینے والا اور دعاؤں کو سننے والا ہے۔
منبع : کتاب «صحيفه مهديه» بارہواں باب








