امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(1) فضائل حضرت اميرالمؤمنين‏ عليه السلام

(1)

فضائل اميرالمؤمنين‏ عليه السلام

سيّد ہاشم بحرينى نے کتاب «غاية المرام» میں واقدى سے روايت كی ہے کہ انہوں نے کہا: ایک روز ہارون الرشيد بیٹھا ہوا تھا اور اس کی محفل میں ستر علماء بھی موجود تھے۔ ہارون الرشید نے محمد بن حسن كوفى کو مخاطب کیا اور کہا: تمہیں فضائل علىّ بن ابى طالب‏ عليه السلام کے بارے میں کتنی روایات حفظ ہىں؟

اس نے کہا: مجھے ہزار سے زیادہ روایات حفظ ہیں۔

پھر اس نے ابى يوسف كوفى کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: تم فضائل على‏ عليه السلام کے بارے میں احادیث روایت کرتے ہو، بتاؤ اور ڈرو مت؟

اس نے کہا: اے اميرالمؤمنين!! اگر خوف نہ ہو تو ان کے بارے میں میری روایات کو کسی حد میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔

ہارون الرشید نے کہا: تمہیں کن سے خوف ہے؟

ابی یوسف نے کہا: تم سے اور تمہارے اصحاب سے۔

ہارون نے کہا: ڈرو نہیں ،تم امان میں ہو۔ بتاؤ کہ تمہیں فضائل علی علیہ السلام کے بارے میں کتنی روایات حفظ ہیں؟

اس نے کہا: پندرہ ہزار مسند اور پندرہ ہزار مرسل احادیث.

واقدى کہتے ہیں: ہارون نے مجھے مخاطب کیا اور کہا : تمہارے پاس اس قدر روایات ہیں؟

میں نے کہا: جی ہاں! میں بھی پندرہ ہزار مرسل اور اور پندرہ ہزار مسند احادیث کو روایت کرتا ہوں۔

ہارون نے کہا:لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے ایک ایسی فضیلت دیکھی اور اور اپنے کانوں سے ایک ایسی فضیلت سنی ہے جو تمہاری روایت کردہ ہر فضیلت سے بہتر اور بالا تر ہے۔

میں نے کہا: يا اميرالمؤمنين!! اگر آپ بہتر سمجھیں تو ہمیں بھی اس فضیلت کے بارے میں بتائیں کہ جسے آپ جانتے ہیں؟

ہارون نے کہا: میں نے یوسف بن حجاج کو والی شام مقرر کیا اور اسے حکم دیا تھا کہ اپنی رعایا سے عدل و انصاف سے پیش آنا اور وہ بھی میرے حکم پر عمل کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ ایک دن اسے یہ خبر ملی کہ شام میں ایک ایسا خطیب ہے جو ہر دن جب بھی منبر پر جاتا ہے تو علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرتا ہے۔اس نے اپنے کارندوں کو حکم دیا کہ اسے اس خطیب کو پیش کیا جائے۔ جب اسے پیش کیا گیا تو اس سے پوچھا : کیا تم علی علیہ السلام پر سبّ و شتم کرتے ہیں؟

اس نے کہا:جی ہاں

والی شام نے پوچھا: کیوں؟

اس نے کہا: کیونکہ انہوں نے میرے آباء و اجداد کو قتل کیا ہے اور ہمارے دل میں ان کے لئے صرف بغض و کینہ ہے اور میں جب تک زندہ ہوں اس عمل کو ترک نہیں کروں گا۔

پس شام میں میرے مقرر کردہ حاکم یوسف بن حجاج نے حکم دیا کہ اسے طوق اور زنجیروں میں جکڑ کر قید کر دیا تھا۔ اس نے مجھے اس واقعہ سے آگاہ کیا تو میں نے اسے خط لکھا کہ اس ملعون کو اسی طوق اور انہی زنجیروں میں جکڑ کر میرے پاس بھیج دو۔جیسے ہی اسے میرے پاس پیش کیا گیا تو میں نے اسے مارا اور اس سے کہا: تم ‏ على ‏عليه السلام پر سبّ و شتم کرتے ہو؟

اس نے کہا: جی ہاں۔

میں نے: واى ہو تم پر! علی علیہ السلام نے جسے بھی قتل کیا، خدا اور رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم پر کیا۔

اس شخص نے کہا: میں اس کام سے دستبردار نہیں ہوں اور مجھے علی پر سبّ و شتم کرنے سے سکون ملتا ہے۔

میں نے حکم دیا کہ اسے سو تازیانہ مارے جائیں اور پھر اسے اس حجرہ میں قید کر دیا جائے۔ ( ہارون رشید نے اپنے ہاتھ سے اس حجرہ کی طرف اشارہ کیا)۔

میرے حکم پر اسے اس حجرہ میں بند کر دیا گیا لیکن میں وہاں سے نہ اٹھا یہاں کہ کہ میں نے وہیں مغرب و عشاء کی نماز ادا کی جب کہ میں یہ سوچ رہا تھا کہ اس شامی خطیب کے خلاف کیا حکم جاری کروں اور اسے کیسے قتل کروں؟

کبھی میں خود سے یہ کہہ رہا تھا کہ اسے قید کر دوں، کبھی کہہ رہا تھا کہ اسے زہر دے دوں تا کہ اس کے جگر کے ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں، کبھی سوچ رہا تھا کہ میں یہ حکم دوں کہ  اسے اس قدر تازیانہ مارے جائیں کہ یہ واصل جہنم ہو جائے۔ یہی سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی اور میں نے خواب میں دیکھا کہ آسمان کا ایک دروازہ کھلا اور رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم ،اميرالمؤمنين‏ عليه السلام، امام حسن ‏عليه السلام، امام حسين ‏عليه السلام‏ اور جبرئيل علیہ السلام کے ساتھ نازل ہوئے ہیں۔

رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا:«أين الدمشقي» حجرہ کا دروازہ کھلا اور خطيب کو لایا گیا۔

اميرالمؤمنين‏ علی عليه السلام نے اس ملعون پکڑا اور عرض کیا: «يا رسول اللَّه؛ هذا يظلمني‏ ويشتمني من غير سبب أوجب لذلك».

پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: يا على! اے چھوڑ دو۔

پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے اس کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: أنت الشاتم على ابن ابيطالب؛ يعنى تم ہی ‏على‏ عليه السلام پر سبّ و شتم کرتے ہو؟

اس نے عرض كیا: جی ہاں.

پيغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے عرض كیا: «أللّهمّ امسخه»؛ خدايا! اس ملعون کو مسخ کر دے. اچانک وہ کتے کی شکل میں تبدیل ہو گیا اور اسے پھر اسی حجرہ میں بند کر دیا گیا۔ اور پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم اپنے ساتھ آنے والے تمام حضرات کے ساتھ واپس آسمان کی جانب چلے گئے۔ میں خواب سے بیدار ہوا تو اپنے غلام کو آواز دی اور کہا: شامی خطيب ‏کو لاؤ. جب اسے لایا گیا تو وہ کتے کی صورت میں تبدیل ہو چکا تھا۔ میں نے حکم دیا کہ اسے واپس لے جاؤ اور اب وہ اسی حجرہ میں موجود ہے۔

پھر اس نے حکم دیا: اس کتے کو لاؤ!

غلام گیا اور اسے کان سے پکڑ کر لایا۔ میں نے دیکھا کہ اس کے کان انسانوں کی طرح تھے لیکن بقیہ اعضاء کتے کی طرح تھے۔

ایک شخص نے کہا: اے خليفه! یہ مسخ شدہ ہے، مجھے خوف ہے کہ کہیں عذاب نازل نہ ہو۔

 ہارون نے حکم دیا کہ اسے دوبارہ حجرہ میں بند کر دیا جائے۔ ابھی زیادہ وقت نہیں گذرا تھا کہ ایک خوفناک آواز آئی اور اس حجرہ پر آسمانی بجلی گری جس سے وہ ملعون جل کر راکھ ہو گیا۔

واقدى کہتے ہیں: میں نے ہارون سے کہا: یہ معجزه تمہارے لئے ایک موعظہ تھا کہ خدا سے ڈرو اور ان کی اولاد پر اس قدر ظلم و ستم نہ کرو۔

ہارون نے کہا: میں نے توبہ کر لی ہے اور دوبارہ ظلم نہیں کروں گا۔

وہ ان تمام فضائل و مناقب کو جانتے تھے  اور اميرالمؤمنين‏ علی عليه السلام کو خليفہ‏ بھی مانتے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے کثیر تعداد میں ان کی اولاد کو قتل کیا، انہیں دیواروں میں چنوا دیا گیا، انہیں کنوں میں پھینک دیا گیا اور انہوں نے اپنی پوری قوت سے یہ چاہا کہ روئے زمین پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اولاد میں کسی ایک فرد کو بھی باقی نہ چھوڑیں۔(501)


501) ثمرات الحياة: 802/2.                                                              

 

منبع: معاویه ج ...  ص ...

 

بازدید : 894