امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(2) اقتدار کی کرسی پر اختلاف

(2)

اقتدار کی کرسی پر اختلاف

   اس بناء پر ہم یہ دیکھتے ہیں جنگ صفين کی تباہی ،جنگ جمل‏ کی تباہی اور فساد کی ہی ایک شاخ ہے اور پھر بنی امیہ کی تمام برائیوں، گمراہیوں اور فسادات کا سرچشمہ معاويه اور جنگ صفين  ہی ہے۔

  ابن زبير کا فتنہ بھی عثمان کے گھر ہونے والی جنگ کی مشکلات کی ایک پہلو ہے کہ عبداللَّه ‏بن زبير کہا کرتا تھا:جب عثمان قتل ہوا تو مجھے اپنی خلافت کا یقین ہو گیا کہ جس کی اس نے تصریح کی تھی اور اس بارے میں میرے گواہ بھی تھے کہ جن میں سے ایک مروان بن حکم ہے! اب یہ دیکھتے ہیں کہ کس طرح یہ سب امور ایک ہی اصل سے وجود میں آئے ہیں اور یہ سب ایک ہی درخت کی شاخیں ہیں اور یہ دور و تسلسل اسی طرح جاری رہا اور ان سب کا سرچشمہ وہی چھ افراد کی شوریٰ ہے۔

   محمّد بن سليمان نے کہا: اس سے حیرت انگیر وہ جواب ہے جو عمر نے دیا ہے۔ جب اسے کہا گیا: تم کس طرح يزيد بن ابى سفيان، سعيد بن عاص، معاويہ اور فلاں فلاں افراد کو فرمانروا مقرر کر رہے ہو کہ جو «مؤلّفة قلوبهم» ہیں اور  جو جنگ کے غلاموں اور غلاموں کی اولاد ہیں لیکن تم على (عليه السلام)، عبّاس، زبير اور طلحہ کو کسی عہدہ پر مقرر رکنے سے گریز کر رہے ہو؟

   اس نے کہا: على (عليه السلام) اس سے زیادہ عقلمند ہیں! لیکن مجھے اس چیز کا خوف ہے کہ اگر میں قریش سے تعلق کرنے والے والے ان دوسرے افراد کو مقرر کروں تو کہیں یہ مختلف علاقوں میں جا کر فساد و تباہی نہ پھیلا دیں!

   جو شخص انہیں کسی ایک علاقہ کا امیر مقرر کرنے سے خوفزدہ ہو کہ کہیں اس کی بادشاہی نہ چھن جائے اور کہیں ان میں سے ہر ایک بادشاہی کا مدعی نہ بن جائےتو پھر یہ کیسے ہو سکتا ہے وہ ان چھ افراد سے خوفزدہ نہ ہو کہ جو سب مساوی تھے اور ایک ہی شوریٰ میں موجود تھے، جب کہ وہ سب خود کو خلافت کے لئے شائستہ سمجھتے تھے۔ کیا اس سے بڑھ کر تباہی کی کوئی اور وجہ ہو سکتی ہے؟

   اور روایت ہوئی ہے کہ ایک دن ہاروں نے اپنے دونوں بیٹوں محمد اور عبد اللہ ( امین اور مأمون) کو دیکھا کہ وہ ایک دوسرے سے کھیل رہے ہیں اور ہنس رہے ہیں۔ یہ دیکھ پر ہارون رشید پہلے تو خوش ہوا لیکن جیسے ہی وہ دونوں اس کی نظروں سے اوجھل ہوئے تو وہ رونے لگا۔

   فضل بن ربيع نے اس سے کہا: اے اميرالمؤمنين! آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں حالانکہ یہ خوشی کا موقع ہے نہ کہ غم و اندوہ کا؟

   ہارون رشید نے کہا: اے فضل! کیا تم نے دونوں میں یہ ہنسی مذاق اور پیار محبت کو ملاحظہ کیا؟ خدا کی قسم! یہ دوستی کینہ اور دشمنی میں تبدیل ہو  جائے گی اور جلد ہی یہ دونوں ایک دوسرے کی جان لینے کے لئے تیار ہوں گے اور بیشک بادشاہی عقیم ہے!

   ہارون رشيد نے ان دونوں کے لئے خلافت قرار دی تھی اور ایک کو دوسرے کے بعد مقرر کیا تھا لیکن اس کے باوجود وہ پریشان تھا اب آپ خود ہی ان لوگوں کو ملاحظہ فرمائیں کہ اس جگہ کیا حال ہو گا کہ جہاں کوئی ترتیب مدنظر نہیں تھی اور جو سب کے سب کنگھے کے دندانوں کی طرح ایک ہی رديف میں قرار پائے تھے!(2447)
 


2447) جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: 258/4.

 

منبع: معاویه ج ...  ص ...

 

 

 

بازدید : 906