امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) امیرالمؤمنین حضرت علی علیہ السلام کا حضرت ابوالفضل العباس کے ہاتھوں کا بوسہ لینا

(۲)

امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام

کا حضرت ابو الفضل العباس کے ہاتھوں کا بوسہ لینا

ایک روز حضرت ام البنین علیہا السلام نے دیکھا کہ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام نے حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کو اپنی آغوش میں بٹھا کر ان کے ہاتھوں کو بوسہ لے رہے ہیں اور گریہ کر رہے ہیں۔ یہ منظر دیکھ کر یہ عظیم اور بافضیلت بی بی مضطرب اور پریشان ہو گئیں کیونکہ اس سے پہلے ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس طرح کے خوبصورت اور علوی شمائل کے حامل فرزند کو باپ  دیکھے اور گریہ کرے جب کہ ظاہراً اس کی کوئی وجہ بھی نہیں تھی۔ اور جب جناب ام البنین علیہا السلام نے امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام سے اس کی وجہ دریافت کی تو  آنحضرت نے آپ کو مشیّت الٰہی سے آگاہ کیا کہ امام حسین علیہ السلام کی نصرت میں ان کے اس بیٹے کےدونوں ہاتھ کٹ جائیں گے۔ یہ سن کر اس دل سوختہ ماں کی آہ و فغاں اور گریہ کی آواز آسمان تک پہنچی اور سب اہل خانہ بھی گریہ کرنے لگے۔

امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے جناب ام البنین علیہا السلام کو خبر دی کہ خداوند تبارک و تعالیٰ کی بارگاہ میں ان کے نور چشم کا ایک عظیم مرتبہ ہے اور خدا ان کے دونوں ہاتھوں کے بدلے انہیں دو بال و پر عطا فرمائے گا کہ جن کے ذریعہ وہ ملائکہ کے ساتھ جنت میں پرواز کریں گے جس طرح خدا نے حضرت جعفر بن ابیطالب علیہما السلام پر بھی ایسی عنائت فرمائی تھی۔پس حضرت امام البنین علیہا السلام یہ جاودانہ اور ابدی بشارت سن کر کھڑی ہو گئیں۔(۱)


(1) پاك پرور، ترجمه العبّاس، / 164.


منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 1609  

 

 

بازدید : 872