عالمی تبدیلی صرف انسانوں سے مخصوص نہیں !
یہ حیرت انگیز تبدیلی صرف انسانوں میں ہی نہیں بلکہ حیوانات اور جمادات میں بھی رونما ہو گی۔ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے اس قول پر غور کیجئے: كتاب «منتخب البصائر» مىں لکھتے ہیں: میں نے ایک کتاب دیکھی جس میں ہمارے مولا حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے خطبات کو جمع کیا گیا تھا ، اور ایک خطبے کے آخر میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے حضرت مہدی ارواحنا فداہ کے ظہور کے زمانے کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
ثمّ يسير إلى مصر فيصعد منبره فيخطب الناس، فستبشر الأرض بالعدل، وتعطي السماء قطرها، والشجر ثمرها، والأرض نباتها، و تتزيّن لأهلها، وتأمن الوحوش حتّى ترتعي في طرق الأرض كأنعامهم، ويقذف في قلوب المؤمنين العلم، فلايحتاج مؤمن إلى ما عند أخيه من علم.
وہ اس شہر کی جامع مسجد میں داخل ہو کر منبر پر جائیں گے اور لوگوں کے لئے خطبہ دیں گے ۔پس وہ خوشخبری دیں گے کہ عنقریب زمین پر عدل کا بول بالا ہو گا اور آسمان بارش برسائے گا،درخت پھل دیں گے اور زمین اپنی فصلیں پیش کرے گی، زمین اپنے باشندوں کے لئے آراستہ ہو گی، لوگ درندوں سے اس حد تک محفوظ ہوں گے کہ وہ مویشیوں کی طرح راستے میں چریں گے۔ اہل ایمان کے دل علم و دانش سے اس طرح سرشار ہوں گے کہ مؤمن کو اپنے بھائی کے علم کی ضرورت نہیں رہے گی۔
اس دن اس عظیم آیت کی تفسیر پوری ہو گی جس میں ارشاد ہوتا ہے:
»يُغْنِ اللهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ « . [1]
خدا ان میں سے ہر ایک کو اپنے کزانے کی وسعت سے غنی اور بے نیاز بنا دے گا ۔
زمين اپنے خزانوں کو آشکار کرے گی اور حضرت امام مهدى علیه السلام فرمائیں گے :
كلوا هنيئاً بما أسلفتم في الأيّام الخالية. [2]
کھائیں، آپ کے لئے گوارا ہو، جو اعمال آپ نے ماضی میں انجام دیئے ہیں۔
تاریخ میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جنہوں نے طاقت حاصل کرنے کے بعد معاشرے کی اصلاح اور پاکیزگی کا دعویٰ کیا۔ لیکن یہ دعویٰ کبھی دعویٰ سے آگے نہ بڑھ سکا اور کبھی حقیقت میں نہ بدلا۔ کبھی ایسا وقت نہیں آیا کہ دنیا مظلوموں، محروموں اور مظالم کے شکار لوگوں سے خالی ہو، اور یہ اس بات کا سب سے بڑا ثبوت ہے کہ اب تک کوئی بھی حکومت دنیا میں انصاف اور امن و امان قائم نہیں کر سکی۔
دنیا میں مظلوموں اور محروموں کا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ کوئی مصلح حکومت موجود نہیں ہے۔ ایک عادلانہ اور اصلاحی حکومت کا لازمہ یہ ہے کہ معاشرے میں کوئی مظلوم نہ ہو۔ لہٰذا مصلح عالم حضرت بقیۃ اللہ الأعظم ارواحنا فداہ کی عالمی حکومت ( جو واحد عالمی اصلاحی حکومت ہے)میں کہیں بھی کوئی مظلوم یا محروم فرد موجود نہیں ہوگا،کیونکہ عدل کے نفاذ سے تمام مظلوموں کو ان کا حق ملے گا اور دنیا کے تمام مظلوم ظالموں کے ظلم و ستم سے نجات پائیں گے اور انہیں امام عصر ارواحنا فداہ کی دادگر اور عدل و انصاف کی حکومت کے سائے تلے مکمل آسائس اور سلامتی حاصل ہو گی ۔
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام «نهج البلاغه» میں ملک کی اصلاح اس صورت میں قرار دیتے ہیں کہ جب معاشرے میں مظلوم محفوظ ہوں اور وہ ظالموں کے ظلم و ستم سے بچیں۔ پس معاشرے میں امن اور سلامتی کا وجود اصلاحی حکومت کی شرط ہے، اور ہر اصلاح طلب حکومت کو چاہئے کہ مظلوموں کو عدل پر مبنی حکومت کے تحت امن و امان فراہم کرے۔
اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیه السلام فرماتے ہیں :
أللّهمّ إنّا أردنا... أن نظهر الإصلاح في بلادك فيأمن المظلومون من عبادك. [3]
خدایا! ہم نے ارادہ کیا ہے کہ تیرے شہروں میں اصلاح کو ظاہر کریں تاکہ تیرے بندوں میں سے مظلوم افراد امن و امان میں رہیں۔
لہذا مظلوموں اور ستم دیدگان کا محفوظ ہونا صالح حکومت کے وجود پر منحصر ہے، ورنہ معاشرے میں مظلوم اور ستم دیدہ افراد کا وجود اسی طرح جاری رہے گا۔ اب امن و امان اور سلامتی کی ضرورت کو بیان کرنے کے مناسب ہوگا کہ ہم امن و امان کے پہلوؤں پر بھی غور کریں اور اس کی کچھ وضاحت کریں۔








