امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امن و امان کے مختلف پہلو

امن و امان کے مختلف پہلو

۱ - انفرادی امن            ۲ – سماجی امن                ۳ – عالمی امن

انفرادی  امن  اور سماجی امن  پر اس کے اثرات:

ظاہر ہے کہ معاشرہ افراد سے بنتا ہے اور ہر فرد معاشرے کا حصہ ہے۔ لہٰذا ایک ایسے فرد کو پیدا کر کے جس کے افکار، خیالات، اعمال اور طرز عمل میں تبدیلی آئی ہو اور اس کے جسم کے گرد تاریک حلقہ ایک نورانی حلقہ میں تبدیل ہوگیا ہو، معاشرے کا ایک فرد ارتقا پذیر ہوا ہے۔ اس شخص کی شخصیت جتنی زیادہ ہوگی اور وہ جتنا زیادہ تعمیری کردار ادا کرے گا، معاشرے کے افراد پر اس کا اتنا ہی زیادہ اثر پڑے گا۔

لہٰذا، جب ایک فرد ذہنی اور جسمانی سلامتی حاصل کرتا ہے، تو درحقیقت معاشرے کے ایک فرد کو امن و امان اور سکون و آرام  حاصل ہوتا ہے۔ اور اس کی تبدیلی سے معاشرے کے کچھ افراد صحت مند اور محفوظ ہو جاتے ہیں۔ یہ معاشرے میں قدم بہ قدم تبدیلی کی ایک قسم ہے جس میں فرد کے  افکار و کردار اور اعمال   معاشرے کے ارکان کے ساتھ ہمنشینی سے متأثر  ہوتے ہیں۔

لیکن چونکہ غیبت کے زمانے میں لوگ اپنی غلطیوں سے صحیح طور پر واقف نہیں ہوتے ہیں، اس لئے وہ ظہور کے زمانے کے آتے ہی اپنے وجود سے بخوبی واقف ہو جائیں گے، اور چونکہ ان کی خود سازی کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں ہو گی، اس لئے وہ ان کو ختم کرنے کے لئے تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ یہ ایک سچائی ہے جو  ظہور کے زمانے میں دنیا کے تمام افراد میں  واقع ہو گی ۔

بازدید : 34