فتنوں کا مثبت اور منفی کردار
بڑے فسادات اور فتنے، عظیم مردوں کی تشکیل اور خدا کے دوستوں کی پاکیزگی و تطہیر میں بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگرچہ بہت سے لوگ تباہ کن فتنوں میں گمراہ ہو کر اپنی ذات اور اپنی قدروں کو ضائع کر دیتے ہیں، مگر حقیقی انسان نہ صرف فتنوں میں گرفتار نہیں ہوتے بلکہ ان سے مضبوط اور نکھرتے ہیں۔
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
ستكون فتنة يُحصِّل الناسَ كما يُحصّل الذهب في المعدن.[1]
عنقریب ایک ایسا فتنہ برپا ہوگا جو لوگوں کو خالص کر دے گا، جس طرح کان میں سونا خالص ہو جاتا ہے۔
کان میں کم قیمت یا ناخالص سونے کو خالص سونا بنا نے میں ہزاروں سال لگتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات فتنے اتنے اہم اور مؤثر ہوتے ہیں کہ مختصر مدت میں اصیل انسان کو پاک کر دیتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے وہ مختصر سی مدت میں بہت سے بے وقعت افراد کو ہلاک کر دیتے اور تباہ کر دیتے ہیں۔
درحقیقت اس طرح کے عظیم فتنے بڑے مردوں کی کمی کو پورا کر دیتے ہیں اور ان کی بے وقعت اور پست صفات کو قابلِ قدر اور مفید خصوصیات میں بدل دیتے ہیں؛ کیونکہ وہ فتنوں کے ساتھ ہاتھ نہیں ملاتے اور فساد کے ساتھ سازباز نہیں کرتے، بلکہ وہ جل جاتے ہیں، اور یہ سوز دل نہ صرف انہیں نکھارتا ہے بلکہ ان کے تیزی سے نکھرنے میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
اگرچہ کان میں ناخالص سونے کو خالص سونے میں تبدیل ہونے کے لئے ہزاروں سال لگتے ہیں [2] لیکن آگ اور بھٹی اسے ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں خالص سونے میں بدل دیتی ہے۔ اسی طرح جن لوگوں کو خود سازی اور تزکیۂ نفس کے لئے سالہا سال اور طویل مدت کی ضرورت ہوتی ہے، بعض اوقات فتنوں اور مشکلات کی آگ انہیں بہت کم وقت میں نکھار دیتی ہے۔
یہ بات بالکل واضح ہے کہ صرف کچھ لوگوں کے لئے فتنے مثبت کردار ادا کرتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ایسے افراد بہت کم ہوتے ہیں۔ عام لوگ فتنوں کا شکار ہو جاتے ہیں اور دنیا کے فتنہانگیز عناصر کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں، اور اسی وجہ سے دنیا کے لوگ آرام و سکون اور امن کھو بیٹھتے ہیں۔








