محمد و آلِ محمد علیہم السلام کی عظمت ناقابل بیان
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ذخیرۂ الہیٰ اور کائنات کے امراء اور ولایتِ ملک و ملکوت کی آخری کڑی ہیں۔ ہم کبھی بھی ان بزرگوں کی عظمت کو بیان نہیں کر سکتے، کیونکہ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:
جلّ مقام آل محمّد علیهم السلام عن وصف الواصفين و نعتِ الناعتين وأن يقاس بهم أحدٌ من العالمين.[1]
آلِ محمد علیہم السلام کا مقام و مرتبہ وصف کرنے والوں کے بیان اور ستائش کرنے والوں کی ستائش سے بلند ہے، اور نہ ہی دنیا کے کسی شخص کا اُن سے موازنہ کیا جا سکتا ہے۔
ان بزرگ ہستیوں کی اتنی عظمت کے باوجود ہم ان کے عظیم مقامِ ولایت سے غافل ہیں ، حالانکہ اب ان میں سے آخری ہستی موجود ہیں اور ہمارا معاشرہ ان کی امامت و رہبری کے زمانے میں زندگی بسر کر رہا ہے۔جب کہ ہر انسان کو چاہئے کہ وہ اپنے حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی طرف توجہ کرے اور ان کی بے پایاں عظمت و مرتبہ سے واقف ہو۔
لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ہم خدا کو بھول گئے ہیں اور امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو بھی یاد نہیں رکھتے۔ ہم غفلت کی لہروں میں غرق ہو چکے ہیں، اور یہ لہریں ہمیں ہر وقت کسی نہ کسی طرف دھکیلتی رہتی ہیں، اور بدقسمتی سے ہمیں اس مصیبت کا شعور نہیں ہے، کیونکہ ہم نے خود کو بھی بھلا دیا ہے، اور یہ ایک طرح کی سزا ہے جو خدا نے ہمیں دی ہے،کیونکہ جو کوئی خدا کو بھول جائے ، اس کے جانشین کی یاد سے غافل ہو اور اپنے زمانے کے امام کی طرف توجہ نہ دے تو خدا سے خود فراموشی کی آفت میں مبتلا کر دیتا ہے ۔ خداوند فرماتا ہے:
نَسُوا اللهَ فَأَنْساهُمْ أَنْفُسَهُم .[2]
جنہوں نے خدا کو بھلا دیا تو خدا نے خود ان کے نفس کو بھی بھلا دیا۔
جو لوگ خدا کو بھول جائیں، جو خدا کی بے شمار نعمتوں کو بھول جائیں، خدا بھی انہیں بھول جاتا ہے۔ جس طرح وہ خدا اور الٰہی امور کو بھول گئے، اسی طرح وہ اپنے آپ کو اور اپنی عظیم طاقت اور توانائیوں کو بھی بھول جاتے ہیں۔ وہ انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں اور ان سے دور ہو جاتے ہیں۔
جو شخص خدا اور اپنے زمانے کے امام سے دور ہو جاتا ہے اور ان سے دوری اختیار کر لیتا ہے ،وہ اپنی ذات سے بھی دور ہو جاتا ہے، اپنے آپ سے بھی غافل ہو جاتا ہے اور اپنے نفس کو بھول جاتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ وہ بذات خود ایک خزانہ ہے[3] اور خدا نے اس میں ایک قیمتی خزانہ رکھا ہے، اسے وہ خزانہ تلاش کرنا چاہئے، ورنہ وہ خود کو بھی کھو دے گا۔
اس نے نہ صرف اپنے آپ کو بلکہ خدا اور اپنے زمانے کے امام کو بھی کھو دیا ہے اور جب تک وہ خدا کو یاد نہیں کرے گا اور اپنے زمانے کے امام سے غافل ہوگا، وہ نہ صرف خدا اور اپنے وقت کے امام کو نہیں ڈھونڈ پائے گا بلکہ وہ اپنے آپ کو بھی تلاش نہیں کر پائے گا، اور وہ دوسرے گمشدہ لوگوں کی طرح گم شدہ ہی رہے گا، حالانکہ وہ یہ سمجھتا ہو گا کہ اس نے اپنا راستہ پا لیا ہے، کیونکہ بہت سے ایسے عارف ہیں جو غافلوں کے قافلےمیں چل رہے ہوتے ہیں۔
س : پس گمشدہ شخص کب خود کو پاتا ہے؟!
ج: جب وہ خدا کو یاد کرتا ہے اور جب وہ خدا اور اپنے زمانے کے امام کو نظرانداز کرنا اور ان سے غافل رہنا چھوڑ دیتا ہے۔








