امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
روایات میں عالمی جنگ کے واقع ہونے کا بیان

روایات میں عالمی جنگ کے واقع ہونے کا بیان

اب پوری دنیا میں  انتشار اور افراتفری کا عالم ہے اور جب عالمی جنگ کے شعلے بھڑکیں گے تو اس سے دنیا کے بہت سے لوگ متأثر ہو سکتے ہیں۔ کیا اہلبیت علیہم السلام کی روایات میں عالمی جنگ کے وقوع پذیر ہونے کا ذکر ملتا ہے؟

جواب:

اہلبیت علیہم السلام کے فرامین اور روایات میں عالمی جنگ اور دنیا کے  بہت سے افراد یا لوگوں کی اکثریت کے تباہ و برباد ہونے اور مارے جانے کے بارے میں بیان ہوا ہے ۔ روایات میں دنیا کے ایک تہائی، دو تہائی، یا ۹۰ فیصد افراد کے قتل ہونے کا ذکر آیا ہے۔

یہ واضح سی بات ہے کہ جنگِ عظیم یا عالمی جنگ کے بارے میں وارد ہونے والی ایسی روایات حضرت امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور سے پہلے ہونے والی جنگ کی طرف اشارہ کرتی ہیں، نہ کہ  یہ جنگیں حضرت کے ظہور کے آغاز کے موقع  پر ہوں گی ۔

دنیا کے تمام لوگوں پر واجب ہے کہ وہ خداوند متعال کے حضور ظلم و ستم، فساد، فحاشی اور ان تمام چیزوں سے اجتناب کریں جو عالمی جنگ کو بھڑکانے کا سبب بنتی ہیں، اور جنگِ عظیم کے وقوع کو روکنے کی کوشش کریں۔ بدقسمتی سے پوری دنیا میں حکومتیں (جنہیں لوگوں کی رہنمائی کا فریضہ ادا کرنا چاہئے) اور عام لوگ (جنہیں اپنی نجات کی کوشش کرنی چاہئے) اس اہم معاملے سے غافل ہیں اور جانے یا انجانے میں عالمی جنگ کی طرف گامزن ہیں!

رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور ہمارے دیگر تمام ائمہ علیہم السلام نے ہمیشہ اپنی پیشنگوئیوں کے ذریعے لوگوں کو ان کے مستقبل سے آگاہ فرمایا ہے ، لیکن  بد قسمتی سےصدرِ اسلام سے لے کر اب تک بہت ہی کم لوگوں نے ان پیشنگوئیوں سے سبق سیکھا ہے اور  آج تک بہت سے لوگ تباہ کن اور گمراہ کن عقائد یا حالات کے گرداب میں غرق ہوتے چلے جا رہے ہیں۔

لوگ بارگاهِ الٰہی میں توبہ اور اہلبیت علیہم السلام سے توسّل کرکے دنیا کو عالمی جنگ کے وقوع سے نجات دلا سکتے ہیں۔

اگر لوگ اسی طرح عمل کریں جیسا کہ خداوند متعال چاہتا ہے، تو کبھی خونخوار ظالم ان پر حکومت نہیں کر سکتے۔اب آپ اس بہت ہی اہم روایت پر توجہ فرمائیں جو امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے ظہورِ امام زمانہ علیہ السلام سے پہلے کے مہلک واقعات کے بارے میں بیان فرمائی ہے۔

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

لا يَخرُجُ المَهديُّ حتّى يُقْتَلَ ثُلثٌ وَيَموتَ ثُلثٌ، وَيَبْقى ثُلثٌ. [1]

حضرت مہدی علیہ السلام قیام نہیں فرمائیں گے جب تک ایک تہائی لوگ قتل نہ ہو جائیں، ایک تہائی لوگ فوت نہ ہو جائیں، اور ایک تہائی باقی رہیں۔

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اور دیگر ائمہ اطہار علیہم السلام سے وارد ہونے والی ایسی تعبیرات  لاکھوں، کروڑوں افراد کے قتل عام کی نشاندہی کرتی ہیں، اور یہ ان خطرناک اور تباہ کن وسائل کی طرف بھی اشارہ کرتی ہیں جو اس قسم کے وسیع پیمانے پر قتل عام کی طاقت رکھتے ہیں۔

یہ قتل عام اس بات کی واضح اور گویا دلیل ہے کہ دنیا میں اِس وقت انسانی معاشرے کی قیادت  اہل اور باشعور رہنما نہیں کر رہے ، بلکہ ایسے لوگ دنیا کے امور کی ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں جو خود کو دنیا کا مالک سمجھتے ہیں، جو نہ صرف دنیا کی اصلاح کرنے کے قابل نہیں بلکہ انہیں خود اپنی اصلاح  کرنے کی ضرورت ہے!اب تک صنعتی دنیا میں ہونے والی ترقی  صرف ایک پہلو تک محدود رہی ہے ، جس میں انسانی عزت و وقار کو مدنظر نہیں رکھا  گیا ۔

امیرالمؤمنین حضرت  امام علی علیہ السلام نے اس مختصر روایت میں ظہور امام زمانہ علیہ السلام سے پہلے کے زمانے کے بارے میں چند بہت اہم پیشنگوئیاں فرمائی ہیں، اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اس وقت دنیا کی آبادی آٹھ ارب سے زائد ہے اور اس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے ۔اب ہم چند نہایت اہم پیشنگوئیاں اور اس روایت کے حوالے سے کچھ دیگر نکات ذکر کرتے ہیں :

۱۔دنیا کی موجودہ آبادی اور اس میں مسلسل اضافہ کو مدنظر رکھتے ہوئے امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور سے پہلے دنیا کے ایک تہائی لوگوں کا قتل چند ارب انسانوں کے مارے جانے کی نشاندہی کرتا ہے اور یہ مستقبل میں   عالمی جنگ کا ایک خاکہ پیش کرتا ہے۔

۲۔ دنیا کے ایک تہائی لوگوں کے مرنے کا مطلب ؛ کئی ارب افراد کی ہلاکت ہے، اور اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ ایک تہائی لوگوں کی موت قحط، بھوک،وبائی امراض اور وائرس کی وجہ سے ہوگی۔

۳۔ دنیا کے ایک تہائی لوگوں کا قتل نئے اور جدید مہلک  جنگی آلات کی وجہ سے ہوگا جو دوسری عالمی جنگ میں استعمال نہیں کئے گئے تھے، کیونکہ دنیا کے ایک تہائی لوگوں کا قتل اور باقی ایک تہائی کی موت طویل عرصے میں واقع نہیں ہوگی۔

اگر ظہور سے پہلے عالمی جنگ پہلی اور دوسری جنگ عظیم  کی طرح طویل مدت تک جاری رہے تو آبادی  کی کثرت کی وجہ سے دنیا کی آبادی کا دو تہائی حصہ  ختم نہیں ہونے پائے گا۔اس بات کو واضح کرنے کے لئے پہلی عالمی جنگ کی ایک رپورٹ پر توجہ کریں :

 


[1] ۔ عقد الدرر : ۹۶.

بازدید : 11