مستقبل کی عالمی جنگ کے بارے میں ایک اہم سوال کا جواب
اگر عالمی جنگ واقع ہو تو بلاشبہ بہت سے بے گناہ افراد بھی اس کی لپیٹ میں آئیں گے اور کہا جاتا ہے کہ خشک و تر سب ایک ساتھ جل جائیں گے۔ کیا امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف اور دیگر اہلبیت علیہم السلام کی قدرت کے پیش نظر کچھ بے گناہ افراد اور دوستوں کی مدد کی جائے گی؟کیا یہ بزرگ اپنے اختیار سے طاقتور قوتوں کے استعمال کو روکیں گے؟ یا بالکل کوئی مداخلت نہیں کریں گے اور لوگوں کو اپنے حال پر چھوڑ دیں گے؟ یہ ایک اہم سوال ہے جس کا ایک قابل غور جواب دیا جانا چاہئے۔
اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں: اگرچہ خدا نے شیطان کو امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور تک مہلت دی ہے، لیکن اس مہلت کا مطلب یہ نہیں کہ خداوند نے اپنے ہاتھ باندھ لئے ہیں اور اب اولیاء اور خدا کے جانشین دنیا کے امور میں کوئی مداخلت نہیں کریں گے۔ اس بات کی دلیل وہ تصرفات ہیں جو اہلبیت علیہم السلام نے پہلی عالمی جنگ اور دیگر مواقع پر انجام دیئے اور لوگوں کو موت کے منہ سے بچایا۔ان بزرگ ہستیوں نے نہ صرف اپنے دوستوں کو بلکہ کبھی کبھار اجنبی افراد کو بھی نجات دی جو موت سے بچنے کی لیاقت رکھتے تھے ۔ اب کتاب ’’سراج المعانی‘‘میں نقل ہونے والے اس دلچسپ واقعہ پر توجہ کریں ۔








