امام صادق عليه السلام : جيڪڏهن مان هن کي ڏسان ته (امام مهدي عليه السلام) ان جي پوري زندگي خدمت ڪيان هان.
اهل بيت عليهم السلام کا کچھ لوگوں کو جنگ میں نجات دینا

اهل بيت عليهم السلام کا کچھ لوگوں کو جنگ میں  نجات دینا

عالم ربانی ،سالک سبحانی ، جلیل القدر محدث، ثقہ مرحوم حاج ملا محمود زنجانی المعروف بہ حاج ملاّ آقا جان پہلی جنگ عظیم کے بعد  مقامات مقدسہ  کی زیارت کے لئے پیدل عراق کی طرف روانہ ہو ئے اور  خانقین شہر میں نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں گئے  اور وہاں ایک سفید پوست  قوی ہیکل شخص کو شیعوں کی طرح نماز پڑھتے ہوئے دیکھا لیکن میں اس بات پر حیران ہوا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ وہ روس کے شمال سے تعلق رکھتا ہے۔

جب اس نے نماز ادا کر لی تو میں اس کے قریب گیا اور اسے سلام کیا ۔ میں اس کے لہجہ سے سمجھ گیا کہ وہ روسی ہے۔ لہذا میں نے اس سے اس کے وطن ، اسلام اور اس  کے شیعہ ہونے کے بارے میں پوچھا ۔

 اس نے کہا:میں روس کے علاقہ لنينگراد کا رہنے والا ہوں اور میں پہلی جنگ عظیم میں دو ہزار روسی سپاہیوں کا افسر تھا اور میں کربلا کو فتح کرنے پر مأمور تھا۔ہم شہر کے باہر فوجی کیمپ میں تیار بیٹھے تھے اور کربلا پر حملہ کرنے کے حکم کا انتظار کر رہے تھے۔

ایک رات میں نے عالم خواب میں ایک جلیل القدر شخصیت کو دیکھا جو میرے پاس آئے اور میرے ساتھ روسی زبان میں گفتگو کی اور مجھے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا: اس جنگ میں روسی حکومت کو شکست ہوئی ہے اور کل یہ خبر عراق  میں پھیل جائے گی اور روس کی شکست کی خبر پھیلتے ہی عراق میں روس کے تمام فوجی عربوں کے ہاتھوں مارے جائیں گے، تم مسلمان ہو جاؤ تا کہ میں تمہیں نجات دوں۔

میں نے پوچھا: آپ کون ہیں ؟ میں نے کسی کو اخلاق ، حسن اور شجاعت میں آپ کی طرح نہیں دیکھا؟

فرمایا: میں ابو الفضل العباس ہوں! مسلمان میری قسم کھاتے ہیں ۔

میں ان کے ناقابل بیان جمال و کمال کا شیفتہ ہو چکا تھا اور میں نے وہیں ان کی تلقین سے اسلام قبول کیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا: اٹھو اور روسی فوجی کیمپ سے دور چلے جاؤ!

میں نے پوچھا: کہاں جاؤں؟

فرمایا:تمہارے فوجی کیمپ کے پاس ایک گھوڑا ہے اس پر سوار ہو جاؤ، وہ تمہیں نجف پہنچا دے گا اور وہاں تم ہمارے وکیل اور ہمارے خاندان کی بااعتماد شخصیت سید ابو الحسن کے پاس جاؤ ۔

میں نے عرض کیا: میرے آقا! ہمیشہ دس سپاہی میرے ساتھ مأمور ہوتے ہیں ؟

فرمایا: اس وقت وہ مخمور اور مست ہیں اور انہیں تمہارے جانے کی خبر نہیں ہو گی۔

میں خواب سے بیدار ہوا تو میں نے اپنے خیمہ کو منور اور معطر پایا، جلدی سے اپنے کپڑے بدل کر روانہ ہوا۔ میرے ساتھ ڈیوٹی پر مأمور سپاہی مست تھے ،میں ان کے سامنے سے گزر گیا لیکن ان میں سے کوئی بھی متوجہ نہ ہوا۔ ہمارے فوجی کیمپ کے پاس ایک گھوڑا کھڑا تھا میں اس پر سوار ہوا  تو تھوڑی سے مدت کے بعد اس نے مجھے ایک شہر میں اتارا۔

میں حیرت زدہ تھا اور میں نے دیکھا کہ گھر کا دروازہ کھلا ہوا اور ایک نورانی چہرے کا مالک بوڑھا شخص باہر نکلا جن کے ساتھ ایک شیخ تھا جس نے مجھ سے روسی زبان میں گفتگو کی اور مجھے گھر آنے کی دعوت دی۔

میں نے ان سے پوچھا : یہ آقا کون ہیں؟

انہوں نے کہا:یہ وہی ہیں جن کی طرف حضرت عباس عليه السلام نے آپ کو بھیجا اور آپ کے آنے سے پہلے آپ کے بارے میں انہیں تاکید  کی تھی ۔

میں نے پھر سے اسلام قبول کیا اور اس بزرگ شخص نے شیخ کو حکم دیا کہ مجھے اسلامی احکامات کی تعلیم دیں اور اس سے بھی زیادہ حیرت کی بات یہ تھی کہ اگلے دین عراق میں روس کی بلشویٹ حکومت کی شکست کی خبر پھیل گئی اور عربوں نے غصہ میں روسی سپاہیوں پر حملہ کر کے سب کو قتل کر دیا اور میرے علاوہ کوئی زندہ نہ رہا ۔

میں نے پوچھا:اب آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ؟

کہا:نجف کا موسم بہت گرم ہے اسی لئے آيت الله اصفهاني گرمیوں میں مجھے یہاں بھیجتے ہیں کیونکہ یہاں کا موسم کچھ بہتر ہے اور باقی دنوں میں آیت اللہ  کے خرچ پر نجف میں رہتا ہوں ۔[1]

 


[1] ۔ سراج المعانی : ۲۴۰.

دورو ڪريو : 23