دشمن کے لشكر کا خاتمہ
دنیا کے بعض سیاستدانوں نے اعتراف کیا ہے کہ ایک ایسی قدرت ہے جو ان سے برتر اور ان کی توانائیوں سے بالاتر ہے، جو ان پر نظر رکھتی ہے، اور ایسا نہیں ہے کہ وہ جس منصوبہ پر چاہیں ، عمل کریں ۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ کبھی کبھار اس طاقت کا مظاہرہ ہوشیار اور پراسرار نوری بادلوں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اور اس کے ذریعے دنیا کے تباہ کن منصوبہ سازوں کے لئے واضح ہو گیا ہے کہ دنیا اور دنیا والوں کو ان کے حال پر نہیں چھوڑ دیا گیا ، یعنی وہ لاوارث نہیں ہیں ، بلکہ ان سے بالاتر ایک طاقت دنیا کے انتظام میں مؤثر کردار ادا کر رہی ہے۔
پہلی عالمی جنگ میں، جب برطانوی فوج اور اس کے اتحادیوں نے بہت سے ممالک پر قبضہ کیا اور اپنے سپاہیوں کو دوسروں کی زمینوں پر تعینات کیا، تو برطانوی فوج کا ایک حصہ ترکی میں داخل ہوا اور ایک پہاڑی علاقے میں مقیم ہو گیا، جہاں شاید وہ ایران میں داخل ہونے اور وہاں اپنی طاقت بڑھانے کی تیاری کر رہے تھے۔
برطانیہ کی فوج، جو بہت سے ٹینکوں، توپوں اور سپاہیوں پر مشتمل تھی، نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ رات ایک بڑے پہاڑ کے دامن میں گزاریں گے اور اگلے دن اپنی مہم جاری رکھیں گے۔ لیکن وہ رات ختم ہونے سے پہلے ہی ان سے برتر ایک طاقت نے ان کے سپاہیوں، توپوں، ٹینکوں اور جنگی ساز و سامان کو خون کا ایک قطرہ بہائے بغیر غائب کر دیا۔
نوری بادلوں کا ایک بڑا سا ٹکڑا ان کی طرف بڑھا اور ایک ہی لمحے اس پراسرار نوری بادلوں نے تمام سپاہیوں، ٹینکوں اور توپوں کو گھیر لیا اور سب کو پہاڑی کے دامن سے اٹھا کر لے گیا اور برطانیہ کی بڑی فوج اور ان کے جنگی ہتھیاروں کا کوئی نام و نشان باقی نہ رہا؛ نہ تو برطانوی سپاہیوں کا کوئی سراغ مل سکا اور نہ ہی ان کی توپوں اور ٹینکوں کا کوئی نام و نشان ملا۔
اس طرح برطانیہ کے مکارانہ منصوبے خاک میں مل گئے اور دنیا کی تمام طاقتوں نے سمجھ لیا کہ خداوند متعال نے دنیا کے انتظام کو اس کے حال پر نہیں چھوڑا ہے۔
ہم اس موضوع سے متعلق دیگر اہم واقعات سے بھی واقف ہیں ، جن میں طاقتور اور پراسرار نوری بادلوں نے بہت حیرت انگیز کام انجام دیئے ہیں، جن کا بیان تفصیل طلب ہے۔ اب پہلی عالمی جنگ میں برطانوی فوج کے پراسرار نوری بادلوں کے ذریعے غائب ہونے کی مکمل رپورٹ پر توجہ فرمائیں ۔








