امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
ایران میں سب سے پہلے اسلام کو کون لایا؟

ایران میں سب سے پہلے اسلام کو  کون لایا؟

ایران میں سب سے پہلے اسلام رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کے زمانے میں، امیرالمومنین حضرت امام علی علیه ‌السلام کے ہاتھوں پہنچا۔ جب رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے امیرالمومنین علیه ‌السلام کو یمن بھیجا، اور کسی ایک شخص کو قتل کئے  بغیر اور بغیر خون بہائے لوگ مسلمان ہوگئے۔

تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ اُس زمانے میں یمن، ایران کا حصہ تھا؛ اور ایران کا پہلا علاقہ جہاں اسلام داخل ہوا، یمن کا علاقہ تھا۔ اور ہم اہلِ سنّت کی کتابوں سے ثابت کرتے ہیں کہ یمن کے بادشاہوں کی ایرانی  معین کرتے تھے:

توجہ کیجئے:

طبری نے اپنی تاریخ میں اس طرح نقل کیا ہے:

مرزوان کے دو بیٹے تھے، جن میں سے ایک عربی زبان کو پسند کرتا تھا؛ اُس نے اسے یمن کا بادشاہ بنا دیا اور خود وفات پا گیا۔ جب کسریٰ کو خبر پہنچی کہ یہ شخص عربی زبان میں شعر کہتا ہے اور عربی زبان کو پسند کرتا ہے، تو اُس نے اسے معزول کر دیا اور اس کی جگہ ایرانی باذان کو حاکم مقرر کیا۔ اور باذان آخری شخص تھا جو عجم (ایرانیوں) میں سے یمن کا فرمانروا تھا۔

 وکان للمروزان ابنان أحدهما تعجبه العربیة ویروی الشعر یقال له خر خسرة والآخر أسوار یتکلّم بالفارسیّة و یتدهقن فاستخلف المروزان ابنه خر خسرة وکان أحب ولده إلیه على الیمن وسار حتّى إذا کان فی بعض بلاد العرب هلک فوضع فی تابوت وحمل حتّى قدم به على کسرى فأمر بذلک التابوت فوضع فی خزانته وکتب علیه فی هذا التابوت فلان الّذی صنع کذا وکذا قصّته فی الجبلین ثم بلغ کسرى تعرب خر خسرة وروایته الشعر وتأدبه بأدب العرب فعزله وولى باذان وهو آخر من قدم الیمن من ولاة العجم ...۔ [1]

پس ثابت ہوگیا کہ یمن، ایران کا حصہ تھا اور وہاں کے بادشاہوں کو بھی  ایرانی ہی معین کرتے تھے۔

البانی، جنہیں “اپنے زمانے کا بخاری” کہا جاتا ہے، انہوں نے بھی ’’ارواء الغلیل‘‘ میں نقل کیا ہے:

براء بن عازب کہتے ہیں:نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   نے خالد بن ولید کو یمن کی طرف اسلام کی دعوت دینے کے لئے بھیجا، لیکن انہوں نے اسلام قبول نہیں کیا۔ پھر رسول اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے علی علیه السلام کو یمن کی طرف روانہ کیا اور  فرمایا:

جو شخص پہلے لشکر سے علی علیه السلام کے ساتھ جانا چاہتا ہے، چلا جائے۔

براء کہتے ہیں: میں علی علیه السلام کے ساتھ گیا۔ جب ہم یمن کی قوم کے پاس پہنچے تو وہ ہماری طرف آئے۔ امیرالمؤمنین علیه السلام نے ہمیں نماز پڑھائی، پھر ہمیں ایک صف میں کھڑا کیا اور ہمارے سامنے کھڑے ہوئے، اور صرف رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کا خط ان لوگوں کو پڑھ کر سنایا۔ چنانچہ پورا قبیلۂ ہمدان اسلام لے آیا۔

علی علیه السلام نے اس واقعے کی خبر رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کو دی۔ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   نے سجدۂ شکر ادا کیا، پھر سر اٹھایا اور فرمایا:

سلام ہو اہلِ ہمدان پر، سلام ہو اہلِ ہمدان پر۔

عن البراء بن عازب قال: (بعث النّبی (صلّى الله علیه وسلّم) خالد بن الولید إلى أهل الیمن یدعوهم إلى الإسلام فلم یجیبوه ثم إن النّبی (صلّى الله علیه وسلّم) بعث علی بن أبی طالب وأمره أن یقفل خالدا ومن کان معه إلا رجل ممّن کان مع خالد أحب أن یبقى مع علی رضی الله عنه فلیعقب معه قال البراء : فکنت ممّن عقب معه فلما دنونا من القوم خرجرا إلینا فصلّى بنا على رضی الله عنه وصفنا صفاً واحداً ثمّ تقدّم بین أیدینا فقرأ علیهم کتاب رسول الله (صلّى الله علیه وسلّم) فأسلمت همدان جمیعا فکتب علی رضی الله عنه إلى رسول الله (صلّى الله علیه وسلّم) بإسلامهم فلّما قرأ رسول الله (صلّى الله علیه وسلّم) الکتاب خرّ ساجداً ثمّ رفع رأسه فقال : السلام على همدان السلام على همدان...۔ [2]

اس کے بعد جناب آلبانی کہتے ہیں : بیهقی نے بھی یہ روایت نقل کی ہے اور بخاری نے  روایت کا پہلا حصہ نقل کیا ہے لیکن یہ پوری روایت بخاری کی شرائط کی رو سے صحیح ہے ۔ [3]

أخرج البخاری صدر الحدیث عن إبراهیم بن یوسف فلم یسقه بتمامه وسجود الشکر فی تمام الحدیث صحیح على شرطه. [4]

 


[1] ۔ تاریخ طبری :۱/ ۴۸۴.

[2] ۔ ارواء الغلیل: ۲/ ۲۳۰ ،المکتب الإسلامی - بیروت.

[3] ۔ أخرجه البیهقی : ۲/ ۳۶۹.

[4] ۔ ارواء الغلیل: ۲/ ۲۳۰،المکتب الإسلامی - بیروت.

بازدید : 491