امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
نائیٹروجن بم

نائیٹروجن بم

نائیٹروجن  بم کو ایٹم بم سے زیادہ خطرناک قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ یہ اپنی تباہ کن اور مہلک طاقت کے علاوہ ہوا میں آکسیجن کو بھی ختم کر دیتا ہے ۔

اگر یہ بم کسی ملک یا شہر پر گرا دیا جائے تو کچھ ہی دیر میں تمام جاندار فنا ہو جائیں گے اور نہ کسی کو ان کی موت کا سبب معلوم ہو گا اور نہ ہی حملہ آور کا پتہ چل سکے گا، اور نہ ہی کسی کو جنگ کے آغاز  اور اس کے انجام کا  علم ہو گا۔ اس سے بھی بہتر اور  واضح طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ  کوئی بھی مقدمات کی پیروی کرنے یا بدلہ لینے کے لئے زندہ نہیں بچے گا۔اگرچہ اس کے بعد بھی اب تک دنیا کے بڑے ممالک کے اسلحہ خانوں میں بہت زیادہ خوفناک اور مہلک ہتھیار بنائے گئے ہیں جن میں انتہائی خوفناک ’’حیاتیاتی ہتھیار‘‘ بھی شامل ہیں  جو نائیٹروجن  بم کی طرح جانداروں پر انتہائی تباہ کن اثرات مرتب کرتا ہے۔

حیاتیاتی ہتھیار بنیادی طور پر جسم پر اثر انداز نہیں ہوتے، بلکہ نفسیات پر اثر انداز ہوتے ہیں: مثال کے طور پروہ قوت ارادی کو ختم کر دیتے ہیں، خوف اور اضطراب پیدا کرتے ہیں، یا توازن اور رجحان میں خلل ڈالتے ہیں۔

اس ہتھیار کے اثرات بادلوں یا دھند کے ذریعے شہر کے آسمان پر پھیل جاتے ہیں اور اس شہر کے رہنے والے  چند ہفتوں میں اپنی تمام قوت ارادی سے محروم ہو جاتے ہیں، یا گہری نیند میں ڈوب جاتے ہیں، اور کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں ۔ جو لوگ اس سے متأثر ہوتے ہیں ان میں کوئی علامات یا پیچیدگیاں ظاہر نہیں ہوتی ہیں اور انہیں کسی بھی قسم کا انفیکشن یا درد نہیں ہوتا، لیکن وہ شروع میں شدید کمزوری محسوس کرتے ہیں اور پھر اپنی اندرونی طاقت سے محروم ہو جاتے ہیں ۔

بلیوں پر (L.S.D25) گیس کا  تجربہ کیا گیا تھا جس  سے ان کے دماغی خلیوں  کا کچھ حصہ ناکارہ ہو گیا اور انہوں نے ردّ عمل دینا چھوڑ دیا۔ پھر چوہوں کو دیکھتے ہی وہ گھبرا کر  بھاگ جاتی تھیں ۔

ایک امریکی فوجی ماہر کا اس دوا کے اثر کے بارے میں کہنا ہے کہ ’’اس گیس کا صرف آدھا کلو گرام نیویارک جتنے شہر کے مکینوں کو مفلوج کرنے کے لئے کافی ہے، یا اگر دشمن  اپنے مورچوں میں دفاع کے لئے تیار  بیٹھا ہو تو یہ اس سے ہر قسم کی نقل و حرکت کی طاقت کو چھین سکتی ہے ۔ [1]

 


[1] ۔ تاريخ ناشناخته بشر:۲۰۶.

بازدید : 4