قرآن کی نظر میں ظہور سے پہلے کی دنیا پر ایک نظر
قرآن ایک آسمانی کتاب ہے جو وحی کے بنیاد پر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر نازل ہوئی ہے، اور اس کے بھیجنے کا مقصد تمام لوگوں کی ہدایت اور تمام انسانوں کو ظلمت اور تاریکی کی وادی سے نکال کر نور اور روشنی کی طرف لانا ہے۔ خداوند کریم قرآن میں فرماتا ہے:
كِتابٌ أَنْزَلْناهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُماتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلى صِراطِ الْعَزيزِ الْحَميدِ. [1]
یہ(قرآن) ایسی کتاب ہے جسے ہم نے آپ کی طرف نازل کیا ہے تا کہ آپ لوگوں کو حکم خدا سے تاریکیوں سے نکال کر نور کی طرف لے آئیں اور خدائے عزیز و حمید کے راستے پر لگا دیں ۔
اس بنا پر اس آیت شریفہ کے مطابق قرآن کریم انسانوں کو تمام تاریکیوں سے نجات دلانے کے لئے نازل ہوا ہے۔
یہ ایک وعدہ ہے جو خدا نے لوگوں کے لئے بیان کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم پر قرآن کریم بھیجنے کا مقصد انسانوں کو جہالت اور کفر کے اندھیروں سے نکال کر علم اور ایمان کی روشنی کی طرف لانا ہے۔
ظاہر ہے کہ یہ وعدہ ٔالٰہی اب تک پورا نہیں ہوا ہے اور قرآن نے ابھی تک دنیا کے انسانوں کو جہالت، گمراہی اور کفر کی تاریکی سے نجات نہیں دلائی اور انہیں نورِ ایمان تک نہیں پہنچایا ہے۔
قرآنِ کریم میں اس وعدۂ الٰہی کی تکمیل کے بارے میں کوشش اور جستجو کرنے سے جو چیز ہمیں ملتی ہے وہ یہ ہے کہ قرآن واضح طور پر یہ اعلان کرتا ہے کہ وعدۂ الٰہی (یعنی انسانوں کی ہدایت) اس وقت پورا ہو گا جب دنیا کے منافق اور کافر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور ان پر موت اور تباہی چھا جائے۔ کیونکہ بہت سے کفار میں کفر اور الحاد اس قدر راسخ ہو چکا ہے کہ وہ کسی بھی طرح نور کی حکمرانی کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہوں گے۔وہ چمگادڑوں کی طرح سورج کی روشنی کو دیکھنے سے قاصر ہیں اور ان کی روحوں میں جہالت اور کفر کی تاریکی کی جڑیں اتنی گہری ہو چکی ہیں کہ ان کے لئے روشنی کی طرف لوٹنے اور نور کی تابناک حکمرانی کو قبول کرنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
اس بنا پر ان کے ہدایت پانے اور ان کے تاریک دلوں میں روشنی کے چراغ جلنے کی کوئی امید نہیں ہے۔ اس لئے پوری دنیا میں نور کا راج ہونے سے پہلے ہی ایسے لوگوں کو عالمی سطح سے مٹ جانا چاہئے ، کیونکہ کسی بھی اہل ایمان کو ان کی رہنمائی کی امید نہیں ہے۔
قرآن مجيد میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
أَفَلَمْ يَيْأَسِ الَّذينَ آمَنُوا أَنْ لَوْ يَشاءُ اللَّهُ لَهَدَى النَّاسَ جَميعاً وَلايَزالُ الَّذينَ كَفَرُوا تُصيبُهُمْ بِما صَنَعُوا قارِعَةٌ أَوْ تَحُلُّ قَريباً مِنْ دارهِمْ حَتَّى يَأْتِىَ وَعْدُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ لايُخْلِفُ الْميعادَ. [2]
کیا ایمان والوں پر واضح نہیں ہوا کہ اگر خدا (جبراً) چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا اور ان کافروں پر ان کے کرتوت کی بنا پر ہمیشہ کوئی نہ کوئی مصیبت پڑتی رہے گی یا ان کے دیار کے آس پاس مصیبت آتی رہے گی یہاں تک کہ وعدہ الٰہی کا وقت آجائے کہ خدا اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرتا ہے
لہٰذا قرآن کریم کے مطابق دنیا کی سرکش حکومتیں ان کے برے اعمال اور ان کے پیدا کردہ فتنوں کی وجہ سے سرکوب ہو جائیں گی ، ان کی طاقت، غلبہ اور تسلط کا خاتمہ ہو جائے گا، یا ان پر کوئی آفت آجائے، اس طرح وہ اپنی فرعونیت سے محروم ہو جائیں گے اور پھر وعدۂ الٰہی اور حکومت الٰہی کے نور کی حکومت کی آمد کے ساتھ ہی حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف جلوہ گر ہوں گے ۔ جس طرح خاندان وحی علیہم السلام کی روایات میں ہے کہ دنیا کے بہت سے ممالک جنگ کے بغیر ہی آپ کے سامنے ہتھیار ڈال دیں گے اور جو لوگ آپ کے خلاف جنگ کرنے کے لئے آئیں گے،ان کے پاس بھی ہتھیار ڈالنے یا مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہو گا۔
لہذا انسانوں پر لازم ہے کہ وہ حضرت بقیۃ اللہ الأعظم عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی الٰہی حکومت کو قبول کریں تاکہ وہ عظیم ہستی دنیا کے تمام لوگوں کو علوم اور معارفِ قرآن کے بحر بیکراں سے روشناس فرمائے!








