حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
عالمی امن ؛ عصر ظهور کی ایک خصوصیت

عالمی امن ؛ عصر ظهور کی ایک خصوصیت

عصر ظهور  کی خصوصیات میں سے ایک عالمی امن  ہے، اور جو حکمران امن قائم کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں، حقیقت میں وہ دعؤوں سے آگے نہیں بڑھ سکے۔امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں:

يسير المهدي علیه السلام بمن معه ولايحدث في بلَد حادثةً إلاّ الأمن و الأمان و البُشرى، و عن يمينه جبريل، و عن شماله ميكائيل علیهما السلام و النّاس يلحقونه من ‏الآفاق. [1]

جو لوگ حضرت مہدی علیہ السلام کی خدمت میں ہوں گے،وہ  آپ کے ساتھ زمین پر سَیر کریں گےاورکسی بھی شہرمیں امن و امان اور خوشخبری کے سوا کوئی حادثہ نہیں ہو گا، (جو دنیا میں عظیم تبدیلیوں اور جسم و جان کی اہم تجدید کی نوید ہے)۔ جبرائیل علیہ السلام آپ کے دائیں جانب اور میکائیل علیہ السلام آپ کے بائیں جانب ہوں گے ، اور لوگ زمین کے تمام افقوں سے آپ کے ساتھ  ملحق ہوں گے۔

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے اس روایت میں واضح طور پر فرمایا ہے کہ دنیا بھر سے لوگ حضرت سے ملحق ہوں گے۔ اور یہ اس بات کی دلیل ہے کہ دنیا کے لوگ ان کے ساتھ امن و امان، سکون، سلامتی اور انسانوںمیں تبدیلی اور کمال کے شعور کی بنیاد پر شامل ہوں گے۔امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے فرمان سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ دنیا کے لوگ حضرت بقیة اللہ الأعظم ارواحنا فداہ کے حیات بخش اور نجات دہندہ منصوبوں کو دیکھ کر آپ سے ملحق ہوں گے ۔

………………………………………………

لوگوں کی محدود صلاحیت، پریشان دل اور کند ذہنوں کے سامنے کیسے بڑے راز اور حیرت انگیز اسرار بیان کئے جا سکتے ہیں؟ اگر ہم کسی برتن میں اس کی گنجائش سے زیادہ پانی یا کوئی اور چیز ڈالیں تو کیا وہ چھلک نہیں جائے گا؟!اسی طرح اگر لوگوں کی فکری اور ذہنی ظرفیت سے زیادہ ان کے سامنے اہم مطالب بیان کریں گے تو وہ لغزش اور شک و تردید کے  شکار ہو کر  ان کے منکر ہو جائیں ۔ اسی لئے جب تک غیبت کا زمانہ جاری ہے، اور ذہن غافل اور خیالات پریشان ہیں، اس وقت تک ایک ایسی قوم پر عظیم رازوں کو ظاہر کرنا درست نہیں ہے  کہ جس کی فکری طاقت محدود ہو ۔

جب تک نورِ ولایت کی تابش سے دنیا کے لوگ فکری حدود سے آزاد نہ ہو جائیں اور ان اہم مطالب کو سمجھنے کے قابل نہ بن جائیں، تب تک  نہ صرف ان سے اہم معنوی راز بلکہ قیمتی علمی نکات بھی پوشیدہ رہیں گے ۔ اسی لئے خاندان وحی علیہم السلام نے عام لوگوں کے لئے اہم رازوں کو ظاہر کرنے سے گریز کیا۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کی امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے بارہا تصدیق فرمائی ہے۔اب ہم  جو واقعہ بیان کرنے جا رہے ہیں، وہ اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے۔

 


[1] ۔عقد الدرر:۱۳۶.

مراجعین : 70