حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
تمام مخلوقات صاحب ادراک و شعور

تمام مخلوقات صاحب ادراک و شعور

اہل سنت کے ایک عالم کی كتاب «الأربعين»  میں ذکر ہوا ہے: امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام  کے ایک غلام  ابن أبقع اسدى بیان کرتے ہیں : ہم ایک بے آب و گیاہ صحرا میں حضرت امام علی علیہ السلام کے ساتھ کچھ لوگوں کے ہمراہ تھے کہ  رات ہو گئی، حضرت کسی ایسی جگہ کی تلاش میں تھے جہاں قیام کیا جا سکے۔ آپ ایک جگہ ٹھہرے تو لوگوں نے بھی وہیں پڑاؤ ڈال لیا۔

میں نے بھی ان کے خچر کی مہار تھامی ہوئی تھی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اچانک میں نے دیکھا کہ خچر خوف کے مارے بے قرار ہو گیا، اس کے کان کھڑے ہو گئے، زمین پر پاؤں مارنے لگا اور مجھے کھینچنے لگا۔
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اس کی اس حرکت سے بیدار ہو گئے اور فرمایا:

کیا خبر ہے؟میں نے عرض کیا: خچر بے قرار ہو گیا ہے اور ہیجان میں ہے۔

حضرت نے فرمایا: مجھے لگتا ہے کہ اس نے کہیں آس پاس کوئی درندہ دیکھا ہے۔

پھر آپ  نے اپنی تلوار اٹھائی  اور اردگرد دیکھنے لگے ۔ آپ نے  ایک درندہ حیوان کو دیکھا اور  اسے پکارا۔ وہ رک گیا ، آپ  اس کے قریب گئے، جب آپ اس کے پاس پہنچے تو وہ درندہ آپ کے پاؤں چاٹنے لگا، جیسے بلی دیگ کی تہہ چاٹتی ہے۔امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اس کے کان کے پاس کھڑے ہو گئے اور فرمایا:

تم یہاں کیوں آئے ہو؟ ہم نے سنا کہ وہ جانور کچھ کہہ رہا ہے، لیکن ہم اس کا مطلب سمجھ نہیں پائے۔

حضرت نے ہم سے مخاطب ہو کر فرمایا: کیا تم جانتے ہو وہ کیا کہہ رہا ہے؟

ہم نے عرض کیا: نہیں۔

فرمایا: وہ (درندہ) مجھ سے اجازت مانگ رہا ہے کہ آج ہی رات قادسیہ جائے اور سنان بن وابل کو پھاڑ کھائے۔ اور یہ بھی کہہ رہا ہے: میں ان پر مسلط ہوں جو محمد ﷺ اور آلِ محمد علیہم السلام سے دشمنی رکھتے ہیں۔ اس وقت سنان نے مجھ سے معاہدہ کیا تھا، مگر پھر بھی وہ میرے خلاف جنگ کرنے آ گیا اور اس نے اپنا عہد توڑ دیا ہے۔ تب حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام نے درندے سے فرمایا: جاؤ اور اپنا کام انجام دو۔

وہ درندہ چلا گیا اور ہم نے وہیں رات گزاری۔ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام اپنے مقام پر واپس لوٹ گئے۔ بعد میں قادسیہ سے خبر پہنچی کہ گذشتہ رات ایک درندہ سنان کو چیز  پھاڑ کر کھا گیا ہے۔ امیر المؤمنین حضرت علی علیہ السلام کے ساتھی بھی ان کے ساتھ قادسیہ کی طرف روانہ ہوئے اور قادسیہ کے لوگوں کو حضرت علی علیہ السلام اور درندے کے درمیان ہونے والی گفتگو کے  بارے میں آگاہ کیا۔ میں اس واقعہ سے بہت حیران ہوا۔ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام نے فرمایا:

ممّا تعجّب؟ هذا أعجب أم الشمس أم العين أم الكواكب؟ فو الّذي فلق الحبّة وبرئ النسمة لو أحببت أن أرى الناس ممّا علّمني رسول‏ الله صلّی الله علیه وآله من الآيات ‏والمعجزات والعجائب لكان يرجعون كلّهم كفّاراً. [1]

تم کس بات پر حیران ہو؟ کیا یہ زیادہ حیرت انگیز ہے یا سورج، یا چاند، یا ستارے؟ قسم ہے اس خدا کی جس نے دانہ کو چیر کر زندہ مخلوق پیدا کی؛ اگر میں چاہوں کہ وہ آیات، نشانیاں، معجزات اور حیرت انگیز باتیں لوگوں کو دکھاؤں جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے مجھے سکھائی ہیں ، تو یقیناً سب لوگ (صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے) کافر ہو جائیں گے۔

یہ روایت ایک نمونہ ہے جہاں حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے صراحت سے فرمایا ہے کہ وہ بہت سی نشانیاں، عجائبات اور معجزات بیان کرنے سے اجتناب فرماتے ہیں، کیونکہ اگر وہ انہیں لوگوں کے سامنے بیان کریں تو نہ صرف لوگ انہیں قبول نہیں کریں گے بلکہ ان کا انکار بھی کریں گے۔لیکن آخرکار جب کائنات میں ایک انقلاب اور تبدیلی آئے گی اور انسان نئے علم اور بصیرت کے لئے تیار ہو جائے گا تو اُس  پر وقار دور میں انسان پورے دل و جان سے ان باتوں اور اسرار کو قبول کرے گا  اور وہ  اس کے دل پر الهام ہوں گے۔

 


[1] ۔ قطره ‏اى از درياى فضائل اهل بيت علیهم السلام:۲ /۲۲۱  ، المجموع الرائق: ۲/۳۶۹ ح۳۷ سے منقول. ابن شاذان نے اس سے مشابہ روایت الفضائل:۱۷۰ میں ذکر کی ہے.

مراجعین : 87