حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
عالمی امن کے لئے عالمی تبدیلی کی ضرورت

عالمی امن کے لئے عالمی تبدیلی کی ضرورت

مرحوم علاّمه مجلسى نے بحار الأنوار میں ایک بہترین  روايت نقل کی ہے :

الإمام المجتبى، عن أبيه صلوات الله عليهما قال: يبعث الله رجلاً في آخرالزمان وكلب من الدهر وجهل من الناس يؤيّده الله بملائكته ويعصم أنصاره، وينصره بآياته ويظهره على الأرض، حتّى يدينوا طوعاً وكرهاً يملاء الأرض‏ عدلاً وقسطاً ونوراً وبرهاناً يدين له عرض البلاد وطولها لايبقى كافراً إلاّ آمن، و لا طالح إلاّ صلح، وتصطلح في ملكه السباع، وتخرج الأرض نبتها، وتنزل‏ السّماء بركتها.[1]

امام حسن مجتبى علیه السلام نے اپنے والد بزرگوار حضرت اميرالمؤمنين علیه السلام سے نقل کیا ہے: خدا ایک شخص کو آخر الزمان میں اور لوگوں کی سختی اور جہالت کے وقت بھیجے گا۔ خدا اپنے فرشتوں کے ذریعے اس کی مدد کرے گا اور اس کے مددگاروں کی حفاظت کرے گا اور اپنی نشانیوں سے اس کی مدد کرے گا اور اسے پوری زمین میں کامیاب کرے گا تاکہ وہ  چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے اس کے دین میں داخل ہوں ۔ وہ ساری زمین کو عدل و انصاف اور نور و برہان سے بھر دے گا۔ تمام شہر اور تمام   نقاط اس پر ایمان لائیں گے۔ کوئی کافر باقی نہیں رہے گا مگر یہ  کہ وہ ایمان لے آئے، کوئی بدکار نہیں ہو گا مگر یہ کہ اس کی اصلاح ہو جائے، اس کی حکومت میں درندوں کی درندگی ختم ہو جائے گی اور زمین اپنی  نباتات کو خارج کرے گی اور آسمان اپنی بارش برسائے گا۔

اس روایت سے یہ استفادہ کیا جا سکتا ہے کہ جب تک دنیا اور اس کی مخلوقات میں تبدیلی نہیں آتی،تب تک  عالمی امن ممکن نہیں، اور صرف وہی دنیا میں تبدیلی لا سکتا ہے جو عالمی قدرت رکھتا ہو ۔

ظاہر ہے کہ جب تمام کافر  ایمان لے آئیں، تمام فاسق نیک و صالح ہو جائیں ، اور تمام درندوں سے درندگی سلب ہو جائے ، تو پوری دنیا میں امن و امان ہو گا۔ اور یہ سب اس صورت میں ہوگا جب ایک عظیم عالمی طاقت دنیا میں ایک جامع تبدیلی پیدا کرے۔

 


[1] ۔ بحارالأنوار: ۵۲/۲۸۰، إثبات الهداة: ۷/۴۹..

مراجعین : 76