حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
ظہورِ امام عصر ارواحنا فداہ کے زمانے میں بابرکت بارشوں کا برسنا

ظہورِ امام عصر ارواحنا فداہ  کے زمانے میں بابرکت بارشوں  کا برسنا

كتاب «منتخب البصائر» مىں لکھتے ہیں: میں نے ایک کتاب دیکھی جس میں ہمارے آقا و مولا  امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے خطبات جمع کئے گئے تھے۔ ایک خطبہ کے آخر میں حضرت امام علی علیہ السلام نے امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے ظہور کے زمانے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:

ثمّ يسير إلى مصر فيصعد منبره فيخطب الناس، فستبشّر الأرض ‏بالعدل،وتعطي السماء قطرها، والشجر ثمرها، والأرض نباتها، وتتزيّن لأهلها، وتأمن الوحوش حتّى ترتعي في طرق الأرض ‏كأنعامهم، ويقذف في قلوب المؤمنين العلم، فلا يحتاج مؤمن ‏إلى ما عند أخيه من علم.

(جب حضرت کا ظہور ہو گا ...) آپ مصر کی طرف جائیں گے، (اس شہر کی جامع مسجد میں داخل ہوں گے) اور  منبر پر جا کر خطبہ دیں گے  کہ عنقریب زمین  پر عدل کا بول بالا ہو گا اور آسمان بارش برسائے گا،درخت پھل دیں گے اور زمین اپنی فصلیں پیش کرے گی، زمین اپنے باشندوں کے لئے آراستہ ہو گی، لوگ درندوں سے اس حد تک محفوظ ہوں گے کہ وہ مویشیوں کی طرح راستے میں چریں گے۔ اہل ایمان کے دل علم و دانش سے اس طرح سرشار ہوں گے کہ مؤمن کو اپنے بھائی کے علم کی ضرورت نہیں رہے گی۔

اس دن اس عظیم آیت کی تفسیر پوری ہو گی جس میں ارشاد ہوتا  ہے:

»يُغْنِ اللهُ كُلًّا مِنْ سَعَتِهِ « . [1]

خدا دونوں کو اپنے خزانے کی وسعت سے غنی اور بے نیاز بنا دے گا۔

زمين اپنے خزانوں کو آشکار کرے گی  اور  حضرت امام مهدى علیه السلام  فرمائیں گے :

كلوا هنيئاً بما أسلفتم في الأيّام الخالية. [2]،[3]

کھائیں، آپ کے لئے گوارا  ہو، جو اعمال آپ نے ماضی میں انجام دیئے ہیں۔

مرحوم شيخ صدوق نے  كتاب «خصال» میں  اميرالمؤمنين حضرت امام علی علیه السلام سے  نقل كیا ہے کہ آپ نے فرمایا :

المنتظر لأمرنا كالمُتَشحِّط بدمه في سبيل الله.

ہمارے امر کا منتظر رہنے والا اس شخص کی طرح ہے جو راہِ خدا میں اپنے خون سے رنگین ہو۔ 

اس کے بعد فرمایا:

بنا يفتح الله وبنا يختم الله، وبنا يمحو ما يشاء وبنا يثبت، وبنا يدفع الله الزمان الكَلِب وبنا ينزّل الغيث.

ہمارے وجود کے ذریعہ خدا  نے کائنات کا آغاز کیا اور ہمارے ذریعہ اس کا اختتام کرے گا، وہ ہمارے ذریعہ سے جس چیز کو مٹانا چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جس چیز کو وہ ثابت رکھنا چاہتا ہے اسے ہمارے ذریعہ  باقی رکھتا ہے، وہ ہمارے ذریعہ سخت اور دشوار وقت کو دور کرتا ہے، اور وہ ہمارے وسیلہ اپنی رحمت کی بارش برساتا ہے۔

پس متکبر مت بنو اور تمہارا تکبر  تمہیں خدا سے دور نہ  کر دے۔ آسمان اپنی بارش کا ایک قطرہ نہیں برساتا  جب خدا اسے بند کر دے ۔ اگر ہمارے قائم قیام کریں تو  آسمان اپنی تمام بارش برسائے گا اور زمین اپنی فصلیں اگائے گی۔ بندوں کے دلوں سے کینہ اور دشمنی دور ہو جائے گی، درندے اور چارپائے مل کر رہیں گے اور اتنی برکت اور سلامتی ہو گی کہ جب  کوئی عورت عراق اور شام کے درمیان سفر طے کرے گی تو سر سبز زمین کے سوا کسی چیز پر قدم نہیں رکھے گی اور کوئی بھی اس پر حملہ نہیں کرے گا جب کہ اس نے زیورات اور گہنے پہنے ہوں گے ، کوئی درندہ  اس پر حملہ نہیں کرے گا اور نہ ہی اسے کوئی خوف محسوس ہو گا۔

اور اگر آپ کو معلوم ہو جائے کہ آپ کے دشمنوں کے درمیان رہنے اور ان کے عذاب اور زیادتی کو برداشت کرنے میں آپ کے لئے کیا اجر و ثواب ہے تو یہ آپ کے لئے ایسی بشارت ہو گی جو آپ کی آنکھوں کو روشن کر دے گی۔[4]

 


[1] ۔ سورۂ نساء ، آیت : ۱۳۰.

[2] ۔ بحار الأنوار:۵۳ / ۸۵ اور ۸۶ ، ح۸۶ کے ذیل میں.  

[3] ۔  قطره ‏اى از درياى فضائل اهل بيت علیهم السلام: ۲ /۷۸۴ ، بحار الأنوار سے منقول : ۵۳ /۸۵ اور ۸۶ ،ح ۸۶.

[4] ۔ الخصال:۲ /۶۲۶،ح ۱۰ کے ذیل میں، بحار الأنوار:۱۰ /۱۰۴ اور ۵۲ /۳۱۶ ح۱۱، منتخب الأثر:۴۷۳ ح۳، قطره ‏اى ازدرياى فضائل اهل بيت علیهم السلام:ج۱ص۷۹۶ح۶۲۳.

مراجعین : 4