ظہور کے زمانے میں بركت
ہم نے اب تک ظہور کے دور میں معاشی ترقی کے بارے میں جو کچھ کہا ہے وہ ظہور کے پرشکوہ دور کے لوگوں میں فقر،غربت ، ضرورت اور محتاجی کے خاتمہ کو بخوبی ثابت کر سکتا ہے۔ ظہور کے دور میں معاشی ترقی میں جو چیز سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرتی ہے وہ ’’برکت‘‘ہے۔ عصر ظہور میں انسانی معاشرے پر برکت کے بہت حیران کن اثرات ہوں گے ۔
اگرچہ بعض اوقات غیبت کے دور میں بھی لوگوں کے مال میں برکت ہو تی ہے، مگر یہ ایک استثنائی صورت ہوتی ہے اور شاذ و نادر وقوع پذیر ہوتی ہے۔ لیکن ظہور کے دور میں برکت ایک نادر اور استثنائی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ اس شاندار دور میں تمام لوگ برکت کی نعمت سے مالامال ہوں گے۔ ظہور کے دور میں برکت دو طرح سے ظاہر ہوتی ہے۔
۱۔ظہور کے دور میں ایمان و تقویٰ کے نتیجے میں زمین و آسمان سے الٰہی برکات لوگوں تک پہنچیں گی، خدا کے ارادہ سے کسی بھی درخت سے کسی بھی قسم کا پھل حاصل کیا جا سکے گا ۔ اسی طرح پھلوں کا موسم بھی ایک جیسا ہو گا، یعنی ہر موسم میں تمام پھل دستیاب ہوں گے۔ مثال کے طور پر، گرمیوں کا پھل سردیوں میں اور سردیوں کا پھل گرمیوں میں میسر ہو گا۔ برکت کا مسئلہ ایک عظیم حقیقت ہے، جس کے نتیجے میں دنیا ظہور کے دور میں ایک نئے روپ میں ڈھل جائے گی۔ برکت کے وجود اور عصر ظہور کے لوگوں پر اس کے نزول سے غیبت کے تاریک دور کی مشکلات اور تکالیف ختم ہو جائیں گی[1] اور کائنات میں مسرت اور خوشحالی ہو گی۔
اس طرح دنیا کا ایک نیا چہرہ سامنے آئے گا اور اس دور میں زمین کی صلاحیتں نکھر کر سامنے آئیں گی اور ہر طرف خوشیاں اور آسانیاں ہوں گی ، فقر و تنگدستی کا کوئی نام و نشان باقی نہیں رہے گا۔
اس مبارک دور میں کمزوری ، بے بسی اور ناتوانی کا خاتمہ ہو جائے گا اور ان کی جگہ قدرت ، طاقت اور خوش بختی ہو گی ۔ اس پرشکوہ اور بابرکت دور میں ہر کسی کے لبوں پر مسکراہٹ ہو گی اور دل خوشی اور مسرت سے سرشار ہوں گے۔
۲۔ برکت کی دوسری شکل نہایت دلچسپ اور حیرت انگیز ہے کہ جس کی رو سے ظہور کے دور کے لوگ عالمِ غیب کو بخوبی محسوس کریں گے اور غیبی امور پر کسی شک و تردید کے بغیر کامل ایمان رکھیں گے۔یہ برکت فرشتوں کے ذریعہ پیدا ہوتی ہے۔مادی نقطۂ نظر سے، مثلاً گندم صرف بیج، پانی اور مٹی کے ذریعے پیدا ہوتی ہے، لیکن غیر محسوس امور سے واقف شخص کی نگاہ میں اشیاء کی پیدائش صرف عام اور قدرتی ذرائع تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ غیر طبیعی راستوں سے بھی قدرتی پیداوار وجود میں آ سکتی ہے۔
یہ درست ہے کہ خدا نے کاموں کو اسباب و وسائل کے ذریعے انجام دینے کا نظام مقرر فرمایا ہے
لیکن اس بات سے ہمیں اس حد تک ان اسباب و وسائل میں مشغول نہیں ہو جانا چاہئے کہ ہم مسبب الأسباب (یعنی خدا) کو ہی بھول جائیں،اور یہ گمان کرنے لگیں کہ وہ اسباب جنہیں خدا نے امور کو انجام دینے کے لئے مقرر فرمایا ہے، وہ صرف مادی چیزوں تک ہیں محدود ہیں کہ جن سے ہم واقف ہیں۔[2]برکت کی دوسری شکل یہ ہے کہ وہ جنس کی خرید و فروخت میں مال کے استعمال یا لین دین سے کم نہیں ہوتی،مثال کے طور پر، دس کلو والے چاول کے تھیلے سے کئی بار چاول بیچے جاتے ہیں، لیکن وہ تھیلا ختم نہیں ہوتا۔ایک اور صورت یہ ہے کہ پیسے اور ثمن میں برکت پیدا ہو جاتی ہے، اور خرچ کرنے کے باوجود اس میں کوئی کمی واقع نہیں ہو تی۔جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ غیبت کے زمانے میں بھی کبھی برکت کا یہ معاملہ پیش آتا ہے اور خرید و فروخت میں جنس یا پیسوں میں برکت ظاہر ہوتی ہے اور وہ ختم نہیں ہوتے۔یہاں ہم بابرکت پیسوں کی ایک مثال بیان کرتے ہیں،جو امام زمانہ عجلالله تعالىٰفرجهالشریف نے اپنے ایک دوست کو عطا فرمائے تھے :
[1] ۔ معاشرے میں تقویٰ اور پرہیزگاری کے حاکم نہ ہونے کے نتائج میں سے ایک اسراف اور فضول خرچی ہے، جس کا لازمی نتیجہ خدا کی برکتوں میں کمی یا ان کا بالکل ختم ہو جانا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ پوری دنیا میں کسی نہ کسی صورت میں اسراف موجود ہے اور اس کے خاتمے کے لئے کوئی اقدام نہیں کیا جا رہا۔
اب آپ اس رپورٹ پر توجہ کریں:غذائی صنعت میں مرکز تحقیقات کے سربراہ کے مطابق ۲۰ ملین ٹن غذائی مصنوعات ضائع کرنے سے ملک میں ۱۵ ملین افراد کے کھانے کے برابر غذا پھینک دی جاتی ہے۔
وزارتِ تجارت کے نائب وزیر کے مطابق، ملک میں ہر سال ۲ ملین ٹن گندم ضائع ہو جاتی ہے کہ جس کی مالیت ۳۰۰ ملین ڈالر ہے ۔
گلستان کے محکمۂ معیار کے انتظامی و مالی منصوبہ بندی کے نائب سربراہ کے مطابق، صوبہ گیلان میں ہر سال اتنی روٹی ضائع کر دی جاتی ہے جتنی رقم سے ۸۰ دیہی کتب خانے تعمیر کئے جا سکتے ہیں۔ایران میں ہر سال فی کس ۵۰ کلوگرام روٹی ضائع ہوتی ہے، حالانکہ اس مقدار میں ضائع ہونے والی روٹی کئی ممالک کی غذائی ضروریات پوری کر سکتی ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں ایک دن میں ضائع ہونے والی روٹی کی مقدار ۱۵ ملین افراد کا پیٹ بھرنے کے لئے کافی ہے؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ اگر روٹی کا ضیاع ختم ہو جائے تو ہمیں ملک میں گندم درآمد کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی؟ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایران دنیا میں روٹی استعمال کرنے والا دوسرا اور روٹی ضائع کرنے والا تیسرا بڑا ملک ہے؟ تہران میں بلدیہ روزانہ ۸۵ ٹن ضائع شدہ روٹی جمع کرتی ہے۔( آمارها پرده برمى دارند:۸۳)
ظہور کے زمانے میں جب تقویٰ حاکم ہوگا تو اسراف اور دیگر گناہوں کا خاتمہ ہو جائے گا اور پھر سب پر خدا کی برکتوں کا سایہ ہو گا اور غربت کا کوئی نشان باقی نہیں رہے گا۔
[2] ۔ دولت كريمه امام زمان عجل الله تعالى فرجه الشريف : ۱۰۱.








