حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
قارون کا خزانہ

قارون کا خزانہ

کچھ لوگ زندگی کے آغاز میں مؤمن تھے لیکن آخر عمر میں سرکشی کی وجہ سے ہلاک ہوئے ان میں سے ایک ’’قارون‘‘ ہے۔ بعض کے قول کے مطابق وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا چچا تھا، کچھ لوگوں کے نزدیک وہ ان کا چچازاد بھائی  تھا اور کچھ کے عقیدے کے مطابق وہ حضرت موسیٰ کا بھانجا اور بعض کے نزدیک وہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا خالہ زاد بھائی تھا ۔

قارون ابتدا میں ایک فقیر انسان تھا اور تورات کے علم اور اس کی قرائت میں اپنے زمانے کے اہل علم میں ممتاز شمار ہوتا تھا۔ وہ ان ستر افراد میں شامل تھا جنہیں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے کلامِ الٰہی سننے کے لئے منتخب فرمایا تھا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے قارون کو بہت عزت و مقام دیا اورآپ نے ہمیشہ  اس کے دل کی زمین میں علم و دانش، حکمت و دانائی اور ادب کا بیج بویا، لیکن آخرکار قارون کثرتِ مال کی وجہ سے (بعض کے نزدیک اس کا سبب کیمیا گری یعنی سونا بنانے کا فن تھا ) راہِ اعتدال سے ہٹ گیا اور باغی و سرکش  بن گیا۔

خدا نے قرآن کریم میں اس کے بے پناہ مال و دولت اور خزانوں کا ذکر کیا ہے اور  فرمایا ہے :

وَآتَيْناهُ مِنَ الْكُنُوزِ ما إِنَّ مَفاتِحَهُ لَتَنُوأُ بِالْعُصْبَةِ اُولِى الْقُوَّةِ...[1]

اور ہم نے بھی اسے اتنے خزانے دیئے تھے کہ ایک طاقتور جماعت سے بھی اس کی کنجیاں نہیں اٹھ سکتی تھیں ۔

کہتے ہیں کہ چالیس زورآور آدمی قارون کے خزانے کی کنجیاں اٹھایا کرتے تھے۔ صاحبِ کشّاف (زمخشری) نے کہا ہے کہ ساٹھ اونٹ اس کے خزانوں کی کنجیاں اٹھا کر لے جاتے تھے۔یہ بھی کہا گیا ہے کہ قارون نے ایک محل تعمیر کروایا جس کی دیواریں خالص سونے سے بنی تھیں، اور ایسا قیمتی تخت بنوایا کہ دنیا نے اس جیسا تخت  کبھی نہ دیکھا تھا۔

ایک دن وہ بڑی شان و شوکت کے ساتھ اپنے محل سے باہر نکلا، وہ ایک ایسے گھوڑے پر سوار تھا جس پر سونے کی زین لگی ہوئی تھی، اور بعض کے بقول نوے ہزار مرد سوار جنہوں نے ایک جیسے کپڑے پہن رکھے تھے، اور ہزار عورتیں سونے کے کام والے ارغوانی لباس پہنے ہوئے سفید خچروں پر سوار ہو کر اس کے ساتھ تھیں۔

جب لوگوں نے اس کی یہ شان و شوکت دیکھی تو کہنے لگے:

يا لَيْتَ لَنا مِثْلَ ما اُوتِيَ قارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظيمٍ.[2]

کاش!ہمارے پاس بھی یہ ساز و سامان ہوتا جو قارون کو دیا گیا ہے تو یہ بڑے عظیم حصہ کا مالک ہے۔

کچھ دوسرے لوگوں کی نگاہ میں دنیا کے مال و زینت  کی کوئی حیثیت نہ تھی ، وہ  اُن حسرت کرنے والوں سے کہنے لگے:

وَيْلَكُمْ ثَوابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صالِحاً.[3]

افسوس تمہارے حال پر ، خدا کا ثواب صاحبان ایمان و عمل صالح کے لئے اس سے کہیں زیادہ بہتر ہے ۔

خلاصہ یہ کہ قارون کثرتِ مال کی وجہ سے مغرور اور سرکش ہو گیا، یہاں تک کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بات ماننے کو بھی تیار نہ تھا۔ ان دونوں کے درمیان تفصیلی گفتگو ہوئی، جسے جاننے کے خواہش مند افراد مفصل کتب کی طرف رجوع کریں۔

یہاں بس اتنا کہنا کافی ہے کہ جب زکاۃ کا حکم نازل ہوا اور کچھ فقراء حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس آئے اور اپنی تنگدستی کی شکایت کی تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے انہیں قارون کے پاس بھیجا اور فرمایا: خدا  نے تمہیں بہت مال عطا فرمایا ہے اور اس ملک میں بہت سے لوگ محتاج ہیں۔ لہٰذا، اس بے شمار نعمت کے شکرانے کے طور پر اس مال کا کچھ حصہ فقیروں میں تقسیم کرو،مخلوق  پر کرم کرو جیسے خدا نے تم پر کرم کیا ہے۔

قارون نے کہا: میرے مال کی زکاۃ کی رقم تو بہت زیادہ بنے گی، اور میں یہ نہیں دے سکتا۔حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی کہ چاہے زکاۃ کی مقدار کم ہو یا زیادہ، قارون، ہر صورت میں انکار کرے گا، لیکن اتمامِ حجّت کے لئے اس سے مسامحہ  کرو۔

حالانکہ زکاۃ کا نصاب مال کا دسواں یا چوتھائی تھا، حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:ہزار دینار میں سے ایک دینار، ہزار درہم میں سے ایک درہم، اور ہزار بھیڑوں میں سے ایک بھیڑ دے دو۔

قارون نے جواب دیا:مجھے سوچنے کا وقت دو، پھر جواب دوں گا۔

جب اس نے حساب لگایا تو اسے یہ مقدار بھی بہت زیادہ محسوس ہوئی، چنانچہ اس نے انکار کر دیا۔

پھر وہ بنی اسرائیل کے کچھ ایسے افراد کے پاس گیا جو اس کے مرید اور خوشامدی تھے، اور اس کے گرد پروانوں کی طرح گھومتے رہتے تھے۔قارون نے ان سے کہا:موسیٰ نے تو ہمارے لئے ایک چال چل دی ہے! وہ چاہتا ہے کہ ہمیں بھی اپنی طرح خالی ہاتھ اور محتاج بنا دے۔ اب وہ ہم سے زکوٰۃ مانگ رہا ہے۔ تمہاری رائے کیا ہے؟

خوشامدیوں اور چاپلوسوں نے فوراً کہا: رائے صرف  آپ کی ہے، ، اور آپ کی نظر ہی با برکت ہے۔

قارون نے کہا:میں نے موسیٰ کو رسوا  کرنے کا ایک منصوبہ بنایا ہے۔

چنانچہ ایک ایسی عورت کو بلایا گیا جو بدکاری، فسق و فجور، اور حسن و جمال کی وجہ سے مشہور تھی۔ قارون نے اس سے کہا:مجھے تم سے ایک کام ہے۔

عورت نے جواب دیا:اگر میرے بس میں ہوا تو میں ہرگز کوتاہی نہیں کروں گی۔

قارون نے کہا:میں تمہیں ایک سونے کا طشت دوں گا، بشرطیکہ تم بنی اسرائیل کے مجمع میں یہ اعلان کرو کہ موسیٰ نے تم سے زنا کی ہے۔اس عورت نے یہ شرط قبول کر لی۔

دوسرے دن قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کی مجلس میں آیا ۔ اس وقت حضرت موسیٰ علیہ السلام وعظ فرما رہے تھے اور خدا کے احکام بیان کر رہے تھے:جو چوری کرےکہ  اُس کا ہاتھ کاٹوں گا؛ جو کسی پاکدامن پر زنا کی تہمت لگائے، اس پر حد جاری کروں گا ، جو زنا کرے، اگر غیر شادی شدہ ہو تو اسے کوڑے ماروں گا، اور اگر شادی شدہ ہو تو اسے سنگسار کروں گا۔

اس پر قارون کھڑا ہوا اور کہنے لگا:اگر زنا کرنے والے تم خود ہو تو؟

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:ہاں! اگر میں بھی ہوں تو یہی سزا مجھ پر بھی لاگو ہو گی۔

قارون نے کہا:بنی اسرائیل کہتے ہیں کہ تم نے فلاں عورت کے ساتھ زنا کی ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:معاذ اللہ! اس عورت کو حاضر کرو۔

جب عورت کو حاضر کیا گیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا:اے عورت! میں تجھے اُس خدا کی قسم دیتا ہوں جس نے دریا کو چیر کر بنی اسرائیل کو اس میں سے گزارا اور  فرعون سے نجات دی، اور ان کی ہدایت کے لئے تورات نازل فرمائی،جو سچ ہے وہی بیان کرو۔

اس عورت پر خدا کا جلال اور ہیبت طاری ہو گیا۔وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی: میں نے اپنی زندگی میں جو گناہ کئے ہیں، وہ شاید توبہ کے ذریعہ معاف ہو جائیں،لیکن ایک نبی پر بہتان لگانے  کا گناہ  مجھے دنیا و آخرت کی سخت سزاؤں میں مبتلا کر دے گا۔

اسی وقت خدائے ذوالجلال کی طرف سے توفیق کی نسیم اس کے دل کے گلشن پر چلنے لگی اور اس نے کہا:ہرگز نہیں! یہ لوگ جو کچھ کہہ رہے ہیں ، موسیٰ اُس  سے مبرہ  اور پاک ہیں۔یہ سب قارون کی سازش ہے، اس نے مجھے سونے کے عوض خریدا اور مجھے حکم دیا کہ میں موسیٰ پر یہ بہتان لگاؤں۔ابھی میرے پاس سونے کی دو تھیلیاں ، یا ایک طشت سونا موجود ہے، جس پر قارون کی مہر بھی ثبت ہے۔

جب بنی اسرائیل نے قارون کی مہر دیکھی، تو سب کو اس کی ناپاک سازش کا یقین ہو گیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ بہتان سن کر رونے لگے اور سجدے میں گر گئے اور عرض کیا:اے میرے پروردگار! کیا تو یہ گوارا کرے گا کہ یہ بدکردار شخص میرے بارے میں ایسا جھوٹ بولے؟

وحی نازل ہوئی:اے موسیٰ! زمین تیرے اختیار میں ہے،جو چاہے، کرو!

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے سجدے سے سر اٹھایا اور فرمایا:اے بنی اسرائیل! جس طرح میں فرعون کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا تھا، اسی طرح ہی قارون کی طرف رسول بنا کر مبعوث کیا گیا ہوں ۔جو شخص قارون کے ساتھ ہے، وہ اس کے ساتھ چلا جائے،اور جو میرے ساتھ ہے، وہ اس سے کنارہ کشی اختیار کرے۔پس سب لوگ قارون سے الگ ہو گئے، سوائے دو افراد کے جو اس کے ساتھ رہ گئے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے زمین کو حکم دیا:انہیں پکڑ لو ۔زمین نے ان کے پاؤں کو ٹخنوں تک نگل لیا۔انہوں نے چیخ و پکار کی، فریاد کی،لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کی طرف توجہ نہ دی ۔

پھر آپ نے دوبارہ حکم دیا، تو زمین نے ان کو کمر تک نگل لیا۔ان کی آہ و زاری بڑھتی گئی لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام غضب میں تھے اور آپ نے  پھر بھی کوئی اعتنا نہ کی۔

تیسری بار حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا: انہیں پکڑ لو ! وہ لوگ گردن تک زمین میں دھنس گئے۔اب انہوں نے بہت زیادہ فریاد کی، استغاثہ کیا،مگر حضرت موسیٰ علیہ السلام متأثر نہ ہوئے اور آخری مرتبہ زمین کو حکم دیا: ان سب کو نگل لے!چنانچہ وہ سب ہمیشہ کے لئے زمین میں دفن ہو کر نیست و نابود ہو گئے۔

رود به باد فنا هر كه خاك پاى تو نيست

فرو شود به زمين هر كه در هواى تو نيست

فنا کی ہوا میں اُڑ جائے وہ شخص جو تیرے قدموں کی خاک بھی نہیں،اور زمین میں دھنس جائے وہ جو تیرے عشق و چاہت سے محروم ہے۔

قارون کے زمین میں دھنس جانے کے بعد بھی بنی اسرائیل کے کچھ نادان اور احمق افراد بیہودہ باتوں میں مشغول ہو گئے۔انہوں نے کہنا شروع کیا:یہ سب کچھ موسیٰ نے اس لئے کیا ہے تاکہ قارون کے خزانے پر قبضہ کر سکے!

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے یہ بات سنی، تو خدا سے دعا کی:اے پروردگار! قارون کے تمام اثاثے، اس کی عمارتیں اور خزانے بھی زمین میں دھنسا دے۔

چنانچہ خدا نے موسیٰ کی دعا قبول فرمائی، اور قارون کے تمام خزانوں اور محلوں کو بھی زمین نے نگل لیا ۔ خدوند کریم  نے قرآن میں قارون کے انجام کو یوں بیان فرمایا:

فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِنْ فِئَةٍ يَنْصُرُونَهُ مِنْ دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنْتَصِرِينَ .[4]

پھر ہم نے اسے اور اس کے گھر بار کو زمین میں دھنسا دیا اور نہ کوئی گروہ خدا کے علاوہ بچانے والا پیدا ہوا اور نہ وہ خود اپنا بچاؤ کرنے والا تھا ۔

ظهور  کے زمانے میں ظاہر ہونے والے خزانوں میں سے ایک قارون کا خزانہ ہو گا۔[5]

 


[1] ۔ سورۂ قصص ، آیت: ۷۶.

[2] ۔سوره ٔقصص، آيت : ۷۹.

[3] ۔سورہ  ٔقصص،آیت : ۸۰.

[4] ۔سورہ  ٔقصص،آیت : ۸۰.

[5] ۔ پندهاى شيرين:۳۰۷.

مراجعین : 1