حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
۱۲ ـ حنّانه میں رأس الحسین علیہ السلام کے مقام پر نماز اور دعا

۱۲ ـ حنّانه میں رأس الحسین علیہ السلام کے مقام پر نماز اور دعا 

جب آپ حنّانه  کے مقام پر پہنچیں تو دو رکعت نماز بجا لائیں ۔  محمد بن ابی عمیر نے مفضّل سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا : امام صادق علیہ السلام نجف کے راستے میں ستون خمیدہ  کے پاس سے گزرے تو آپ نے وہاں دو رکعت نماز ادا کی ۔ کسی نے امام صادق علیہ السلام سے عرض کیا : یہ کون سی نماز تھی ؟

آپ نے فرمایا :  یہاں میرے جد حسین بن علی علیہما السلام کے سر اقدس کا مقام ہے ۔ کربلا سے شام لے جاتے وقت آپ کے سر مبارک کو یہاں رکھا گیا : پس یہاں کہو :

أَللَّهُمَّ إِنَّكَ تَرَى مَكَانِي، وَتَسْمَعُ كَلاَمِي، وَلاَيَخْفَى عَلَيْكَ شَيْ‏ءٌ مِنْ‏أَمْرِي، وَكَيْفَ يَخْفَى عَلَيْكَ مَا أَنْتَ مُكَوِّنُهُ وَبَارِئُهُ، وَقَدْ جِئْتُكَ مُسْتَشْفِعاً بِنَبِيِّكَ نَبِيِّ الرَّحْمَةِ، وَمُتَوَسِّلاً  بِوَصِيِّ رَسُولِكَ، فَأَسْئَلُكَ بِهِمَا ثَبَاتَ ‏الْقَدَمِ وَالْهُدَى وَالْمَغْفِرَةِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ.

خداوندا ! تو میری منزل کو دیکھ رہا ہے ، اور میرے کلام کو سن رہا ہے ،  اور میرے امور میں سے کوئی بھی چیز تجھ سے پوشیدہ نہیں ہے ، اور یہ تجھ سے کیسے پوشیدہ ہو سکتی ہیں ؛ جب کہ تو نے انہیں ایجاد کیا ہے اور انہیں خلق کیا ہے ، میں اس حال میں تیری بارگاہ میں آیا ہوں کہ میں نے تیرے نبی  رحمت کو اپنا شفیع قرار دیا ہے ، اور میں تیرے رسول کے وصی سے متوسل ہوا ہوں ، میں ان دونوں ہستیوں کے وسیلہ سے تجھ سے ثابت قدمی ، ہدایت اور دنیا و آخرت میں مغفرت طلب کرتا  ہوں ۔[1]

 


[1] عمدۃ الالزائر فی الأدعیۃ و الزیارات : ۷۵ ، المزار (شهید اول): 33، بحارالانوار: ج100 ص۴۵۴ ح۲۸ ، امالی شیخ طوسی : ۶۸۲ ح۳.

 

    مراجعین : 6588