امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کا ایک عاشق
جناب قاسم بن هارون الرشيد
ہارون الرشید کے اکیس بیٹے تھے، جن میں سے تین کو اس نے یکے بعد دیگرے ولی عہد مقرر کیا ٹھا ۔ ۱۔محمد الامین،۲۔ مأمون، ۳۔ قاسم مؤتمن ۔صاحبِ کتاب ‘‘ابواب الجنان‘‘ نے جناب قاسم کے بارے میں بہت بہترین بحث لکھی گئی ہے۔
ہارون الرشید کا ایک بیٹا تھا جو نیک صفات سے آراستہ تھا اور وہ ناپاک صلب سے پاکیزہ جوہر تھا جس کی مثال تلخ اور کھارے پانی سے موتی کے نکلنے کی طرح تھی۔اسے اس زمانے کے مشائخ اور زہّاد کی مجالس میں نشست و برخاست کی سعادت حاصل ہوئی اور ان کے دل پر ان کی باتوں کے اثر سے وہ دنیاوی آرائش کی خواہش سے آزاد ہو چکے تھے۔
انہوں نے اپنے باپ کا راستہ ، آسائش اور افسری کی خواہش کو ترک کر دیا اور اپنے خانۂ دل میں بادشاہت کی فکر کی خاک کو آگہی کے جھاڑو سے جھاڑ دیا۔ وہ کھدر کے کپڑے پہنتے تھے ،طلائی رنگ اور دنیا کی چمک دمک نے ان کے دل کو اپنی طرف مائل نہیں کیا ، ان کا دل مفادات کے پنجرے سے آزاد ہو گیا تھا۔ وہ اکثر اوقات قبرستان جایا کرتے تھے اور قبروں کی طرف عبرت کی نگاہوں سے دیکھتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے تھے۔
ایک دن ہارون کا وزیر مجلس میں موجود تھا کہ وہاں سے ایک لڑکا گزرا جس کا نام قاسم اور لقب مؤتمن تھا ۔ ہارون کا وزیر جعفر ہنس پڑا۔ ہارون نے پوچھا تم ہنس کیوں رہے ہو؟ اس نے کہا: مجھے آپ کے اس بیٹے کی حالت پر ہنسی آئی جس نے آپ کو ذلیل و رسوا کیا۔ کاش ! خدا نے آپ کو یہ بیٹا نہ دیا ہوتا، اس کے کپڑے اور اس کی حالت آپ کے لئے رسوائی کا باعث ہے ، وہ غریبوں، درویشوں اور نامناسب لوگوں کے ساتھ بیٹھتا ہے۔
هارون نے کہا :یہ اس کا حق ہے لیکن چونکہ ہم نے اسے کوئی عہدہ یا حکومتی منصب نہیں دیا، اس لئے بہتر ہو گا کہ اسے شہر ی حکومت سونپ دی جائے۔ چنانچہ اس نے اپنے خادموں کو حکم دیا کہ قاسم کو ہارون کے سامنے لایا جائے ۔
ہارون نے انہیں بہت نصیحت کی اور ان سے پوچھا کہ تم ایسا کیوں کر رہے ہو؟ میں تمہیں شہری حکومت دیتا ہوں،تم جہاں کام کرنا چاہتے ہو مجھے بتا دو ۔
انہوں نے کہا: بابا! مجھے چھوڑ دیں اور یہ خیال کر یں کہ میں آپ کے پاس نہیں ہوں، مجھے میرے حال پر چھوڑ دیں، میں عبادت میں مشغول رہنا چاہتا ہوں۔
ہارون نے کہا: کیا یہ ممکن ہے کہ تم شاہی لباس میں ہو اور عبادت بھی کرو، میں تمہارے لئے ایک صالح وزیر مقرر کروں گا جو تمہارے معاملات کی دیکھ بھال کرے گا اور تم خود عبادت میں مصروف رہنا ۔
کہا :میں یہ کسی صورت میں قبول نہیں کروں گا ۔
هارون نے کہا : تم میرے بیٹے ہو ، تمہارے لئے نامناسب لوگوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے ، تم نے مجھے بادشاہوں میں رسوا کر دیا ہے۔
قاسم نے کہا:بابا! آپ نے مجھے اولیائے خدا میں رسوا کر دیا ہے ، آپ کے بہت سے بیٹے ہیں، آپ ان پر مہربانی فرمائیں، اگر آپ نے مجھے میرے حال پر نہ چھوڑا تو میں بھاگ جاؤں گا۔ ان سب نے انہیں بہت سمجھایا اور آخرکار وہ خاموش ہو گئے۔
ہارون نے کہا کہ منشیوں کو بلایا جائے ۔ انہوں نے قاسم کے لئے مصر کی حکومت کا فرمان لکھ کر اس پر مہر ثبت کردی۔ لوگوں نے مبارکباد بھی دی۔
قاسم نے دیکھا کہ لوگ اس سے دستبردار نہیں ہو رہے ہیں تو وہ اسی رات بھاگ گیا۔ اگلی صبح جب انہوں نے دیکھا کہ وہ کہیں نہیں ہے، ان کی تمام تر تلاش کے باوجود انہیں اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا۔ وہ قاسم کے قدموں کے نشان دیکھتے ہوئے چلتے رہے یہاں تک کہ وہ دریائے دجلہ کے کنارے پہنچے لیکن انہیں کچھ سمجھ نہ آیا۔ رات کے وقت کشتی میں بیٹھ کر بصرہ کی طرف روانہ ہو گئے۔ ہارون الرشید نے صوبوں کے گورنروں اور اہلکاروں کو خط لکھا کہ میرا بیٹا قاسم فرار ہو کر بغداد سے نکل آیا ہے۔ تم اسے جہاں بھی دیکھو، اس سے محبت سے پیش آؤ اور اگر ہو سکے تو اسے اچھے طریقے سے بغداد بھیج دو۔
عبدالله بصرى کہتے ہیں : بصرہ میں میرا ایک گھر تھا، میرے گھر کی دیوار خراب ہو چکی تھی ۔ ایک دن میں دیوار کی مرمت کے لئے ایک مزدور کی تلاش میں نکلا ۔ جب میں ایک مسجد میں پہنچا تو دیکھا کہ ایک نوجوان بیٹھا قرآن کی تلاوت کر رہا ہے اور اس نے اپنے سامنے بیلچہ اور ٹوکری رکھی ہوئی ہے۔
میں نے کہا: کیا تم کام کرو گے ؟ اس نے کہا: ہاں! خدا نے ہمیں اسی لئے خلق کیا ہے: کام کریں ، زحمت اٹھائیں ۔
میں نے کہا: میرے ساتھ میرے گھر چلو ، اور وہاں کام کرو ۔
اس نے کہا: پہلے میری مزدوری کو معین کر لو ۔ میں نے اسے ایک درہم دینے پر رضامندی ظاہر کی۔ اس نے قبول کیا اور میرے ساتھ آ گیا۔ اس دن اس نے کام کیا۔ جب وہ شام کو کام سے فارغ ہوا تو اس نے دو لوگوں کے برابر کام کیا تھا۔ میں نے اسے ایک اور درہم دینا چاہا لیکن اس نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ اسے مزید نہیں چاہئے، وہ اپنی اجرت لے کر چلا گیا۔
اگلے دن میں اس سے ملنے گیا لیکن وہ وہاں نہیں تھا ۔ میں نے لوگوں سے اس کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ وہ نوجوان صرف ہفتہ کے دن کے علاوہ کام نہیں کرتا کیونکہ وہ عبادت میں مصروف ہوتا ہے۔
عبدالله کہتے ہیں: میں نے اگلے ہفتہ تک انتظار کیا۔ میں مسجد میں گیا تو دیکھا کہ نوجوان وہاں بیٹھا ہے۔ میں اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ جب وہ پوری دیوار پر کام کرنے لگا تو یوں لگا جیسے کوئی غیب سے اس کی مدد کر رہا ہو۔ جب نماز کا وقت ہوا تو اس نے ہاتھ پاؤں دھوئے، وضو کیا اور نماز پڑھنے لگے۔ واجب نماز سے فارغ ہونے کے بعد غروب آفتاب تک کام کرتا رہا۔ پھر اس نے مزدوری وصول کی اور چلا گیا۔
پھر ہفتہ کے دن میں اس کے پیچھے گیا، کیونکہ میری دیوار ابھی تک مکمل نہیں ہوئی تھی ۔ جب میں مسجد کے دروازے پر پہنچا تو وہ مجھے کہیں دکھائی نہیں دیا ۔ میں نے اس کےبارے میں پوچھا کہ وہ جوان آج کیوں نہیں آیا؟ لوگوں نے بتایا کہ وہ دو تین دن سے بیمار ہے۔
میں نے پوچھا کہ اس کا گھر کہاں ہے؟ انہوں نے کہا: وہ فلاں کھنڈر میں رہتا ہے ۔
میں اس کھنڈر میں گیا اور اسے بیمار پایا۔ میں اس کے سرہانے بیٹھ گیا اور اس کا سر اپنی آغوش میں رکھا۔ اچانک اس کی آنکھ کھل گئی اور اس نے پوچھا کہ تم کون ہو؟ میں نے کہا: میں وہی شخص ہوں جس کے گھر میں آ کر تم نے دو دن کام کیا تھا ۔ میں عبداللہ بصری ہوں۔
اس نے کہا: میں نے تمہیں پہچان لیا، کیا تم بھی مجھے پہچاننا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: ہاں !بتاؤ تم کون ہو؟
اس نے کہا: میں قاسم بن ہارون الرشید ہوں۔ جب اس نے یہ کہا تو میں کھڑا ہو گیا اور کانپ اٹھا اور میرا رنگ زرد ہو گیا۔ میں نے سوچا کہ اگر ہارون الرشید کو پتہ چلا کہ اس کا بیٹا میرے گھر میں کام کر رہا ہے تو وہ میرا گھر تباہ کر دے گا۔ وہ نوجوان سمجھ گیا کہ میں ڈر گیا ہوں۔
اس نے کہا: ڈرو نہیں اور گھبراؤ نہیں ۔ میں نے اس سے پہلے کبھی کسی کے سامنے اپنی شناخت ظاہر نہیں کی اور نہ ہی میں نے کسی سے اپنا تعارف کرایا ہے۔ اب بھی اگر میں موت کے آثار نہ دیکھتا تو میں اپنا تعارف نہیں کرواتا۔ میری آپ سے ایک درخواست ہے۔
میں نے کہا: مجھے بتاؤ، اس نے کہا: جب میں اس دنیا سے رخصت ہو جاؤں تو یہ بیلچہ اور میری ٹوکری کسی ایسے شخص کو دینا جو میرے لئے قبر کھودے اور یہ قرآن جو میرا مونس تھا، کسی ایسے شخص کو دے دینا جو اس کی تلاوت کرے ۔
اس کی انگلی میں ایک انگوٹھی تھی ، اس نے وہ انگوٹھی انگلی سے نکالی اور کہا: تم یہ انگوٹھی بغداد لے جاؤ گے، سوموار کے دن میرے والد کا عام جلسہ ہے، جو کوئی اس کے پاس جانا چاہے جا سکتا ہے ، کیونکہ اس دن کوئی رکاوٹ یا پہرہ نہیں ہوتا، تم اس دن یہ انگوٹھی لے کر جاؤ اور اس کے سامنے رکھ دو، وہ خود اسے پہچان لے گا۔ اسے انگوٹھی دے کر کہنا کہ تمہارا بیٹا قاسم بصرہ میں اس دنیا سے چلا گیا ہے اور اس نے کہا ہے کہ بابا! آپ میں دولت جمع کرنے کی بڑی ہمت ہے، یہ انگوٹھی بھی اپنی دولت میں جمع کر لیں تا کہ قیامت کے دن آپ ہی اس کا جواب دیں ، مجھ میں حساب دینے کی طاقت نہیں ہے ۔
یہ بات کہنے کے بعد انہوں نے اٹھنے کی کوشش کی مگر وہ نہ اٹھ سکے، انہوں نے دو بار اٹھنے کی کوشش کی اور نہ اٹھ سکے۔ انہوں نے کہا: عبداللہ! آؤ اور مجھے سہارا دے کر اٹھاؤ ، کیونکہ میرے آقا امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام تشریف لائے ہیں۔ میں نے انہیں اٹھایا تو فوراً ہی ان کی روح پرواز کر گئی ’’ كأنّما سراج طفئت او حصاة سقطت ‘‘گویا وہ چراغ تھا جو ہوا کے ایک جھونکے سے بجھ گیا ۔[1]








