حضرت امام صادق علیہ السلام نے فرمایا : اگر میں ان(امام زمانہ علیہ السلام) کے زمانے کو درک کر لیتا تو اپنی حیات کے تمام ایّام ان کی خدمت میں بسر کرتا۔
اس واقعہ میں اہم سبق

اس واقعہ میں اہم سبق

جناب قاسم کے واقعہ میں ہمارے نوجوانوں کے لئے بہت بڑا سبق ہے کیونکہ وہ زمان و مکان کے لحاظ سے امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے دور ہونے کے باوجود اور تمام سہولیات، مال و دولت اور طاقت کے حامل ہونے کے باوجود امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی ولایت سے دستبردار نہیں ہوئے اور پختہ ارادہ کے ساتھ ان سب چیزوں  کو چھوڑ  کر مولائے کائنات حضرت امام علی علیہ السلام کے شیعوں اور محبوّں کی صف میں شامل رہے۔

لیکن بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں بہت سے لوگ ایسے ہیں جو تھوڑی سی دولت حاصل کرنے کے بعد باغی ہو جاتے ہیں،اپنی   راہ و روش  اور  مستقبل بدل لیتے ہیں۔ نیز ایسے بھی بہت سے افراد  ہیں جو مال و دولت نہ ہونے کی وجہ سے شکوہ کرتے ہیں  ، گویا وہ  کوتاہیوں اور سختیوں کی وجہ سے خدا اور اہلبیت علیہم السلام سے طلبکار ہوں۔

کیا اپنی تمام سہولیات اور امکانات کو ترک کرنے والے جناب قاسم مرد خدا اور صاحبانِ ارادہ میں  شمار ہوتے ہیں یا ان لوگوں میں سے ہیں جو قوت ارادی کی کمزوری کی وجہ سے ادھر ادھر بھٹکتے رہتے ہیں؟!

وہ لوگ جو صاحبِ ایوان ِ نجف کے لئے وقف ہو کر عزت و شرف اور جوانمردی کے مالک بن جائیں، انہیں چاہئے کہ دنیا  کے  مال و دولت یا مقام و مرتبہ کی کمی و کاستی  کی  وجہ سے خود کو ضائع نہ کریں اور امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے اپنی عقیدت اور محبت میں کمی نہ آنے دیں ، بلکہ کوشش انتھک اور محکم و مسلم ارادے کے ساتھ اس محبت و مودّت میں اضافہ کریں تاکہ وہ  امیر عالم ہستی کی ولایت کے مضبوط قلعے میں داخل ہو  کر صاحبانِ ولایت کے معجزات  کے دسترخوان سے کچھ ذرّات حاصل کر سکیں۔

اگرچہ کسی کے لئے بھی امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کی کامل معرفت حاصل کرنا ممکن نہیں ہے، لیکن قاسم بن ہارون الرشید کے واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگرچہ قاسم بن ہارون جیسے افراد  زمان و مکان کے لحاظ سے حضرت امام علی علیہ السلام سے دور تھے اور وہ معرفت  کی راہ میں رکاوٹوں میں گھرے ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود انہوں نے  امیر المؤمنین حضرت  امام علی علیہ السلام کے مقام  معرفت سے خوشہ چینی کی اور  اپنی ظرفیت کے مطابق آپ کے  نسبی معرفت سے مستفید ہوئے ۔ اب ہم یہاں دو اہم نکات کا ذکر کرتے ہیں : 

مراجعین : 161