امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
ایک سوال کا جواب

ایک سوال کا جواب

ظہور کے زمانے میں حضرت بقيّة الله الأعظم عجل الله تعالٰی فرجہ الشریف  کے وسیلے سےپوری دنیا میں امن و امان کے پھیلاؤ، بصیرت کی ترقی، علم و دانش  کے عروج  اور دنیا بھر میں تبدیلی رونما ہونے کے حوالے سے کیا یہ کہنا درست ہے کہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ  الشریف کی ولایت امیر المومنین حضرت امام علی  علیہ السلام اور دیگر  ائمہ اطہار علیہم السلام کی ولایت سے زیادہ ہے؟! یا حقیقت کچھ اور ہے جس کی طرف ہم متوجہ نہیں ہیں؟

اس کا صحیح جواب تلاش کرنے کے لئے ہم کہتے ہیں:بہت سے لوگ عقائد کے معاملے میں اشتباہ کرتے ہیں اور  اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ وہ مسئلہ کے پہلوؤں پر توجہ نہیں دیتے  اور حقائق میں افراط و تفریط سے کام لیتے ہیں ۔

اس سوال کے  جواب کو مکمل طور پر واضح کرنے اور  افراط و تفریط کا شکار نہ ہونے کے لئے ہم بطور مقدمہ گذشتہ سوال کے جواب کے لئے ایک اور سوال  پوچھتے ہیں تاکہ ہم کسی اعتقادی مشکل میں گرفتار نہ ہوں ، اور وہ سوال یہ ہے :

حضرت بقيّة الله الأعظم ارواحنا فداه  کے ظہور کے زمانے میں ان سے جو قدرت و طاقت اور اختیارات ظاہر ہوں گے ، حضرت غیبت کے زمانے میں ان سے استفادہ کیوں نہیں کرتے؟ کیا  غیبت کے دور میں حضرت  ولایت مطلقہ کے حامل نہیں ہیں ؟ نیز کیا دوسرے ائمہ علیہم السلام کو ان کے دورِ  امامت  میں یہ مقام و مرتبہ حاصل نہیں تھا؟ اور اگر ان کے پاس یہ مقام و مرتبہ  تھا تو انہوں نے اسے استعمال کیوں نہیں کیا؟

اس سوال کے جواب میں ہم کہتے ہیں: امام عصر عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف ظہور کے زمانے کی طرح غیبت کے زمانے میں بھی ولایت کلیہ کا مقام و مرتبہ رکھتے ہیں، جس طرح دوسرے ائمہ علیہم السلام بھی  اس مقام کے حامل تھے اور اب بھی ہیں،اسی طرح امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بھی غیبت اور ظہور کے زمانے میں ولایت کلیہ کے مقام کے حامل ہیں ۔

ایسا کیوں ہے کہ یہ بزرگ ہستی اپنی تمام تر قدرت سے ظہور کےپرشکوہ دور میں دنیا کو عدل و انصاف اور  علم اور بصیرت سے بھر دیں گے جس سے کائنات کا چہرہ بدل جائے گا ، لیکن اب وہ خائف  اور محتاط کیوں ہیں؟

جواب: کیونکہ امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کا ارادہ و مشیت خدا کے ارادہ اور مشیت کے ساتھوابستہ  ہے۔ جب بھی خدا کچھ چاہتا ہے تو وہ چاہتے ہیں اور جب حضرت کچھ چاہتے ہیں تو خدا چاہتا ہے۔ اور چونکہ ظہور کے زمانے سے پہلے تک  خدا کی طرف سے ولایت مطلقۂ کلیہ کے استعمال کی اجازت صادر نہیں ہوئی اس لئے وہ اس کا اظہار  نہیں کر سکتے ۔

ایک نکتہ جس کی طرف ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ دوسرے ائمہ علیہم السلام بھی مقام ولایت کلیہ کے حامل تھے اور اب بھی ہیں اور جس طرح غیبت کے زمانے میں امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کو خدا کی طرف سے اجازت نہیں ہے کہ وہ  اپنی ولایت کا مکمل اظہار کریں، اسی طرح  دیگر ائمہ علیہم السلام  کو بھی خدا کی طرف سے اپنی ولایت کے مکمل اظہار کی اجازت نہیں تھی لیکن بعض موارد میں ہمارے تمام ائمہ اطہار علیہم السلام نے اپنی ولایت کلیہ سےاستفادہ  کیا  ہے اور لوگوں کی صلاحیت اور استطاعت کے مطابق اسے ظاہر کیا ہے ۔

بازدید : 36