امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
زندگى کے ہر شعبہ میں امان و امان

زندگى کے ہر شعبہ میں امان و امان

لوگ چونکہ ہر قسم کی آفات اور مصیبتوں کے عادی ہو چکے ہیں اور انہی میں پیدا ہوتے اور انہیں کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں، اس لئے انہیں نہ تو ان کی مصیبتوں کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے اور نہ ہی وہ یہ جانتے ہیں کہ آفات اور مصیبتیں کیا ہیں؟! نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ امن و امان اور سکون کا مطلب کیا ہے؟!

اس وجہ سے وہ سوچتے ہیں: اگر جنگ نہیں ہے تو امن و امان ہے اور لوگ آرام و سکون میں ہیں؛ گویا امن  کا مطلب صرف جان کی امان اور سلامتی ہے۔ وہ اس  حقیقت کی طرف توجہ نہیں کرتے کہ جنگ اور خونریزی آفات کی ایک قسم ہے اور ایسی کئی  آفات ہیں جو جنگ سے ہزار گنا بدتر ہیں اور امن و امان کو تباہ کرنے میں ان کا اثر بہت زیادہ ہے۔ دنیا میں چوری، لوٹ مار اور تشدد عروج پر ہے، ایسی صورت میں ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ دنیا میں امن و امان ہے؟!

صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ میں سنہ ۲۰۰۰ ء میں چار لاکھ آٹھ ہزار (۴۰۸۰۰۰) ڈکیتیاں ہوئیں، جن میں سے ایک لاکھ اکسٹھ ہزار (۱۶۱۰۰۰) آتشیں اسلحے سے ہوئیں۔ بلاشبہ، دیگر ذرائع سے ملنے والی دیگر رپورٹ بتاتی ہیں کہ سنہ ۲۰۰۱ء میں  ۱۷  بلین ڈالر کی تقریباً ۱۰ ملین ڈکیتیاں ہوئیں۔ اس کے علاوہ اسی سال  ان جرائم کے سلسلے میں۱۳.۷ ملین افراد کو گرفتار کیا گیا۔[1]

 اس قدر ظلم و ستم ہے  کہ اسے ایک ضرب المثل کے طور پر پیش  کرتے ہیں:

ایک بادشاہ نے حکم دیا: جس کے جسم میں کوئی عیب ہو  تو وہ ہر عیب کے بدلے دس درہم ادا کرے۔ اس کے ایک نوکر نے دیکھا کہ سڑک کے کنارے بیٹھا ایک شٰخص بھیک مانگ رہا ہے جس کی ایک آنکھ ہے۔ اس نے کہا: بادشاہ کے حکم  کے مطابق تم  تاوان کے طور پر دس درہم ادا کرو! بھکاری نے کہا:اس کی  کیا، کیا، کیا سزا ہے؟  یہ سن کر اسے اندازہ ہوا کہ  بھکاری کی زبان میں لکنت بھی ہے۔ اس نے اس کا  گریبان پکرا اور کہا: اچھا ہوا کہ میں سمجھ گیا، تم تھوتھلے بھی ہو ، اب تمہیں بیس درہم ادا کرنا ہوں گے! بھکاری نے اٹھ کر شاہی کارندے کی گرفت سے بچنا چاہا لیکن وہ فالج کا شکار ہونے کی وجہ سے اٹھ نہ سکا۔ اب شاہی کارندے  کو احساس ہوا کہ وہ مفلوج بھی ہے، اس نے چیخ کر کہا : مَجُنْب كه گنجى![2]

 


[1] ۔ آمارها پرده بر مى ‏دارند:۲۴۹.

[2] ۔(یعنی تم تو ایک خزانہ ہو)  دوازده هزار مَثَل فارسى:۸۷۲.

بازدید : 36